بلا عنوان
راجیش زندگی کی الجھنوں سے ذہنی طور پر اتنا پریشان اور مایوس ہو چکا تھا کہ اس نے ایک بڑا ہی اہم فیصلہ کیا. خودکشی کا فیصلہ! ایسے فیصلے عموماّ وہی لوگ لیتے ہیں جن کی زندگی میں دوستوں کی کمی ہوتی ہے.بہرحال اسی مقصد کے ساتھ وہ اپنے گائوں کے قریب سے گزرنے والی ایک سنسان ریل لائن پر پہونچ گیا. گاڑی کا وقت ہو چلا تھا. وہ کسی بھی وقت آسکتی تھی.وہ پٹریوں پر اس طرح لیٹ گیا کہ ایک پٹری پر اس کی گردن تھی اور دوسری پٹری پر اس کی ٹانگیں.اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی زندگی کے ان تمام تر تلخ لمحات کو یاد کرنے لگا جنہوں نے اسے بہت ازیت دی تھی اور اس کے اس فیصلے کی بنیاد تھے. ایک فلم سی اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی.آدھا گھنٹہ اسے اسی حالت میں گزرا مگر ٹرین نہ آئی. یہ ہندوستانی ٹرینیں بھی نہ کبھی وقت پر نہہں آتیں. ماضی کی ساری تلخ یادیں ختم ہو چکی تھیں مگرٹرین کا کوئی پتہ نہ تھا. اس نے پریشان ہو کر آنکھیں کھولیں تو دیکھا دس پندرہ لوگوں کی بھیڑ اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی تھی اور بڑے تجسس سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی.
ہندوستان کے لوگ بڑے سمجھ دار ہوتے ہیں اس لئے کسی نے یہ بے تکا سوال نہیں پوچھا کہ بھائی یہاں کیوں لیٹے ہو ؟ ظاہر ہے یہ بات سبھی جانتے تھے کہ ارادہ خودکشی ہے.
راجیش گھبرا کر، اٹھ کر بیٹھ گیا.تبھی ایک نوجوان نے اپنا موبائل نکالا اور راجیش کا فوٹو کھینچ کر فوراّ فیس بک پر پوسٹ کیا اور لکھا" ایک شخص ٹرین کی پٹریوں پر خودکشی کے لئے بیٹھا ہے. فوراّ اس کی مدد کیجئے اس سے پہلے کے ٹرین آ جائے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے.آپ کو آپ کے خدا کی قسم اسے اتنا شیئر کیجئے کہ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے."" پوسٹ وائرل ہونے لگی. سینکڑوں لائک آنے لگے.
ایک لڑکا اور آگے آیا اور راجیش کے قریب پہونچا اور اشاروں میں اس سے، اپنے ساتھ سیلفی لینے کی گزارش کی.راجیش کی حیرت اور گھبراہٹ ابھی ختم نہ ہوئی تھی، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا یا جواب دیتا، نوجوان نے جواب کا انتظار کئے بنا اپنا چہرا راجیش کے قریب کیا اور ایک سیلفی کلک کر لی. اس کے بعد وہ الگ ہٹ گیا اور راجیش کو بھول کر اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا. اس نے وہاٹس اپ کھولا اور اس تصویر کو اس ٹیگ کے ساتھ مختلف گروپوں میں بھیجنے لگا "" خود کشی کرنے والے شخص کے ساتھ آخری سیلفی ـ اگر مر کر دوبارہ پیدا ہوئے تو اگلے جنم میں ملاقات ہوگی."" میسیج بہت پسند کیا گیاـ گروپ کے ہر شخص نے اسے دلچسپی اور حیرت سے پڑھا اور پھر لائک کی خواہش میں آگے فارورڈ کر دیا. گروپ میً کچھ دانشور حضرات بھی تھے جنہیں ملک میں بڑھتی خود کشی کے واقعات پر بڑی تشویش اور فکر لاحق تھی چنانچہ انہوں نے اس پر بڑی سخت بحث شروع کر دی. سینکڑوں لوگ اس بحث کا حصہ بن گئے اور اپنے خیالات کا اظہار تابڑ توڑ اور بے دریغ انداز سے پیش کرنے لگے. سیلفی پوسٹ کرنے والا اس بہران کو دیکھ کر بڑا خوش تھا مانو اس نے ملک بھر میں ایک نئی تحریک کو جنم دیا ہو.
ہجوم میں کچھ بوڑھے لوگ بھی شامل ہو گئے جو بھیڑ دیکھ کر اس جانب آ گئے تھے جب انہوں نے سارا ماجرا دیکھا اور سمجھا تو اپنے اپنے حقے اور چلم سنبھال کر ایک جانب بیٹھ گئے اور خود کشی کے موقف پر تبصرہ کرنے لگے. بڑے دنوں بعد ان کے ہاتھ کوئی ایسا موضوع آیا تھا جس کے ذریعہ وہ وقت گزاری کر سکتے تھے.
راجیش کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ تو بس نظریں جھکائے بیٹھا تھا. اس کی کیفیت بڑی عجیب ہو گئی تھی اسے لگا وہ اکیلا نہیں ہے دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کی پرواہ کرتے ہیں.تبھی بھیڑ میں سے کسی نے زور سے اعلان کیا " ارے ہٹو، ٹرین آ رہی ہے" یہ آواز سنتے ہی ہجوم میں بھگدڑ سی مچ گئی اور ساری بھیڑ پٹریوں سے پیچھے کی طرف دوڑ پڑی. راجیش پھر پٹریوں پر تنہا تھا.
اکمل نعیم
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें