गुरुवार, 31 अक्टूबर 2019

سیلفی

نمازوں کی سیلفی تلاوت کی سیلفی
کہ عمرہ و حج کی، سعادت کی سیلفی
صبح شام سیلفی، ہے دن رات سیلفی
ضروری ہے، ہر ایک حالت کی سیلفی
امانت خیانت خباثت کی سیلفی
شرافت ذلالت عداوت کی سیلفی
بنا سیلفی کے عبادات کیسی
پرستش اطاعت عبادت کی سیلفی
کسی کو اگر دے رہے ہیں دو کیلے
تو لیتے ہیں اپنی سخاوت کی سیلفی
عیادت کو جائیں عزیزوں کی اپنے
تو کھینچیں گے فوراُ عیادت کی سیلفی
ملاقات پیروں سے ہو جائے اپنے
ضروری ہے ایسی سعادت کی سیلفی
کبھی اپنے نیتا کے ہمراہ بھی لیں
محبت اخوت حمایت کی سیلفی
پلوں راستوں اور سڑکوں کی سیلفی
مکانوں دکانوں عمارت کی سیلفی
جو ہو جائیں بھرتی کسی ہوسپٹل میں
تو بھیجیں گے سب کو علالت کی سیلفی
سب اعمال تیرے اکارت کرے ہے
نئے دور کی ایک آفت ہے سیلفی
بنا سیلفی کے کہاں زندگی ہے
کہ اکمل سبھی کی یہ عادت ہے سیلفی

मंगलवार, 29 अक्टूबर 2019

سیلفی کا انٹرویو

سیلفی ـ آداب جناب
اکمل ـ آداب محترمہ
اکمل ـ آپ کے مزاج کیسے ہیں  ؟
سیلفی ـ ہمارے مزاج تو بہتر ہیں مگر ہماری وجہ سے آپ لوگوں کے حالات ذرا خراب سے ہیں   ؟   مسکرا کر
اکمل ـ بات تو درست ہے ـ یہ آپ ہی کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے ـ
سیلفی ـ بجا فرمایا
اکمل ـ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ آپ کی جائے پیدائش اور سن پیدائش کیا ہے ـ
سیلفی ـ محترم میری جائے پیدائش کے ابتدائی نقوش تو جاپان میں ملتے ہیں ـ 1990 میں ڈجٹل کیمرے کی ایجاد کے بعد جاپان کے کوائی کلچر نے اسے فروغ دیا ـ اس کلچر کے تحت ابتدا  میں جاپان کی اسکول میں پڑھنے والی لڑکیاں اپنی سیلفی لیا کرتی تھیں اور یہ عمل بہت مقبول بھی ہو گیا تھا یہی وجہ تھی کہ کوڈک کمپنی نے اپنے کیمرے میں آگے کی جانب یعنی فرنٹ کیمرا بھی پیش کیا تھاـ ایک کمپنی نے اس دور میں سیلفی اسٹک بھی بازار میں پیش کی تھی جسے ایک واہیات پروڈکٹ بتا کر عوام نے مسترد کر دیا تھا ـ اور وہی سیلفی اسٹک آج آپ ہر نوجوان کے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں ـ دور جدید میں موبائل کی ایجاد اور موبائل میں کیمرے کی موجودگی نے مجھے نئی زندگی دی ہے اور مجھے  جلا بخشی ہے ـ
اکمل ـ یعنی پہلی سیلفی جاپان میں لی گئی  ؟
سیلفی ـ نہیں، پہلی سیلفی، ایک امریکی فوٹوگرافر رابرٹ کارنیلئس نے 1839 میں بڑی مشقت سے لی تھی ـ
اکمل ـ  یہ لفظ سیلفی کے معنی کیا ہیں ـ
سیلفی ـ لفظ سیلفی کے معنی ہیں کسی شخص کی اپنی ایسی تصویر جو اس نے خود اتاری ہو ـ اسے خود پیکر بھی کہا جا سکتا ہے ـ
اکمل ـ موجودہ دور میں آپ کی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ کیا ہے ؟
سیلفی ـ دیکھئے خودنمائی کا شوق اور جستجو حضرت آدم کا جینیاتی خاصہ رہا ہے لیکن دور جدید میں ایسے کیمروں کی آمد کہ جن سے خود اپنی تصویر اتارنا ممکن اور آسان ہو گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ ہے ـ دور جدید میں موبائل کیمروں نے سیلفی کو ہر عام و خاص کے لئے نہایت سہل اور ڈجٹل ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول کر دیا ہے ـ
اکمل ـ ڈجٹل کیمرہ ہونے سے کیا فرق آیا ہے ؟
سیلفی ـ قدیم کیمرے میں فلم رول ہوتا تھا لہٰذا تصویر اتارنے کے بعد آپ کو اسے لیب میں ڈیولپ کرانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے آپ محدود تعداد میں تصاویر اتار پاتے تھے، انہیں فوراَ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے اور قیمت کے اعتبار سے بھی تصاویر مہنگی ہوتی تھیں ـ ڈجٹل کیمرے نے یہ سب معاملات ہی الٹ دئے ہیں ـ اب آپ لاتعداد تصاویر مفت میں اتار سکتے ہیں، فوراَ دیکھ سکتے ہیں، ان میں ترمیم کر سکتے ہیں، اور انہیں ڈلیٹ بھی کر سکتے ہیں ـ
اکمل ـ آپ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ دور جدید میں انٹرنیٹ کی سہولت اور سوشل میڈیا کی مقبولیت بھی ہے ؟
سیلفی ـ بے شک ـ درست کہا آپ نے ـ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے سیلفی کی جانب رغبت میں بے حد اضافہ کیا ہے ـ ہر شخص پل پل کی تصاویر خصوصاَ سیلفی کو سوشل میڈیا پر  اپ لوڈ کرنا چاہتا ہے اور کر رہا ہے ـ فیس بک وغیرہ پر لائکس حاصل کرنے کا جنون اس عمل کے پیچھے خصوصی طور پر کارفرما ہے ـ
اکمل ـ یہ لائکس کا کیا معاملہ ہے ؟
سیلفی ـ دیکھئے یہ ایک نفسیاتی عمل ہے ـ اپنی تعریف سننا انسانی مزاج کا حصہ ہے ـ ہر شخص اپنی تعریف سننا چاہتا ہےـ اس کے ذریعہ انسان کو زندگی میں مزید کام کرنے کی ترغیب و تحریک حاصل ہوتی ہے ـ تعریف چاہے وہ تقریری ہوں یا تحریری یا دیگر کسی ذریعہ سے حاصل شدہ، سبھی کا انسانی ذہن و دل پر بڑا مثبت اثر ہوتا ہے ـ آپ کسی شخص کی، اس کے کسی کام کے لئے  تعریف کیجئے آپ دیکھیں گے کہ وہ اس کام کو دگنے جوش کے ساتھ دوبارہ انجام دینے کی کوشش کرے گاـ یہی فیس بک لائک کے پیچھے کی کہانی بھی ہے ـ آپ کی ایک تصویر پسند کی جاتی ہے تو آپ دوسری تصویر اس امید کے ساتھ شیئر کرتے ہیں کہ یہ بھی مساوی طور پر یا اس سے زیادہ لائک/پسند کی جائے گی ـ
اکمل ـ سائنسی تحقیق اس بارے میں کیا کہتی ہے  ؟
سیلفی ـ سائنس کے مطابق جب کسی شخص کی تعریف کی جاتی ہے تو اس شخص کے دماغ میں ڈوپامائن نام کا ایک کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے جو اس شخص کو ایک قسم کی مسرت اور فرحت کا احساس کرواتا ہےـ اسی مسرت و فرحت کے حصول کے لئے انسان بار بار اس عمل کو دوہراتا ہے جس سے اسے تعریف یا لائکس حاصل ہوتے ہیں ـ
اکمل ـ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان سیلفی ہی نہیں دیگر بہت سے کام بھی داد و تحسین کے حصول کے لئے کرتا ہے ؟
سیلفی ـ بے شک  ! انسان داد و تحسین کے حصول کے لئے بہت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس سے اسے مسرت حاصل ہوتی ہے ـ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں تمام کام فرحت و مسرت کے حصول کے لئے ہی کرتا ہے ـ چاہے وہ کھانا کھانا ہو، شادی کرنا ہو، کتابیں پڑھنا یا سنیما دیکھنا ہو، کسی فنون لطیفہ میں طبع آزمائی کرنا ہو یا زہد تقوے کو ہی کیوں نہ اختیار کرنا ہو ـ سبھی کی اصل فرحت و مسرت ہی ہے ـ
اکمل ـ موجودہ دور میں آپ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن اس کے بہت سے منفی اثرات بھی نظر آ رہے ہیں  ؟
سیلفی.ـ بجا فرمایا آپ نے ـ دراصل یہ بھی انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ ہر نئی آنے والی چیز کی پہلے مخالفت کرتا ہے پھر اسی کو اتنی شدت سے اپناتا ہے کہ عروج پر پہنچا دیتا ہے ـ سیلفی بھی ان میں سے ایک ہے ـ ابھی انسانوں نے مجھے بڑی شدت سے اپنایا ہوا ہے اور میری دیوانگی ان پر تاری ہے ـ ابھی میں ان کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہوں اور ان کے لئے باعث مسرت و شہرت بنی ہوئی ہوں ـ رہی بات منفی اثرات کی تو جب بھی کسی کام میں شدت اختیار کی جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات بھی ظاہر ہونا لازمی ہوتے ہیں ـ یہی بات میرے ساتھ بھی ہے ـ
اکمل ـ آپ نے ابھی شدت کا ذکر کیا تھا ـ سیلفی کے ساتھ کس طرح کی شدت اختیار کی گئی ہے؟
سیلفی ـ دیکھئے کس طرح سے نوجوان، سیلفی کے لئے خطرناک مقامات پر جا رہے ہیں اور جان گنوا رہے ہیں ـ اونچی بلڈنگوں، فصیلوں، چلتی ہوئی بسوں، ٹرینوں پر چڑھ کر سیلفی لیتے ہیں اور مختلف قسم کے پرخطر کرتبوں کو کرتے ہوئے سیلفی لیتے ہیں اور جان گنواں بیٹھتے ہیں ـ اس طرح کی متعدد خبریں اخبارات میں اور ٹیوی وغیرہ پر آئے دن آتی رہتی ہیں ـ
اکمل ـ لیکن سیلفی کی دیوانگی نے انسان کے جذبہ احساس اور جذبہ ایثار کو بھی متاثر کیا ہے ـ اس کو آپ کس طرح سے دیکھتی ہیں ـ
سیلفی ـ نہیں میں ایسا نہیں مانتی ہوں ـ
اکمل ـ کیوں  ؟  کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آجکل، کس طرح ہنگامی حالات میں لوگ،  مشکل سے دوچار ہونے والے حضرات کی امداد کرنے کے بجائے سیلفی لینے میں مشغول ہو جاتے ہیں ـ
سیلفی ـ درست ہے ـ لیکن دراصل اس میں میرا کیا قصور ہے ؟  یہ تو ان کی فطرت کا مظاہرہ ہے جو وہ کر رہے ہیں ـ بلکہ آپ کو تو میرا (سیلفی کا) شکرگزار ہونا چاہئے کہ میں انسانوں کی مخفی فطرت کو ظاہر کر دیتی ہوں ـ میری وجہ سے انسانوں کے جذبہ ایثار میں کمی نہیں آئی ہے بلکہ میری وجہ سے انسانوں کا اصل کردار منظر عام پر آ گیا ہے ـ
اکمل ـ لیکن یہ افسوسناک معاملہ ہےـ اب تو لوگ میت کے ساتھ بھی سیلفی لینے سے نہیں ہچکچاتے ہیں!
فکر آخرت کے لئے کرتا ہوں، ٹیگ سبھی دوست
جنازہ جب بھی کوئی اٹھاؤں، سیلفی لیتا ہوں

سیلفی ـ جی بالکل  !  آپ دیکھئے کہ خودنمائی کا مادہ انسانوں میں کس حد تک کارفرما ہے ـ(مسکراکر)
اکمل ـ کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگ آجکل اپنی شکلوں کو پی بھی رہے ہیں  ؟
سیلفی ـ میں کچھ سمجھی نہیں !
اکمل ـ کچھ ایشیائی ممالک میں ایسے کافی شاپس ہیں جہاں آپ کو کافی کے اوپر آپ کی سیلفی بنا کر پیش کی جاتی ہے ـ
سیلفی ـ کیا یہ کافی پینے لائق ہوتی ہے  ؟
اکمل ـ جی بالکل نارمل کافی کی طرح اسے پیا جاتا ہے ـ
سیلفی ـ تعجب خیز   !
اکمل ـ اب تو مذہبی کاموں کی بھی سیلفیاں لی جانے لگی ہیں  ؟
سیلفی ـ جی ہاں جناب،  لوگ حج کے لئے جب مکہ مدینہ پہنچتے ہیں تو ہر لمحہ کی سیلفی اتارنے کی کوشش کرتے ہیں گویا حج کرنے کے بجائے فوٹو شوٹ کے لئے آئے ہوئے ہیں ـ
سیلفی ـ یہ افسوسناک ہے ـ
اکمل ـ طبی ماہرین اس شدت کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
سیلفی ـ حال ہی میں برطانیہ میں ہوئی رسرچ کی بنیاد پر سیلفی لینے کو ایک بیماری تسلیم کر لیا گیا ہے ـ اس کی تین اقسام بیان کی گئیں ہیں جن میں پہلی قسم بارڈر لائن ہے اس کے تحت وہ لوگ آتے ہیں جو دن میں دو سیلفیاں لیتے ہیں، دو سے چھ تک سیلفی لینے والوں کو ایکیوٹ اور اس سے زائد سیلفی لینے والوں کو کرونک کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے ـ
اکمل ـ اس بیماری کا حل کیا ہے  ؟
سیلفی ـ یہ تو اب آپ لوگ ہی دریافت کریں گے کہ اس بیماری کا علاج کس طرح سے کیا جائے گاـ
اکمل ـ مستقبل کے بارے میں کچھ اندازہ  ؟
سیلفی ـ مجھے لگتا ہے ابھی اس شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے والی کیونکہ موبائلوں میں بڑھتی ہوئی کیمروں کی تعداد اور ان کی کوالٹی میں ہونے والا اضافہ، سوشل میڈیا کا بڑھتا خمار اور انٹرنیٹ کی تیز ہوتی رفتار، سیلفی کی خماری میں اضافہ ہی کریں گی ـ آپ مان کر چلیں کہ آنے والے دس بیس سال میرا خمار برقرار رہے گا ـ  ممکن ہے تب تک کوئی دوسرا جنون آپ انسانوں کے لئے تیار ہو جائےـ
اکمل ـ وقت نکالنے اور ہم سے بات کرنے کے لئے بہت شکریہ ـ کیا ہمارے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی  ؟
سیلفی ـ آپ نے مجھے مدعو کیا میں اس کے لئے آپ کی شکرگزار ہوں ـ میرا پیغام یہی ہے کہ مجھے آپ لوگوں کا ساتھ اچھا لگتا ہے لیکن حد سے تجاوز کرنا ٹھیک نہیں ہے ـ میری وجہ سے جب آپ کو چوٹ پہنچتی ہے یا کسی جان پر بن آتی ہے تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے ـ آپ سیلفی لیجئے لیکن محتاط رہئے اور اسے لت مت بنائیے ـ نیک خواہشات اور تمنائوں کے ساتھ آپ کی پیاری سیلفی
اکمل نعیم صدیقی



गुरुवार, 17 अक्टूबर 2019

थैंक यू ! अंकल


थैंक यू ! अंकल
            रावण दहन में अभी काफी वक्त बाक़ी था । दशहरा मैदान में दाख़िल होने के लिए एक बहुत लम्बी लाईन थी । दशहरा मैदान का गेट वैसे तो बहुत बड़ा था मगर एहतियात के लिए बल्लियां लगाकर इतना छोटा कर दिया गया था की एक वक़्त में एक ही व्यक्ति अंदर जा सकता था । इसके साथ ही गेट पर एक चौकीदार भी तैनात था जो लाईन में लगे लोगों में से जिस का नंबर आ जाता था उससे टिकट लेता था और टिकट को थोड़ा सा फाड़कर वापिस लौटा देता और उस टिकटधारी आदमी को अंदर जाने की इजाज़त दे देता ।
            विजय सिंह भी अपनी १० साल की बच्ची के साथ लाईन में लगे हुए थे । वो हर साल अपनी लाडली बेटी को रावण दहन दिखाने के लिए लाया करते थे । आज भी वो इसीलिए आये थे मगर आज एक बात अलग थी । हमेशा वो अपनी बिटिया के साथ मैदान के बाहर से ही भीड़ में खड़े होकर रावण दहन देखा करते थे परन्तु आज वो मैदान के अन्दर जाकर क़रीब से इस नज़ारे को अपनी बेटी को दिखाना चाहते थे । ऐसा बिलकुल नहीं था कि उनको इस बार रावण में या रावण दहन में कोई ख़ास दिलचस्पी पैदा हो गई थी । बल्कि ऐसा इसलिए था कि पिछली बार उनकी बेटी ने बड़ी मासूमियत के साथ उनसे ये आग्रह किया था कि पापा अगली बार मुझे मैदान के अंदर से रावण को जलते हुए देखना है क्योंकि बाहर से मुझे मज़ा नहीं आता है । और यहां से पूरा रावण भी नजर नहीं आता है । अंदर से बैठ कर देखने का मज़ा अलग ही होता है ।
            विजय सिंह ने बिटिया के आग्रह को सुनकर तुरंत वादा कर लिया कि अगली बार वो उसे मैदान के अंदर से, कुर्सी पर बैठाकर और नज़दीक से रावण दहन दिखाएंगे । यही वजह थी की वो अपनी बिटिया के साथ आज दो घंटे से इस लम्बी लाईन में खडे थे । ये लाईन दरअसल उन लोगों के लिए थी जिनके पास "एंट्री पास" था । विजय सिंह इस शहर में नये थे और बहुत ज़्यादा लोगों को नहीं जानते थे  इसलिए वो एंट्री पास का इंतेज़ाम नहीं कर सकते थे लिहाज़ा वो बिना एंट्री पास के ही भगवान का नाम लेकर बिटिया के साथ लाइन में लग गये थे ।
            दो घंटे की मशक्क़त के बाद उसका नंबर आया । जैसे ही वो गेट पर पहुंचे टिकट चैक करने वाले व्यक्ति ने कहा टिकट  निकालो टिकट ।
विजयसिंह ने बड़ी सादगी से कहा "सर हमारे पास टिकट नहीं है ।"
टिकट चैक करने वाले ने बड़ी बेरुख़ी से कहा "तो आगे से हट जाइए, पीछे वालों को आने दीजिये "
विजयसिंह ने मासूमियत से कहा "सर हमारी बात तो सुनिए....सर ..........
मगर उनकी बात मुकम्मल होने से पहले ही टिकट चैक करने वाले ने झुंझला कर उनका बाज़ू पकड़ कर उन्हें लाईन से निकालकर साइड में कर दिया ।
बिटिया ने सहम कर पापा का हाथ पकड़ लिया ।
विजयसिंह ने बेटी के चेहरे पर डर और निराशा के भाव देखे तो मन भर आया । मगर थे बहुत हिम्मती । टिकट चैकर के करीब जाकर खड़े हो गए और मौक़ा देखकर उससे कहने लगे "भाई मैं कोई बच्चा नहीं हूँ और मुझे रावण और उसके दहन में भी कोई दिलचस्पी नहीं है । मेरी बात समझो, मैं तो सिर्फ इस बिटिया के लिए यहाँ आया हूँ । ये रावण दहन क़रीब से देखना चाहती है ।"
टिकट चैक करने वाले व्यक्ति ने एक सरसरी नज़र विजयसिंह पर डाली और फिर भीड़ के साथ उलझ गया ।
"टिकट दिखाइये, टिकट" और टिकट लेकर फाड़ने और लोगों को अन्दर भेजने में व्यस्त हो गया ।
विजयसिंह बिटिया के साथ वहीं खड़े रहे और लोगों को अन्दर जाता हुआ देखने लगे ।
थोड़ी देर बाद टिकट चैकर के करीब पहुंचे और उसके कन्धों पर हाथ रखकर धीरे से कहने लगे "अरे यार ! तुम्हारा क्या जाएगा, हमें भी जाने दो यार"
"ये देखो ये हमारी बिटिया है ये अन्दर जाना चाहती है, करीब से देखना चाहती है । देखने दो तुम्हारा क्या नुकसान हो जाएगा ।"
टिकट चैकर ने चिरपरिचित अंदाज़ में एक व्यक्ति का टिकट फाड़ते हुए जवाब दिया "देखो सर ! बिना टिकट एंट्री नहीं है, टिकट ले आओ, मैं नहीं रोकूंगा लेकिन बग़ैर टिकट अन्दर नहीं जाने दूंगा ।" और फिर अपने काम में व्यस्त हो गया ।
विजयसिंह के चेहरे पर मायूसी के भाव झलकने लगे थे । बिटिया ने भीड़ की वजह से पिता का हाथ मज़बूती से थाम रखा था । उसकी कुछ समझ में  नहीं आ रहा था । उसने हिम्मत करके पापा से पूछ ही लिया "क्या हुआ पापा हम अन्दर कब जायेंगे ?"
"अभी चलेंगे बेटा" पापा ने धीरे से जवाब दिया ।
विजयसिंह ने एक बार फिर कोशिश की और टिकट चैकर से रिक्वेस्ट की कि उसे अन्दर जाने दे मगर उसका एक ही जवाब था "बग़ैर टिकट कोई अन्दर नहीं जाएगा । न ही मैं जाने दूँगा, ये मेरी ड्यूटी, आप टिकट ले आइये ।"
बिटिया ने देखा सब लोग अन्दर जा रहे हैं लेकिन मेरे पापा को अंकल अन्दर जाने नहीं दे रहे हैं । बहुत देर तक वहां खड़े रहने के कारण उसकी टांगों में दर्द भी शुरू हो गया था । अचानक उसने टिकट चैकर का हाथ पकड़ा और बड़ी मासूमियत से पूछा अंकल "आप सब को अन्दर जाने दे रहे हो मगर मेरे पापा को आपने रोक रखा है । अंकल मेरे पापा ने मुझसे वादा किया था कि इस बार वो मुझे अन्दर बैठाकर जलता हुआ रावण दिखाएँगे । अंकल अब हमें भी जाने दो न वरना रावण जलना शुरू हो जाएगा और हम देख नहीं पायेंगे, प्लीज अंकल ।"
टिकट चैक करने वाले ने मासूम सी बिटिया की तरफ देखा और कहने लगा "बेटा आपके पास टिकट नहीं है"
"तो क्या  हुआ अंकल, आप मेरे पापा को नहीं जानते, वो आपको बाद में टिकट लाकर दे देंगे ।"
"अभी तो हमें जाने दीजिये न प्लीज़" बिटिया ने बड़ी मासूमियत से कहा ।
टिकट चैकर ने मुस्कुराते हुए कहा "लेकिन बेटा बग़ैर टिकट तो कोई अन्दर नहीं जा सकता"
ये कहकर वो फिर अपने काम में व्यस्त हो गया ।
रावण दहन शुरू होने वाला था । बिटिया के चहरे पर मायूसी थी । वो लाचारी के साथ टिकट चैकर को देखा रही थी और खामोश खडी थी ।
थोड़ी देर के बाद टिकट चैकर की नज़र फिर विजयसिंह और उसकी बिटिया पर पड़ी जो अभी तक वहीं खड़े थे और उम्मीद भरी नज़रों से उसी की जानिब देखा रहे थे ।
टिकट चैकर ने बिटिया को इशारे से अपने क़रीब बुलाया । और फिर उसने अपनी जेब से दो टिकट निकालकर चुपके से उसकी मुटठी में थमा दिए और विजयसिंह से बोला "लाईन में आईये, लाईन में आईये "
विजयसिंह वहीं से लाईन में लगे और टिकट चैकर ने टिकट फाड़ कर उन्हें अन्दर प्रवेश दे दिया ।
बिटिया ने मुस्कुराते हुये अंकल की तरफ हाथ से बाय बाय का इशारा किया और तुतलाती ज़बान में कहा "थैंक्यू अंकल"
टिकट चैकर ने भी मुस्कुराते हुए जवाब दिया "यू आर वेलकम बेटा "
तीनों का चेहरा अजीब सी खुशी के अहसास से चमक रहा था 
      

نظم - کیمرہ
ستون مسجد پہ یہ لکھا تھا
کہ دیکھتا ہے وہ رب تمہارا
ہریک پل تم جو کر رہے ہو
خبر ہے اس کو سنو خدارا
اسی طرح سے مگر مسلسل
چرا رہے تھے وہ چور اکمل
چھتوں کے پنکھے وضو کے سب نل
جمع کے دن پھر نمازیوں کے
وہ جوتے چپل
پھر اک سیانے نے لکھ دیا یہ
ستون مسجد کی اس جبیں پر
جناب اعلی دھیان رکھنا
نظر میں ہیں آپ کیمرے کی......
یہ ایک جملہ بڑا غضب تھا !!!!
نہ چور کوئی وہاں پہ اب تھا

بلا عنوان
راجیش زندگی کی الجھنوں سے ذہنی طور پر اتنا پریشان اور مایوس ہو چکا تھا کہ اس نے ایک بڑا ہی اہم فیصلہ کیا. خودکشی کا فیصلہ! ایسے فیصلے عموماّ وہی لوگ لیتے ہیں جن کی زندگی میں دوستوں کی کمی ہوتی ہے.بہرحال اسی مقصد کے ساتھ وہ اپنے گائوں کے قریب سے گزرنے والی ایک سنسان ریل لائن پر پہونچ گیا. گاڑی کا وقت ہو چلا تھا. وہ کسی بھی وقت آسکتی تھی.وہ پٹریوں پر اس طرح لیٹ گیا کہ ایک پٹری پر اس کی گردن تھی اور دوسری پٹری پر اس کی ٹانگیں.اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی زندگی کے ان تمام تر تلخ لمحات کو یاد کرنے لگا جنہوں نے اسے بہت ازیت دی تھی اور اس کے اس فیصلے کی بنیاد تھے. ایک فلم سی اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی.آدھا گھنٹہ اسے اسی حالت میں گزرا مگر ٹرین نہ آئی. یہ ہندوستانی ٹرینیں بھی نہ کبھی وقت پر نہہں آتیں. ماضی کی ساری تلخ یادیں ختم ہو چکی تھیں مگرٹرین کا کوئی پتہ نہ تھا. اس نے پریشان ہو کر آنکھیں کھولیں تو دیکھا دس پندرہ لوگوں کی بھیڑ اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی تھی اور بڑے تجسس سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی.
ہندوستان کے لوگ بڑے سمجھ دار ہوتے ہیں اس لئے کسی نے یہ بے تکا سوال نہیں پوچھا کہ بھائی یہاں کیوں لیٹے ہو ؟ ظاہر ہے یہ بات سبھی جانتے تھے کہ ارادہ خودکشی ہے.
راجیش گھبرا کر، اٹھ کر بیٹھ گیا.تبھی ایک نوجوان نے اپنا موبائل نکالا اور راجیش کا فوٹو کھینچ کر فوراّ فیس بک پر پوسٹ کیا اور لکھا" ایک شخص ٹرین کی پٹریوں پر خودکشی کے لئے بیٹھا ہے. فوراّ اس کی مدد کیجئے اس سے پہلے کے ٹرین آ جائے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے.آپ کو آپ کے خدا کی قسم اسے اتنا شیئر کیجئے کہ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے."" پوسٹ وائرل ہونے لگی. سینکڑوں لائک آنے لگے.
ایک لڑکا اور آگے آیا اور راجیش کے قریب پہونچا اور اشاروں میں اس سے، اپنے ساتھ سیلفی لینے کی گزارش کی.راجیش کی حیرت اور گھبراہٹ ابھی ختم نہ ہوئی تھی، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا یا جواب دیتا، نوجوان نے جواب کا انتظار کئے بنا اپنا چہرا راجیش کے قریب کیا اور ایک سیلفی کلک کر لی. اس کے بعد وہ الگ ہٹ گیا اور راجیش کو بھول کر اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا. اس نے وہاٹس اپ کھولا اور اس تصویر کو اس ٹیگ کے ساتھ مختلف گروپوں میں بھیجنے لگا "" خود کشی کرنے والے شخص کے ساتھ آخری سیلفی ـ اگر مر کر دوبارہ پیدا ہوئے تو اگلے جنم میں ملاقات ہوگی."" میسیج بہت پسند کیا گیاـ گروپ کے ہر شخص نے اسے دلچسپی اور حیرت سے پڑھا اور پھر لائک کی خواہش میں آگے فارورڈ کر دیا. گروپ میً کچھ دانشور حضرات بھی تھے جنہیں ملک میں بڑھتی خود کشی کے واقعات پر بڑی تشویش اور فکر لاحق تھی چنانچہ انہوں نے اس پر بڑی سخت بحث شروع کر دی. سینکڑوں لوگ اس بحث کا حصہ بن گئے اور اپنے خیالات کا اظہار تابڑ توڑ اور بے دریغ انداز سے پیش کرنے لگے. سیلفی پوسٹ کرنے والا اس بہران کو دیکھ کر بڑا خوش تھا مانو اس نے ملک بھر میں ایک نئی تحریک کو جنم دیا ہو.
ہجوم میں کچھ بوڑھے لوگ بھی شامل ہو گئے جو بھیڑ دیکھ کر اس جانب آ گئے تھے جب انہوں نے سارا ماجرا دیکھا اور سمجھا تو اپنے اپنے حقے اور چلم سنبھال کر ایک جانب بیٹھ گئے اور خود کشی کے موقف پر تبصرہ کرنے لگے. بڑے دنوں بعد ان کے ہاتھ کوئی ایسا موضوع آیا تھا جس کے ذریعہ وہ وقت گزاری کر سکتے تھے.
راجیش کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ تو بس نظریں جھکائے بیٹھا تھا. اس کی کیفیت بڑی عجیب ہو گئی تھی اسے لگا وہ اکیلا نہیں ہے دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کی پرواہ کرتے ہیں.تبھی بھیڑ میں سے کسی نے زور سے اعلان کیا " ارے ہٹو، ٹرین آ رہی ہے" یہ آواز سنتے ہی ہجوم میں بھگدڑ سی مچ گئی اور ساری بھیڑ پٹریوں سے پیچھے کی طرف دوڑ پڑی. راجیش پھر پٹریوں پر تنہا تھا.
اکمل نعیم

शनिवार, 15 जून 2019

बाप

बाप
चाहता वो भी है दिलो जाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

काम लेता है बस निगाहों से
दूर रखता है सब गुनाहों से
ख़ूब रखता है वो ख़बर सबकी
दूर करता नहीं पनाहों से
वो नहीं है तो घर हैं, वीरां से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

लब को जुंबिश से रोक देता है
बस वो नज़रों से चूम लेता है
ना वो ऐलान प्यार का करता
ना ज़बां से ही कुछ वो कहता है
चाहता है अगरचे वो जां से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

अपने ख़ूं का बना के वो दाना
रोज़ लाता हलाल है खाना
रोज़ करता जिहादे अकबर है
रोज़ लड़ता है जंग दीवाना
क्या कशाकश है कुफ्र ओ ईमाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

खूब करता है फिकरे मुस्तक़बिल
चाहता है कि हम बनें क़ाबिल
ख़ुद उठाता है सौ तरह के ग़म
ताकि हमको हो हर ख़ुशी हासिल
हम ही समझे नहीं थे नादाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

साथ है ज़िन्दगी की राहों में
हम उसी की हैं बस पनाहों में
प्यार उसका नहीं दिखावे का
हाँ वो लेता नहीं है बाहों में
हम को निस्बत उसी के दामां से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

ईद का दिन करीब आता है
सबके कपड़े खरीद लाता है
ख़ुद पुराना पहन के इक कुर्ता
देखकर हमाको मुस्कुराता है 
हमको पाले बड़े ही अरमां से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

ला के देता है वो खिलोने भी
कुछ है महंगे तो औने पाने भी 
एक आंसू भी देख ना पाए
हमको देता नहीं है रोने भी
खुश वो रखे किसी भी दरमाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

ज़िद जो करते थे हम खिलोने की
साथ में फिर अदा वो रोने की
कौन सी ज़िद है जो अधूरी है
ज़िद मुकम्मल सभी उनहोंने की
सोचकर आज हम हैं नाज़ां से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

माँ के कदमों तले कि जन्नत है  
बाप की ज़ात बाब ऐ जन्नत है
उसकी मर्ज़ी में है रज़ा रब की
बाप है तो ख़ुदा की रहमत है
सब की खुशियों के बस वो ख्वाहाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से

या ख़ुदा उन पे तू रहम फरमा
ख़ास अपना तू ये करम फरमा
ख़ुल्द में इक मक़ाम आला तर
हक़ में उनके ख़ुदा रक़म फरमा
उनके आमाल सब हों ताबाँ से
बाप का प्यार कम नहीं माँ से



शनिवार, 1 जून 2019

نظم

وہ موضوع قرآن انساں کہاں ہے
وہ مطلوب رحمٰن انساں کہاں ہے
کہ ظاہر و باطن درخشاں ہو جس کے
گناہوں سے انجان انساں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے

یہ جب بولتا ہے تو بس جھوٹ بولے
اگر تولتا ہے تو کم کیوں یہ تولے
کہے قول سچا نہ وعدہ نبھائے
یہ بس دوسروں کے عُیوب ٹٹولے
نبی لائے تھے جو وہ ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے

یہ بے دین بھی ہے یہ بے عدل بھی ہے
ہے لا علم بھی یہ، یہ بے عقل بھی ہے
یہودو نصاری کا معقد ہے ایسا
کہ ان کی مشابہ یہ بے شکل بھی ہے
انہیں کی شریعت کا فرماں رواں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


مقدس سمجھ کر تلاوت ہے کرتا
ادب اس کا وہ پھر نہایت ہے کرتا
سمجھ کر مگر اس کو پڑھتا نہیں ہے
اور اس بات کی وہ ہمایت ہے کرتا
جو اخلاق بدلے وہ قرآں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


امانت کا اب پاس اس کو نہیں ہے
یتیموں کا احساس اس کو نہیں ہے
گناہوں کی لزت سے قالب مقفّل
کہ نیکی کی کچھ پیاس اس کو نہیں ہے
تعجب ہے اس پر بھی حِرماں (ناامید) کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


طلب خلد کی راس اس کو نہیں ہے
جہنم کا ڈر خاص اس کو نہیں ہے
تصور ہے کم تاب یوم الجزا کا
کہ محشر کا احساس اس کو نہیں ہے
وہ روز قیامت کا ساماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


نمازوں سے اس کے شب و روز خالی
حدیثیں سناتا ہے گڑھ گڑھ کے جعلی
ہے ایمان پیروں فقیروں پہ رکھتا
ہیں قصے کہانی سبھی کچھ خیالی
تھا خالص خدا پر جو ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


وہ گالی، یہ دے ہے کہ شرم آئے سن کر
جو لڑنے پہ آئے تو بن جائے کنجر
جہاد اور قتال اس کے بس میں نہیں ہے
مگر دوستوں پر نکالے ہے خنجر
شہادت کا کوئی بھی ارماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے


ہے دیوبندیت اور رضاخوانیت ہے
وہابی بھی ہے اور تبلیغیت ہے
ہے سنی، شیعہ اور بوہرا یہاں ہے
مباحث کا مدعا یہ تقلیدیت ہے
وہ الدین یسرا، مہرباں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے

غزل

بھوک اور پیاس کی شدت کو گوارا کرنا
اس کی رحمت کے بنا کب تھا گزارا کرنا
دل کی تسکین کا سامان ہوا کرتا تھا
ہر گھڑی نام تیرا لے کے پکارا کرنا
مشغلے یہ بھی جوانی کے ہوا کرتے تھے
روز دل اپنا کسی یار پہ ہارا کرنا
دل کے جذبات میں محشر سا مچائے ہوئے ہے
وقت رخصت وہ مجھے، اُس کا اشارہ کرنا
ایک چہرے میں ہی دنیا کا سمٹ جانا ہے
اس کی تصویر کو ہر لمحہ نہارا  کرنا
جن درختوں کے تلے زیست نے انگڑائی لی
کیسے ممکن ہے بھلا ان سے کنارہ کرنا
آرزو جس کی ہریک دل کو ہوا کرتی ہے
یہ بھی کیا کم ہے اسی گھر کا نظارہ کرنا
مشغلہ یہ بھی عجب لطف صنم دیتا ہے
دل کے زخموں کو ہرا پھر سے دوبارہ کرنا
ان کی رسوائی کا باعث نہ بنے پھر اکمل
اپنی ہر بات میں یوں ذکر ہمارا کرنا

सोमवार, 13 मई 2019

ग़ज़ल

अब तो मर्दों में भी ये आदत है
गीबतों में अजब लताफ़त है
सांस लेना भी हम्द है उसकी
दिल धड़कना भी इक इबादत है
धूप बर्दाश्त कर रहा हूँ तुझे
क्योंकि तू ज़ीस्त की अलामत है
काश तुम भी समझ गए होते
ज़िन्दगी मौत की क़यादत है
बढ़ती जाती है मौत की शिद्दत
हुस्न में भी बहुत तमाज़त है
आप गिरगिट नहीं हैं इंसा हैं
रंग बदलना तो उनकी आदत है
कब तलक झूठ से बचूँ अकमल
झूठ इस दौर की सदाक़त है
अकमल

गुरुवार, 9 मई 2019

چہرے
یہ رنگ برنگے حسین چہرے
محبتوں کے امین چہرے
کسی کو کافر کئے ہوئے ہیں
کسی کا ایمان و دین چہرے
ہیں باعثِ حرکتِ جواں دل
جواں دلوں کے مکین چہرے
کھلے ہوئے کچھ گلوں کی مانند
خموش کچھ، کچھ متین چہرے
بہت سے چہرے ہیں احمقی سے
مگر ہیں کچھ کچھ ذہین چہرے
توے کی مانند کچھ ہیں چپٹے
بہت سے پتلے مہین چہرے
ضرورتوں کا ہے دور کیسا
بنے ہوئے ہیں مشین چہرے
تضاد کتنے ہیں ان میں اکمل
شریف چہرے کمین چہرے

रविवार, 5 मई 2019

غزل

چونکہ مال و متاع کا حامل ہوں
میں  بھی سب کی نظر میں قابل ہوں
اپنے پیروں کو سر پہ رکھے ہوئے
دوڑ میں زندگی کی شامل ہوں
حسن تعلیم دے ہمیں بھی کچھ
عشق کے معاملے میں جاہل ہوں
میں تو بس تھا تماش بینوں میں
دل یہ کہتا ہے میں بھی قاتل ہوں
ہیچ سمجھا مجھے زمانے نے
پھر بھی ماں کی نظر میں قابل ہوں
لوگ کہتے ہیں چاند لیکن میں
آسماں تیرے گال کا تل ہوں
اس سے زیادہ بھی بے شعوری کیا
مقصد زیست ہی سے غافل ہوں
بندگی تیری ہی کروں ہردم
جب تلک سانس کا میں حامل ہوں
ذات حق ایک بس وہی اکمل
 تم بھی باطل ہو میں بھی باطل ہوں

शुक्रवार, 3 मई 2019

آنسو

آنسو
بہنے دو انہیں 
ان آنکھوں سے
جو لفظ بہہ رہے ہیں
خاموشی بن کر
ان کی گونج بہت تیز ہے

بہنے دو انہیں
گرم لاوے کی طرح 
تمام تر تلخیاں لئے ہوئے
دل کے آئینے کو دھوکر
صاف و شفاف کر رہے ہیں

بہنے دو ساری شکایتیں
ساری تلخیاں
رنج و الم کی سب روایتیں

بارش کی طرح برس جانے دو 
کیونکہ
جب  یہ بارش تھم جائے گی
تو چمک اٹھے گی ہر شے
بالکل نئی بن کر، ایک دم صاف و شفاف ہو کر
پاک ہو کر
ہر کثافت و آلودگی سے
بہنے دو انہیں

ग़ज़ल

आ निगाहों से गुफ्तुगू कर लें
लफ्ज़ सारे सुने सुनाये हैं

आप कैसे हो ? ठीक हूँ साहब
सारे जुमले रटे रटाये हैं

किस लिए फिर संवर रहे हैं वो
वो जो अज़ख़ुद सजे सजाये हैं

जेवरों की तरह संभाले हैं
जितने ख़त वत लिखे लिखाए हैं

आसमां उसकी ओढ़नी में भी
चाँद तारे जड़े जड़ाये हैं

अहमरीं लब को देख शरमाये
फूल जितने खिले खिलाये हैं

आप क्या मुस्कुरा दिए अकमल
दिल में अरमान मुस्कुराए हैं

अकमल
01/05/2019

गुरुवार, 2 मई 2019

نظم باپ

باپ
چاہتا وہ بھی ہے دل و جاں سے         باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
کام لیتا ہے بس نگاہوں سے          دور رکھتا ہے سب گناہوں سے
خوب رکھتا ہے وہ خبر سب کی دور کرتا نہیں پناہوں سے
وہ نہیں ہے تو گھر ہیں ویراں سے    باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
لب کو جنبش سے روک دیتا ہے    بس وہ نظروں سے چوم لیتا ہے
نا وہ اعلان پیار کا کرتا                  نا زباں سے ہی کچھ وہ کہتا ہے
چاہتا ہے اگرچہ وہ جاں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
اپنے خوں کا بنا کے وہ دانہ روز لاتا حلال ہے کھانا
روز کرتا جہاد اکبر ہے             روز لڑتا ہے جنگ دیوانہ
کیا کشاکش ہے کفر و ایماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
خوب کرتا ہے فکرِ مستقبل چاہتا ہے کہ ہم بنیں قابل
خود اٹھاتا ہے سو طرح کے غم تاکہ ہم کو ہو ہر خوشی حاصل
ہم ہی سمجھے نہیں تھے ناداں سے        باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
ساتھ ہے زندگی کی راہوں میں ہم اسی کی ہیں بس پناہوں میں
پیار اس کا نہیں دکھاوے کا ہاں وہ لیتا نہیں ہے باہوں میں
ہم کو نسبت اسی کے داماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
عید کا دن قریب آتا ہے         سب کے کپڑے خرید لاتا ہے
خود پرانا پہن کے اک کرتا دیکھ کر ہم کو مسکراتا ہے
ہم کو پالے بڑے ہی ارماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
لا کے دیتا ہے وہ کھلونے بھی         کچھ ہیں مہنگے تو اونے پونے بھی
ایک آنسو بھی دیکھ نا پائے    ہم کو دیتا نہیں ہے رونے بھی
خوش وہ رکھے کسی بھی درماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
ضد جو کرتے تھے ہم کھلونے کی ساتھ میں پھر ادا وہ رونے کی
کون سی ضد ہے جو ادھوری ہے ضد مکمل سبھی انہوں نے کی
سوچ کر آج ہم ہیں نازاں سے   باپ کا پیار کم نہیں ماں سے

बुधवार, 1 मई 2019

ना:त


ना:त
बने याक़ूत हर ज़र्रा मुक़द्दस खाक हो जाए 
जहां क़दमों को वो रख दें, ज़मी वो पाक हो जाए 
इशारा वो अगर कर दें, मुबारक अपनी उंगली से 
दरख्शां चाँद का भी फिर गिरेबां चाक हो जाए 
वही हादी, वही रहबर, हैं ज़ामिन कामयाबी के 
पकड़ लो उन के दामन को अगर इदराक हो जाए 
जो अपना ले रविश उनकी सिराते मुस्तक़ीमी की 
ये मुमकिन हो नहीं सकता, कभी ग़मनाक हो जाए 
जो डरता है मुहम्मद से, जो उसके रब से डरता है 
फिर उसकी दोनों आलम में यक़ीनन धाक हो जाए 
ख़ुदारा मुझको तू उनकी वो काकुल ही बना देता 
जो आरिज़ चूम लेती है अगर बेबाक हो जाए 
वो किसरा हो या कैसर हो, वो नीलम हो या गोहर हो 
अगर निस्बत नहीं उनसे ख़सो खाशाक हो जाए 
मुक़द्द्स आयतें सारी ख़ुदा ने जो उतारी हैं 
दुआ रब से है अकमल की यही इम्लाक हो जाए
ग़ज़ल (1/5/19)
तुम्हारी आँखों के सारे मंज़र 
हैं चाँद, सहरा, नदी, समंदर

विसाल महशर, फिर हिज्र महशर
गुज़र गए हम पे दो दो महशर

तेरे ख़्यालों की खुशबुएं हैं 
गुलाब, ख़स, मुश्क और अंबर

है दिल की बहरूपिया कोई है 
कभी है मजनू कभी क़लंदर

ख़लिश, उदासी, मलाल और ग़म
हैं दामने इश्क़ तेरे अन्दर

मुझे है तुमसे बहुत मुहब्बत 
दिखा के वो कहा रहा था खंजर

न कोई बाक़ी रहा जहां में 
दिलेर, सरकश, क़वी, धुरंदर

मताए दुनिया तो बेवफा है 
की हाथ ख़ाली गया सिकंदर

बना लो कैसी भी मोटर अकमल 
हमीं निकालेंगे उसका पंचर

अकमल

शुक्रवार, 12 अप्रैल 2019

ग़ज़ल  
जो हो मुमकिन ज़माने में उसे इमकान कहते हैं
रहे ताउम्र ला-हासिल उसे अरमान कहते हैं
वतन को दिल में रखते हैं वतन को जान कहते हैं
मुहब्बत को वतन की हम सुनो ईमान कहते हैं
न हिन्दू को न मुस्लिम को न पंडित को न वाइज़ को
जो दिल में दर्द रखता है उसे इंसान कहते हैं
बड़ी मुश्किल जमाने को रविश उल्फ़त की लगती है
जो इसमें मुब्तला हैं वो उसे आसान कहते हैं
जो माल ओ ज़र ये छिन जाए, तो परवाह हम नहीं करते
किसी का टूट जाए दिल तो हम नुक्सान कहते हैं
बिला तफ़रीक ऐ मज़हब और मिल्लत लोग रहते हैं
उसी धरती को दुनिया में सब हिन्दुस्तान कहते हैं
फरिश्तों से वो बेहतर है कि जो इदराक रखता है  
मगर शैतां नहीं है जो, उसे इंसान कहते हैं
दिलों के रंग धोने का यही है कीमिया अकमल

जिसे फुर्क़ान कहते हैं, जिसे क़ुरआन कहते हैं  

रविवार, 3 फ़रवरी 2019

برقع کا انٹرویو

برقع کا انٹرویو
محتر م /محترمہ آداب ،
آداب
سوال  :  دراصل میں اس تذبذب میں ہوں کہ آپ کو محترم برقع خان کہہ کر مخاطب کروں یا محترمہ برقع بانو کہہ کر پکاروں  ؟
جواب  :  محترم جناب ، سب سے پہلے انٹرویو کے لئے مدعو کرنے کا بہت بہت شکریہ ۔ محترم اگر قواعد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو میرا جنس مذکر ہی ہے کیونکہ آپ نے خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ ـ’’ میں نے برقع پہن لیا ہے یا اوڑھ لیا ہے‘‘ یہ ـ لفظ ’’لیا ہے‘‘ بتاتا ہے کہ میں مذکر ہوں نہ کہ مونث ۔
(مسکرا کر)  لہٰذا آپ مجھے برقع خان کہہ سکتے ہیں بنسبت برقع بانو کے۔
سوال  :  یعنی یہ تو بڑی زبردست بات ہوئی خان صاحب کہ مونث خواتین کو مذکر حضرات کی نظر بد سے بچانے کے لئے مذکر برقعوں کو ہی ذمہ داری عطا کی گئی ہے  ؟
جواب  :  جی ہاں بات تو بڑی مزیدار ہے  !  (مسکراہٹ) 
سوال  :  خیر یہ بتائیں کہ آپ کا یہ خوب صورت سا نام کس نے رکھا  ؟  آپ کی تاریخ کیا ہے  ؟
جواب  :  جناب دراصل میری پیدائش اور نام کے بارے میں تو مجھے بھی زیادہ علم نہیں ہے البتہ میری جائے پیدائش جزیرہ عرب کو ہی مانا جا سکتا ہے کیونکہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے اور قدیم زمانے میں عرب کی عورتیں مختلف قسم کے کپڑے، چادر اور ملبوسات کا استعمال پردے کے طور پر کیا کرتی تھیں۔ لغوی اعتبار سے برقع اس جھلی کو بھی کہتے ہیں جس میں بچہ ماں کے رحم میں حفاظت کے ساتھ اپنی نشونما کی مناز ل کو طے کرتا ہے۔ جدید دور میں برقع اس لباس کو کہتے ہیں جسے خصوصاً مسلم عورتیں اپنے جسم کو چھپانے کے لئے زیب تن کرتی ہیں۔ 
سوال  :  تو یہ مانا جائے کہ پردے کا آغاز بھی جزیرہ عرب میں اسلام کے آغاز کے ساتھ ہوتا ہے  ؟
جواب  :  بالکل نہیں جناب ، جیسا میں نے پہلے عرض کیا کہ اسلام کی آمد سے قبل بھی عرب کی خواتین پردے کا اہتمام کیا کرتی تھیں۔ پردے کا آغاز دراصل انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو گیا تھا ۔ آپ نے آدم علیہ السلام کا قصہ نہیں سنا کہ کس طرح شیطان نے ممنوع پھل کھلا کر ماں حوا کے پردے کو چاک کیا تھا  جس کی وجہ سے خدا کا غضب نازل ہوا ۔ قدیم ترین تہذیبوں مثلاً اسیریا کی قدیم تہذیب (میسوپوٹامیا اور بیبی لونیا) میں بھی پردہ سماجی حیثیت کا علم بردار تھا حالانکہ اس دور میں صرف شاہی خاندان کی خواتین ہی پردہ کا اہتمام کر سکتی تھیں اور اپنے چہرے کو نقاب کے پیچھے چھپا کر رکھا کرتی تھیں۔ اسی طرح ہندوستان میں مختلف مذاہب میں بھی پردہ کو بڑی عظمت حاصل ہے ۔ عورتوں کا مردوں سے گھونگھٹ نکالنا ، سر وں کو دوپٹے یا چادر سے ڈھکنا ، عورتوں کا محفلوں میں الگ انتظام ہونا ، زنان خانے اور ڈھیوڑیوں کا نظام وغیرہ یہاں بڑی عام بات تھی۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ دراصل پردہ باحیا عورتوں کی فطرت میں ہمیشہ سے ہی شامل رہاہے پھر وہ چاہے کسی بھی خطہ ،ملک یا قوم سے تعلق کیوں نہ رکھتی ہوں۔  
سوال  :  کیا برقع کا رنگ کالا ہونا ضروری ہے  ؟
جواب  :  اس سوال کا جواب ہاں بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں برقع یا پردے کے مقصد کو جان لینا چاہئے۔ دراصل یہ برقع اس لئے پہنا جاتا ہے کہ راہ چلتے ہوئے کوئی بھی شخص اس لباس یعنی برقع کی وجہ سے آپ میں کوئی کشش نہ پائے اور اسے کوئی بھی ایسی مرغوب شے کے دیدار نہ ہوں جو اس کی جنسی خواہشات کو بیدار کرے۔ کالا رنگ دراصل ایک ایسا رنگ ہے جس میں کسی طرح کی کوئی کشش نہیں ہے اور پردے کے اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے عموماً کالے رنگ کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر اسی طرح کا کوئی دیگر رنگ بھی ہے تو اس رنگ کا برقع بھی بنایا جا سکتا ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بس پردے کا مقصد فوت نہیں ہونا چاہئے۔
سوال  :  برقع کا اصل کام کیا ہے   ؟  یعنی آپ کو زیب تن کرنے کا مقصد کیا ہے  ؟
جواب  :  محترم میرا اول ترین اور عین مقصد ہے کہ میں خواتین کی تمام تر زینت کو نامحرم اشخاص کی نگاہوں سے حفاظت بخشوں تاکہ دونوں فریقوں کو یعنی مرد اور عورت کو جنسی گناہ کے تمام تر امکانات سے دور کر دیا جائے۔ میں حقیقتاً امت مسلمہ کی حسین اور باحیا دوشیزائوں کے حسن ، ان کی زینت اور ان کی آرائش و زیبائش کی بد نگاہی سے حفاظت کرتا ہوں ۔ میں ان کی شرم و حیا کی ضمانت ہوں، دلیل ہوں۔ میرا کام یہ ہے کہ جب باحیا دختران ملت کسی سبب گھر کی دہلیز سے سے اپنے قدموں کو باہر نکالیں تو میں تمام تر بدنگاہوں کو رسوا اور مایوس کردوں ، میں ان تمام وجوہات کے درمیان دیوار بن کر حائل ہو جائوں جو کسی بھی شخص کو ان دختران ملت کی جانب کسی غلط نیت یا شہوانیت کی طرف رغبت دلائیں۔ 
سوال  :  لیکن جناب خواتین کی تمام تر سجاوٹ ، بنائو سنگار یعنی آرائش و زیبائش کامقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ مرد حضرات اسے دیکھیں اور اس کے حسن کی تعریف کریں۔
جواب  :  آپ نے بالکل درست فرمایا کہ عورت کی تمام تر آرائش و زیبائش کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ مرد اسے دیکھے اور اس کی تعریف کرے اور اس کی جانب راغب ہو کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن باحیا اور عزت دار عورتیں یہ عمل صرف اپنے شوہروں کی توجہ پانے کے لئے کرتی ہیں نہ کہ نامحرم اور انجان اشخاص کی توجہ حاصل کرنے یا انہیں رغبت دلانے کے لئے بلکہ ایسا عمل وہ خواتین اختیار کرتی ہیں جو بے حیا یا بازارو ہوا کرتی ہیں۔ 
سوال  :  توکیا عورتوں کو دو زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے   ؟
جواب  :  یقیناً ،بلکہ اللہ کا فرمان ہے ۔ سورہ نور آیت نمبر 26 میں اللہ تعلی کا اعلان ہے کہ بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لئے ہیں اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لئے ہیں اسی طرح نیک عورتیں نیک مردوں کے لئے ہیں اور نیک مرد نیک عورتوں کے لئے ہیں۔ 
سوال  :  نقاب، حجاب ، چادر، چادری اور برقع میں کیا فرق ہے  ؟
جواب  :  نقاب وہ کپڑا ہوتا ہے جس سے صرف چہرے کو ڈھکا جاتا ہے اور آنکھوں کو کھلا رہنے دیا جاتا ہے۔ حجاب وہ کپڑا ہے جس سے سر اور پیشانی کے کچھ حصے کو اس طرح ڈھکا جاتا ہے کہ سر کے تمام بال، کان اور نصف پیشانی کا پردہ ہو جائے۔ یوروپ کے ممالک میں اس کا رواج بہت زیادہ ہے اور اس کی مخالفت بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ مسلم خواتین کی شناخت بن چکا ہے ۔موجودہ دور میں ہندوستان میں دیگر مذاہب کو ماننے والی خواتین بھی اس طرح کے حجاب کا بہت زیادہ استعمال کر رہی ہیںجن میں خاص طور پر جوان لڑکیاں ہیں۔ چادر ، ایک سلے ہوئی یا بنا سلے ہوئے ایک لمبے اور موٹےکپڑے کو کہتے ہیں جسے خواتین اپنے چاروں طرف لپیٹ کر اپنے جسم کو مکمل طور پر چھپا لیتی ہیں اسی طرح چادری بھی ہوتی ہے جس کا چلن افغانستان میں بہت ہے اور اس میں چادر کے اوپر ایک ٹوپی لگی ہوتی ہے جسے سر پر رکھ لیا جاتا ہے ۔ اس ٹوپی میں لگی جالی سے خواتین باہر کا منظر دیکھ سکتی ہیں اور چادر سے ان کا مکمل جسم ڈھکا رہتا ہے۔ برقع ، ایشیا خصوصاً ہندوپاک میں بہت زیادہ مقبول ہے اور یہ مکمل طور پر سلا ہوا ایک چوغا یا لبادہ ہوتا ہے جس سے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا جاتا ہے اور چہرے کو چھپانے کے لئے نقاب لگالی جاتی ہے۔ 
سوال  :  یہ برقنی کیا ہے  ؟
جواب  :  سمندر کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے کنارے گھومنے یا پانی میں تیراکی کرنے کے  لئے ایک لباس پہنا جاتا ہے جسے بکنی کہتے ہیں اسی بکنی اور برقع کو ملا کر مسلم خواتین کے لئے برقنی کو ایجاد کیا گیا ہے اس برقنی میں عورت کے جسم کی نمائش نہیں ہوتی ہے اور وہ سمندر کے کنارے گھومنے یا پانی میں تیرنے کے لئے ان کا استعمال کر سکتی ہے۔
سوال  :  کیا اسلام میں کسی مخصوص قسم کے برقع کے پہننے کا حکم دیا گیا ہے   ؟  یعنی کیا آپ کی کوئی طے شدہ وضع قطع یا اسلامی ڈیزائن ہے  ؟
جواب  :  (مسکراتے ہوئے)  جناب اسلام جس کا نام ہے وہ دین برحق ہے ۔ اسلام کسی خاص قوم یا خاص خطہ کے لئے مخصوص نہیں ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہوا کرتا تھا کہ نبی کسی مخصوص علاقے یا قوم کے لئے مبعوث ہوا کرتے تھے بلکہ حضرت محمدـﷺ دین اسلام کے آخری پیغمبر ہیں اور یہ دین پوری دنیا کے لئے ہے نا کہ کسی مخصوص علاقہ، قوم یا ملک کے لئے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس میں بہت وسعت رکھی ہے۔اللہ نے عورتوں کو اپنی زینت کی حفاظت کا ھکم دیا ہے جیسا کہ سور ہ نورر کی آیت نمبر 4   میں مذکور ہے کہ ’’مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست رکھیں اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی حفاظت کریں اسے ظاہر نہ کریں ۔ سوائے اس زینت کے جو خود ظاہر ہو جائے ۔ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیں۔‘‘ 
مذکورہ بالا آیت میں اور احادیث نبوی میں کہیں بھی پردے کے اہتمام کے لئے کسی خاص قسم کے لباس یا برقع کا ذکر نہیں کیا گیاہے البتہ مقصد کو واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت اپنی زینت (جسم کے وہ حصہ جن کی دید سے مرد کے دل میں محبت اور شہوت کے جذبات کا غلبہ پیدا ہو)کی حفاظت کرے تاکہ معاشرے کا نظام درہم برہم نہ ہونے پائے اب اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اپنے علاقہ اور ماحول کی مناسبت اور سہولت کے لحاظ سے چادرکا استعمال کرے یا چادری کا یا پھر کسی قسم کے برقع کا یا مستقبل میں کسی نئے لباس کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔
سوال  :  لیکن اگر کوئی عورت ایسا برقع زیب تن کر کے بازاروں میں نکلے جو اس مقصد کو پورا نہ کرتا ہو تو  ؟
جواب  :  جب مقصد ہی پورا نہ ہوا یعنی مقصد ہی فوت ہو گیا تو پھر اس برقع کے ہونے یا نہ ہونے یعنی اس کے زیب تن کرنے یانہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ نے شہرکے بازاروں میں بے ترتیب ڈھنگ سے برقع لٹکائے ، سینا تانے اور میک اپ سے پتے ہوئے کھلے چہروںوالی ،دکان داروں سے ہنس ہنس کر بتیاتی ہوئی بہت سی خواتین دیکھی ہوں گی۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو یا تو برقع کے مقصد سے نا آشنا ہیں یا پھر کسی مجبوری کی بنا پر کسی ڈر یا دکھاوے کے لئے برقع لٹکائے پھرتی ہیں اور برقع کی حرمت کو تار تار کرتی ہیں۔
سوال  :  کیا دور جدید میںبرقعوں کی وضع قطع میں کوئی تبدیلی آئی ہے  ؟  دور جدید کے برقعوںکو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں  ؟
جواب  :  محترم میں دور جدید کے برقعوں پر کیا تبصرہ کروں 
’’میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا برقع ہو کر‘‘ والا معاملہ ہے ۔دور جدید کا برقع ، برقع نہیں ہے دھوکا ہے، چھلاوہ ہے ، فریب ہے۔ یہ برقعے اندر پہنے گئے لباس سے زیادہ خوبرو اوردل فریب ہیں۔ یہ مردوں کو توجہ دلانے والے، اپنی طرف راغب کرنے والےاور ان میں خواہش پیدا کرنے والے ہیں۔ یہ اللہ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کا اعلان کرتے ہیں ، یہ سنت نبوی کا مذاق بناتے ہیں،یہ پردے کے حکم کی دھجیاں اڑاتے ہیںاور اس کے مقصد کا مکمل طور پرخون کر دیتے ہیں بلکہ جس شہوانیت کو دبانے کے لئے ان کا اہتمام کیا جاتا ہے یہ اس شہوانیت کو مزید تقویت بخشتے ہیں اسے نئی زندگی اورنئی حرارت عطا کرتے ہیں۔  یہ برقعے نہیں ہیں یہ فیشن کے لباس ہیں۔ درحقیقت یہ شیطان ملعون کی ایک دلفریب چال ہے جس کے دام میں امت مسلمہ کی زیادہ تر خواتین پھنس چکی ہیں۔ امت کے مردوں کا فرض ہے کہ امت کی عورتوں کو بیدار کیا جائے اور انہیں اس بے حیائی سے روکا جائے ورنہ کل قیامت کے دن ہم سے جواب دیتے نہ بنے گا۔
سوال  :  آپ کے مطابق دور جدید کے برقعے اپنے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہیں ۔ اس کی وضاحت کیجئے  ؟
جواب  :  محترم جدید برقعوں پر ایک نگاہ ڈالئے آپ پائیں گے کہ جدید دور کے ان برقعوں میں خواتین اپنا میک اپ شدہ خوبرو چہرا کھلا رکھتی ہیں جو مسلسل گناہ کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتا ہے۔اگر چہرا حجاب یا نقاب سے ڈھک بھی لیا ہے تو حجاب یا نقاب اتنا شوخ اور خوبرو (موتیوں اور ستاروں سے سجا ہوا) ہوتا ہے اور اس کو لپیٹنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا ہے کہ جس شخص کی نگاہ اس پر ایک مرتبہ پڑ جائے وہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی ہے۔ اسی طرح آج کل برقعوں کے رنگ بڑے شوخ ہو گئے ہیں جن پر طرح طرح کے خوب صورت ڈیزائن راہگیروں کو اپنی طرف متوجہ ہونے کو مجبور کر دیتے ہیں۔ اور جدید دور کے برقعوں کے ڈیزائن دیکھئے اب یہ محض ایک جبہ یا لبادہ بھر نہیں ہے بلکہ یہ انارکلی لباس کی طرح بھی ملتا ہے ، یہ گھیر والی فروک کی طرح کابھی موجود ہے، کوٹ کی اسٹائل کا چاہئے تو حاضر ہے، چمگادڑ کے پروں کی طرح پھیلا ہوا بھی دستیاب ہے ، اور سب سے خطرناک یعنی ایک دم چست برقع بھی موجود ہے جس میں جسم کے تمام اعضا صاف نظر آتے ہیں اور جسم کی تمام تر زینت ابھر کر اس طرح نمودار ہو جاتی ہے کہ برقع کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
  سوال  :  کیا پردے کا حکم صرف عورتوں کے لئے ہی ہے مردوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے  ؟
جواب  :  محترم اللہ تبارک و تعلیٰ نے جہاں عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے وہیں مردوں کو بھی اس ضمن میں پابند کیا ہے ۔ مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو، مردوں کو بھی اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ جان بوجھ کر کسی خاتون کی جانب دیکھنے کو گناہ میں شامل کیا گیا ہے، تنہائی میں نامحرم عورتوں سے ملاقات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ، عورتوں سے ہاتھ ملانا، ان کے جسم کو چھونا ، انہیں بے وجہ دیکھنا یہ سبھی چیزیں مردوں کے لئے حرام کی گئی ہیں ۔
سوال  :  عورتوں کا اس طرح کے برقعے پہن کر باہر نکلنا یقیناً بڑا مہلک ہے لیکن کیا اس کے لئے بھی گھر کے افراد اور ان خواتین کے کفیل ذمہ دار نہیں ہیں  ؟
جواب  :  یقیناً برابر کے گناہ گار ہیں ۔ اکبر صاحب کا شعر شاید آپ نے نہیں سنا ۔ 
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
گھر کے مرد یعنی باپ، بھائی یا شوہر اگر چاہے تو اسفتنہ کو روکا جا سکتا ہے۔
سوال  :  آپ نے کہا کہ یہ شیطان کی خوب صورت چال ہے ۔ کیسے  ؟ 
جواب  :  دیکھئے محترم انسان نہایت ہی کمزور ہے اور اس سے کسی قسم کی خطا یا گناہ سرزد ہو جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن گناہ کا تصور اور اس کا احساس دل میں ہونا ضروری ہے ۔ گناہ ہو جانے پر مومن کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے اور وہ مغفرت کی طلب کے لئے خدا کے حضور اپنی التجا بھی پیش کرتا ہے  یہی احساس ایمان کی علامت ہے۔ لیکن گناہ کو گناہ نہ سمجھنا یا اس سے بھی بڑھ کر گناہ کو ثواب سمجھ کر کرنا ، یہ معاملہ بڑا خطرناک ہے کیونکہ انسان کے ذہن و دل میں یہ گمان ہی نہیں آتا کہوہ گناہ کر رہا ہے بلکہ وہ مطمئن ہوتا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا لہٰذا وہ نہ تو شرمندہ ہوتا ہے اور نہ خدا کے حضور مغفرت طلب کرتا ہے ۔ شیطان کی چال یہی ہے۔ شیطان انسانوں کو ان کے بداعمال بھی مزین کرکے یعنی اچھے بنا کر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان خام خیالی میں ہی مبتلا رہتا ہے کہ وہ کوئی نیک عمل کر رہا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے اور نامہ اعمال گناہوں سے بھر جاتا ہے دوسری جانب ایک ہی گناہ کو بار بار کرنے کی وجہ سے اللہ اس شخص کے قلب پر مہر بھی لگا دیتا ہے(ختم اللہ علی قلوبہم)۔ یہی معامل ہماری ماں ، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کا ہے کہ وہ اس طرح کے بے ہودہ برقعے پہن کر ثواب کی متمنی ہیں جبکہ وہ گناہ کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ ہمیں انہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال  :  امت کے مرد اور عورتوں کو کوئی پیغام  ؟
جواب  :  اس انٹرویو کو پڑھیں اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خدارا سمجھیں اس سے پہلے کہ خدا کا عذاب ہم پر نازل ہو۔
محترم یہاں تشریف لانے اور اپنا قیمتی وقت دینے کے لئے بہت بہت شکریہ
شکریہ جناب اکمل نعیم صاحب
خدا حافظ 
        

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...