गुरुवार, 13 सितंबर 2018

سنتے ہو' محبت سے بلاتی ہے جی بیگم
پھر آنکھ گھما کرکے ڈراتی یے جی بیگم
میں کانپنے لگتا ہوں اسے دیکھ کے ڈر سے
میکپ کے بنا چہرا دکھاتی ہے جی بیگم
بن ٹھن کے اگر دیکھ لے وہ مجھ کو کبھی تو
پھر جھوٹ ہمارے سے ہی بلواتی ہے بیگم
ہاتھوں کی نزاکت کا بہانہ بھی غضب ہے
کپڑے وہ سبھی ہم سے دھلاتی ہے جی بیگم
لوکی ہے کریلے ہیں مقدر میں ہمارے
مہنگائی کے ڈر سے یہی لاتی ہے جی بیگم
بچوں کو تو چوری کے ہے نقصان بتائے
والیٹ سے میرے پیسے چراتی ہے جی بیگم
رونے میں کہاں ثانی شہر بھر میں ہے اس کا
میت پہ بڑے چائو سے جاتی ہے جی بیگم
سنتی ہے ادھر اِس سے کہتی ہے ادھر اُس سے
یوں آگ محلے میں لگاتی ہے جی بیگم
بندوق سے ناتوپ سے ڈر مجھ کو لگے ہے
بیلن سے مگر مجھ کو ڈراتی ہے جی بیگم
مہنگائی سے رہتی ہے پریشان سدا وہ
مہنگا ہو اگر جوڑا تو لاتی ہے جی بیگم
دنیا میں فقط اس کے ہی ماں باپ ہیں اچھے
پیہر کے سدا قصے سناتی ہے جی بیگم
باتوں میں کہاں اس سے کوئی جیت سکا ہے
خاموش ہمہیں رہنا سکھاتی ہے جی بیگم
اکمل تو ہے اسکول میں اردو کا ہی ٹیچر
لوگوں کو تو کچھ اور بتاتی ہے جی بیگم
غم دے کے بھی اکمل جو سدا رہتی ہے بے غم
اس شے کو ہی دنیا تو بتاتی ہے جی بیگم

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...