शनिवार, 1 जून 2019

غزل

بھوک اور پیاس کی شدت کو گوارا کرنا
اس کی رحمت کے بنا کب تھا گزارا کرنا
دل کی تسکین کا سامان ہوا کرتا تھا
ہر گھڑی نام تیرا لے کے پکارا کرنا
مشغلے یہ بھی جوانی کے ہوا کرتے تھے
روز دل اپنا کسی یار پہ ہارا کرنا
دل کے جذبات میں محشر سا مچائے ہوئے ہے
وقت رخصت وہ مجھے، اُس کا اشارہ کرنا
ایک چہرے میں ہی دنیا کا سمٹ جانا ہے
اس کی تصویر کو ہر لمحہ نہارا  کرنا
جن درختوں کے تلے زیست نے انگڑائی لی
کیسے ممکن ہے بھلا ان سے کنارہ کرنا
آرزو جس کی ہریک دل کو ہوا کرتی ہے
یہ بھی کیا کم ہے اسی گھر کا نظارہ کرنا
مشغلہ یہ بھی عجب لطف صنم دیتا ہے
دل کے زخموں کو ہرا پھر سے دوبارہ کرنا
ان کی رسوائی کا باعث نہ بنے پھر اکمل
اپنی ہر بات میں یوں ذکر ہمارا کرنا

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...