آنسو
بہنے دو انہیں
ان آنکھوں سے
جو لفظ بہہ رہے ہیں
خاموشی بن کر
ان کی گونج بہت تیز ہے
بہنے دو انہیں
گرم لاوے کی طرح
تمام تر تلخیاں لئے ہوئے
دل کے آئینے کو دھوکر
صاف و شفاف کر رہے ہیں
بہنے دو ساری شکایتیں
ساری تلخیاں
رنج و الم کی سب روایتیں
بارش کی طرح برس جانے دو
کیونکہ
جب یہ بارش تھم جائے گی
تو چمک اٹھے گی ہر شے
بالکل نئی بن کر، ایک دم صاف و شفاف ہو کر
پاک ہو کر
ہر کثافت و آلودگی سے
بہنے دو انہیں
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें