बुधवार, 5 अप्रैल 2017

یہ اثر ہے میرے محبوب کی جدائی

یہ اثر ہے میرے محبوب کی جدائی 

یہ اثر ہے میرے محبوب کی جدائی 
 ہے شغل اب یہی بس قافیہ پیمائی کا

یہ دیوانے کا جنوں تھا کہ کہا رب اس نے
ورنہ دعویٰ تھا کہاں حسن  کو خدائی کا

نہ عقیدت ، نہ عمل، ہے فقط نعرے بازی
 یہ کہاں ہوتا ہے شیوہ کسی شیدائی کا

جو بھی آیا ہے اسے جانا ہے ایک دن اکملؔ
ہے چمن میں یہی دستور جدائی کا
 اکمل نعیم اکمل

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...