बुधवार, 2 जून 2021

غزل

 بدنام مجھ کو کرنے دشمن یہ سب وطن کے   

کچھ لوگ تیرتے ہیں گنگا میں لاش بن کے

سازش میں تھے جو شامل اور تھے خزاں کے حامی

اب منتظم ہوئے.ہیں وہ ہی میرے چمن کے

تم نے ہوا کی شہہ پر سب راکھ میں ملایا

تم سب چراغ تو تھے میری ہی انجمن کے

تشہیر کر رہے ہیں نفرت کی وہ جمن میں

کہتے تھے خود کو حامی اور داعی جو امن کے

پیار اور الفتوں کے گاتے تھے جو ترانے

جانے کہاں گئے وہ پنچھی میرے صحن کے

تو بھیج دے خدایا ابر بہار اب تو

گزریں گے دن یہ کیسے مولا بھری گھٹن کے

چارہ گروں سے کہہ دو آ جائیں اب خدارا

زخموں سے چور اکمل اعضاء ہیں سب بدن کے


कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...