نگاہیں بول سکتی ہیں،نگاہیں بات کرتی ہیں
نگاہیں بول سکتی ہیں،نگاہیں بات کرتی ہیں
یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے یا میرے ساتھ کرتی ہیں
جھکا کر اپنی پلکوں کو حیا سے بات کرتی ہیں
اٹھا کر اپنی پلکوں کو حیا کو مات کرتی ہیں
نگاہوں کو اگر سمجھو،نگاہوں کو اگر جانو
نگاہوں سے نہ تم الجھو،نگاہیں گھات کرتی ہیں
سمجھنا ان کو مشکل ہے،خوشی ہے یا ہے غم دل میں
یہ آنسوں ہی کے ذریعے سے،عیاں جزبات کرتی ہیں
چھپانا گر تعلق کو کبھی مطلوب ہو اکمل
عیاں محفل میں یہ کرکے عجب حالات کرتی ہیں
اکمل نعیم اکمل
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें