بھوک اور پیاس کی شدت کو گوارا کرنا
اس کی رحمت کے بنا کب تھا گزارا کرنا
دل کی تسکین کا سامان ہوا کرتا تھا
ہر گھڑی نام تیرا لے کے پکارا کرنا
مشغلے یہ بھی جوانی کے ہوا کرتے تھے
روز دل اپنا کسی یار پہ ہارا کرنا
دل کے جذبات میں محشر سا مچائے ہوئے ہے
وقت رخصت وہ مجھے، اُس کا اشارہ کرنا
ایک چہرے میں ہی دنیا کا سمٹ جانا ہے
اس کی تصویر کو ہر لمحہ نہارا کرنا
جن درختوں کے تلے زیست نے انگڑائی لی
کیسے ممکن ہے بھلا ان سے کنارہ کرنا
آرزو جس کی ہریک دل کو ہوا کرتی ہے
یہ بھی کیا کم ہے اسی گھر کا نظارہ کرنا
مشغلہ یہ بھی عجب لطف صنم دیتا ہے
دل کے زخموں کو ہرا پھر سے دوبارہ کرنا
ان کی رسوائی کا باعث نہ بنے پھر اکمل
اپنی ہر بات میں یوں ذکر ہمارا کرنا
اس کی رحمت کے بنا کب تھا گزارا کرنا
دل کی تسکین کا سامان ہوا کرتا تھا
ہر گھڑی نام تیرا لے کے پکارا کرنا
مشغلے یہ بھی جوانی کے ہوا کرتے تھے
روز دل اپنا کسی یار پہ ہارا کرنا
دل کے جذبات میں محشر سا مچائے ہوئے ہے
وقت رخصت وہ مجھے، اُس کا اشارہ کرنا
ایک چہرے میں ہی دنیا کا سمٹ جانا ہے
اس کی تصویر کو ہر لمحہ نہارا کرنا
جن درختوں کے تلے زیست نے انگڑائی لی
کیسے ممکن ہے بھلا ان سے کنارہ کرنا
آرزو جس کی ہریک دل کو ہوا کرتی ہے
یہ بھی کیا کم ہے اسی گھر کا نظارہ کرنا
مشغلہ یہ بھی عجب لطف صنم دیتا ہے
دل کے زخموں کو ہرا پھر سے دوبارہ کرنا
ان کی رسوائی کا باعث نہ بنے پھر اکمل
اپنی ہر بات میں یوں ذکر ہمارا کرنا
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें