یہ اثر ہے میرے محبوب کی جدائی
یہ اثر ہے میرے محبوب کی جدائی
ہے شغل اب یہی بس قافیہ پیمائی کا
یہ دیوانے کا جنوں تھا کہ کہا رب اس نے
ورنہ دعویٰ تھا کہاں حسن کو خدائی کا
نہ عقیدت ، نہ عمل، ہے فقط نعرے بازی
یہ کہاں ہوتا ہے شیوہ کسی شیدائی کا
جو بھی آیا ہے اسے جانا ہے ایک دن اکملؔ
ہے چمن میں یہی دستور جدائی کا
اکمل نعیم اکمل
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें