शुक्रवार, 3 मई 2019

آنسو

آنسو
بہنے دو انہیں 
ان آنکھوں سے
جو لفظ بہہ رہے ہیں
خاموشی بن کر
ان کی گونج بہت تیز ہے

بہنے دو انہیں
گرم لاوے کی طرح 
تمام تر تلخیاں لئے ہوئے
دل کے آئینے کو دھوکر
صاف و شفاف کر رہے ہیں

بہنے دو ساری شکایتیں
ساری تلخیاں
رنج و الم کی سب روایتیں

بارش کی طرح برس جانے دو 
کیونکہ
جب  یہ بارش تھم جائے گی
تو چمک اٹھے گی ہر شے
بالکل نئی بن کر، ایک دم صاف و شفاف ہو کر
پاک ہو کر
ہر کثافت و آلودگی سے
بہنے دو انہیں

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...