وہ موضوع قرآن انساں کہاں ہے
وہ مطلوب رحمٰن انساں کہاں ہے
کہ ظاہر و باطن درخشاں ہو جس کے
گناہوں سے انجان انساں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
یہ جب بولتا ہے تو بس جھوٹ بولے
اگر تولتا ہے تو کم کیوں یہ تولے
کہے قول سچا نہ وعدہ نبھائے
یہ بس دوسروں کے عُیوب ٹٹولے
نبی لائے تھے جو وہ ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
یہ بے دین بھی ہے یہ بے عدل بھی ہے
ہے لا علم بھی یہ، یہ بے عقل بھی ہے
یہودو نصاری کا معقد ہے ایسا
کہ ان کی مشابہ یہ بے شکل بھی ہے
انہیں کی شریعت کا فرماں رواں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
مقدس سمجھ کر تلاوت ہے کرتا
ادب اس کا وہ پھر نہایت ہے کرتا
سمجھ کر مگر اس کو پڑھتا نہیں ہے
اور اس بات کی وہ ہمایت ہے کرتا
جو اخلاق بدلے وہ قرآں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
امانت کا اب پاس اس کو نہیں ہے
یتیموں کا احساس اس کو نہیں ہے
گناہوں کی لزت سے قالب مقفّل
کہ نیکی کی کچھ پیاس اس کو نہیں ہے
تعجب ہے اس پر بھی حِرماں (ناامید) کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
طلب خلد کی راس اس کو نہیں ہے
جہنم کا ڈر خاص اس کو نہیں ہے
تصور ہے کم تاب یوم الجزا کا
کہ محشر کا احساس اس کو نہیں ہے
وہ روز قیامت کا ساماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
نمازوں سے اس کے شب و روز خالی
حدیثیں سناتا ہے گڑھ گڑھ کے جعلی
ہے ایمان پیروں فقیروں پہ رکھتا
ہیں قصے کہانی سبھی کچھ خیالی
تھا خالص خدا پر جو ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
وہ گالی، یہ دے ہے کہ شرم آئے سن کر
جو لڑنے پہ آئے تو بن جائے کنجر
جہاد اور قتال اس کے بس میں نہیں ہے
مگر دوستوں پر نکالے ہے خنجر
شہادت کا کوئی بھی ارماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
ہے دیوبندیت اور رضاخوانیت ہے
وہابی بھی ہے اور تبلیغیت ہے
ہے سنی، شیعہ اور بوہرا یہاں ہے
مباحث کا مدعا یہ تقلیدیت ہے
وہ الدین یسرا، مہرباں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
وہ مطلوب رحمٰن انساں کہاں ہے
کہ ظاہر و باطن درخشاں ہو جس کے
گناہوں سے انجان انساں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
یہ جب بولتا ہے تو بس جھوٹ بولے
اگر تولتا ہے تو کم کیوں یہ تولے
کہے قول سچا نہ وعدہ نبھائے
یہ بس دوسروں کے عُیوب ٹٹولے
نبی لائے تھے جو وہ ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
یہ بے دین بھی ہے یہ بے عدل بھی ہے
ہے لا علم بھی یہ، یہ بے عقل بھی ہے
یہودو نصاری کا معقد ہے ایسا
کہ ان کی مشابہ یہ بے شکل بھی ہے
انہیں کی شریعت کا فرماں رواں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
مقدس سمجھ کر تلاوت ہے کرتا
ادب اس کا وہ پھر نہایت ہے کرتا
سمجھ کر مگر اس کو پڑھتا نہیں ہے
اور اس بات کی وہ ہمایت ہے کرتا
جو اخلاق بدلے وہ قرآں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
امانت کا اب پاس اس کو نہیں ہے
یتیموں کا احساس اس کو نہیں ہے
گناہوں کی لزت سے قالب مقفّل
کہ نیکی کی کچھ پیاس اس کو نہیں ہے
تعجب ہے اس پر بھی حِرماں (ناامید) کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
طلب خلد کی راس اس کو نہیں ہے
جہنم کا ڈر خاص اس کو نہیں ہے
تصور ہے کم تاب یوم الجزا کا
کہ محشر کا احساس اس کو نہیں ہے
وہ روز قیامت کا ساماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
نمازوں سے اس کے شب و روز خالی
حدیثیں سناتا ہے گڑھ گڑھ کے جعلی
ہے ایمان پیروں فقیروں پہ رکھتا
ہیں قصے کہانی سبھی کچھ خیالی
تھا خالص خدا پر جو ایماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
وہ گالی، یہ دے ہے کہ شرم آئے سن کر
جو لڑنے پہ آئے تو بن جائے کنجر
جہاد اور قتال اس کے بس میں نہیں ہے
مگر دوستوں پر نکالے ہے خنجر
شہادت کا کوئی بھی ارماں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
ہے دیوبندیت اور رضاخوانیت ہے
وہابی بھی ہے اور تبلیغیت ہے
ہے سنی، شیعہ اور بوہرا یہاں ہے
مباحث کا مدعا یہ تقلیدیت ہے
وہ الدین یسرا، مہرباں کہاں ہے
شریعت کا تابع مسلماں کہاں ہے
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें