गुरुवार, 17 अक्टूबर 2019

نظم - کیمرہ
ستون مسجد پہ یہ لکھا تھا
کہ دیکھتا ہے وہ رب تمہارا
ہریک پل تم جو کر رہے ہو
خبر ہے اس کو سنو خدارا
اسی طرح سے مگر مسلسل
چرا رہے تھے وہ چور اکمل
چھتوں کے پنکھے وضو کے سب نل
جمع کے دن پھر نمازیوں کے
وہ جوتے چپل
پھر اک سیانے نے لکھ دیا یہ
ستون مسجد کی اس جبیں پر
جناب اعلی دھیان رکھنا
نظر میں ہیں آپ کیمرے کی......
یہ ایک جملہ بڑا غضب تھا !!!!
نہ چور کوئی وہاں پہ اب تھا

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...