بدنام مجھ کو کرنے دشمن یہ سب وطن کے
کچھ لوگ تیرتے ہیں گنگا میں لاش بن کے
سازش میں تھے جو شامل اور تھے خزاں کے حامی
اب منتظم ہوئے.ہیں وہ ہی میرے چمن کے
تم نے ہوا کی شہہ پر سب راکھ میں ملایا
تم سب چراغ تو تھے میری ہی انجمن کے
تشہیر کر رہے ہیں نفرت کی وہ جمن میں
کہتے تھے خود کو حامی اور داعی جو امن کے
پیار اور الفتوں کے گاتے تھے جو ترانے
جانے کہاں گئے وہ پنچھی میرے صحن کے
تو بھیج دے خدایا ابر بہار اب تو
گزریں گے دن یہ کیسے مولا بھری گھٹن کے
چارہ گروں سے کہہ دو آ جائیں اب خدارا
زخموں سے چور اکمل اعضاء ہیں سب بدن کے
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें