آج کچھ کمی سی ہے تیرے بغیرٓ
آج کچھ کمی سی ہے تیرے بغیرٓ
رات کچھ تھمی سی ہہےتیرے بغیر
ہے وقت بھی رکا رکا سا آج کچھ
کہ دھڑکنیں تھمی سی ہیں تیرے بغیر
نہ مجھکو تیری جستجو نہ انتظار ہے
کیوں آ نکھ میں نمی سی ہے تیرے بغیر
نہ دوستی خوشی سے اب نہ غم سے بیر
یہ روح بھی جمی سی ہے تیرے بغیر
تو ایک شخص ہی تو تھا محض اکمل
کیوں بزم کچھ تھمی سی ہے تیرے بغیر
اکمل نعیم اکمل
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें