باپ
چاہتا وہ بھی ہے دل و جاں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
چاہتا وہ بھی ہے دل و جاں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
کام لیتا ہے بس نگاہوں سے دور رکھتا ہے سب گناہوں سے
خوب رکھتا ہے وہ خبر سب کی دور کرتا نہیں پناہوں سے
وہ نہیں ہے تو گھر ہیں ویراں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
لب کو جنبش سے روک دیتا ہے بس وہ نظروں سے چوم لیتا ہے
نا وہ اعلان پیار کا کرتا نا زباں سے ہی کچھ وہ کہتا ہے
چاہتا ہے اگرچہ وہ جاں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
اپنے خوں کا بنا کے وہ دانہ روز لاتا حلال ہے کھانا
روز کرتا جہاد اکبر ہے روز لڑتا ہے جنگ دیوانہ
کیا کشاکش ہے کفر و ایماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
خوب کرتا ہے فکرِ مستقبل چاہتا ہے کہ ہم بنیں قابل
خود اٹھاتا ہے سو طرح کے غم تاکہ ہم کو ہو ہر خوشی حاصل
ہم ہی سمجھے نہیں تھے ناداں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
ساتھ ہے زندگی کی راہوں میں ہم اسی کی ہیں بس پناہوں میں
پیار اس کا نہیں دکھاوے کا ہاں وہ لیتا نہیں ہے باہوں میں
ہم کو نسبت اسی کے داماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
عید کا دن قریب آتا ہے سب کے کپڑے خرید لاتا ہے
خود پرانا پہن کے اک کرتا دیکھ کر ہم کو مسکراتا ہے
ہم کو پالے بڑے ہی ارماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
لا کے دیتا ہے وہ کھلونے بھی کچھ ہیں مہنگے تو اونے پونے بھی
ایک آنسو بھی دیکھ نا پائے ہم کو دیتا نہیں ہے رونے بھی
خوش وہ رکھے کسی بھی درماں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
ضد جو کرتے تھے ہم کھلونے کی ساتھ میں پھر ادا وہ رونے کی
کون سی ضد ہے جو ادھوری ہے ضد مکمل سبھی انہوں نے کی
سوچ کر آج ہم ہیں نازاں سے باپ کا پیار کم نہیں ماں سے
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें