تیرے وصال کی لزت سے اب کہیں زیارہ
تیرے وصال کی لزت سے اب کہیں زیارہ
تیرے فراق کی مدت پسند ہے مجھ کو
میرا وجود ہے اک بس تمہیں سے وابستہ
کہ والدین سے نسبت پسند ہے مجھ کو
ازان ہوتی ہے جب بھی دعا میں کرتا ہوں
ندائے حق کی یہ ساعت پسند ہے مجھ کو
تیرے خیال نے بخشی ہیں وسعتیں مجھ کو
تیرے خیال کی شدت پسند ہے مجھ کو
ہیں بے مثال سخنور یہاں بہت اکمل
تیرے خیال کی جدت پسند ہے مجھ کو
اکمل
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें