रविवार, 5 मई 2019

غزل

چونکہ مال و متاع کا حامل ہوں
میں  بھی سب کی نظر میں قابل ہوں
اپنے پیروں کو سر پہ رکھے ہوئے
دوڑ میں زندگی کی شامل ہوں
حسن تعلیم دے ہمیں بھی کچھ
عشق کے معاملے میں جاہل ہوں
میں تو بس تھا تماش بینوں میں
دل یہ کہتا ہے میں بھی قاتل ہوں
ہیچ سمجھا مجھے زمانے نے
پھر بھی ماں کی نظر میں قابل ہوں
لوگ کہتے ہیں چاند لیکن میں
آسماں تیرے گال کا تل ہوں
اس سے زیادہ بھی بے شعوری کیا
مقصد زیست ہی سے غافل ہوں
بندگی تیری ہی کروں ہردم
جب تلک سانس کا میں حامل ہوں
ذات حق ایک بس وہی اکمل
 تم بھی باطل ہو میں بھی باطل ہوں

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...