बुधवार, 5 अप्रैल 2017

آج کچھ کمی سی ہے تیرے بغیرٓ


آج کچھ کمی سی ہے تیرے بغیرٓ  

آج کچھ کمی سی ہے تیرے بغیرٓ  
  رات کچھ تھمی سی ہہےتیرے بغیر
ہے وقت بھی رکا رکا سا آج کچھ
کہ دھڑکنیں تھمی سی ہیں تیرے بغیر
نہ مجھکو تیری جستجو نہ انتظار ہے
کیوں آ نکھ میں نمی سی ہے تیرے بغیر
نہ دوستی خوشی سے اب نہ غم سے بیر
یہ روح بھی جمی سی ہے تیرے بغیر
تو ایک شخص ہی تو تھا محض اکمل
کیوں بزم کچھ تھمی سی ہے تیرے بغیر
 اکمل نعیم اکمل

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...