रविवार, 30 दिसंबर 2018

ایک انٹرویو محبان اردو کے حوالے سے

ایک انٹرویو 
سوال : راجستھان کے زیادہ تر مسلم نوجوان اردو ٹیچر ہی کیوں بننا چاہتے ہیں ؟
جواب : اس کی وجہ مسلم نوجوانوں کی اردو سےمحبت ہے؟
اچھا !
سوال : تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہمیں کسی زبان سے محبت ہو تو ہمیں اس محبت کا حق ادا کرنے کے لئے اس زبان کے استاد کی سرکاری نوکری کرنی چاہئے ؟
جواب : اس میں قباحت کیا ہے !
سوال : کوئی قباحت نہیں ہے مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ اردو کے سرکاری اور غیر سرکاری اساتذہ کا حال یہ ہے کہ وہ درست املا کے ساتھ ایک سطر بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتےـ انہیں اردو حروف تہجی تک کا تو علم نہیں ہے. یہ کیسی محبت ہے ؟
جواب : ہاں یہ بات درست ہے کہ اردو سے بی اے اور ایم اے کر چکے طلبہ کا املا تک درست نہیں یے اور شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں زبان سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ سرکاری نوکری سے دلچسپی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سارے اردو ٹیچر اسکولوں میں اردو کی بجائے دیگر مضامین پڑھا رہے ہیں یا گھر کی محبت کے چکر میں نزدیکی ڈپارٹ مینٹ میں ڈیپوٹیشن کرا لیتے ہیں
سوال : اس کا مطلب نوکری لگتے ہی سچ سامنے آجاتا ہے یعنی اردو کی محبت کا ڈھونگ کھل جاتا ہے.
جواب : شاید بات کافی حد تک درست ہے. مگر کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ بھی ہیں جو اپنی ذمہ داری کو بہترین طریقہ سے انجام دے رہے ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جی جان سے اس کو فروغ دینے میں مصروف ہیں.
سوال : ایک شرم ناک حرکت کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کہ آج کل اردو والوں میں بڑا فروغ پا چکی ہے اور وہ ہے اردو کو ہندی رسم الخط میں تحریر کرنا. اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
جواب : کسی بھی زبان کی حقیقی پہچان اس کے رسم الخط سے ہی ہوتی ہے اسی لئے اردو کے مخالف ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ ہمیں اردو سے نہیں بلکہ اس کے رسم الخط سے اعتراض ہے کیونکہ اس کی وجہ سے یہ مسلمان لگنے لگتی ہے ! اردو کو ہندی رسم الخط میں لکھنے والے دراصل اس کے قتل میں برابر کے شریک ہیں.
سوال : کچھ شاعر اپنے مجموعے اس لئے ہندی میں شائع کرواتے ہیں کہ اردو کے شائقین اسے پڑھ سکیں ـ یہ کیا ماجرا ہے ؟
جواب : جسے اردو سے محبت ہے یا جسے یہ زبان اپنی جانب راغب کرتی ہے اور جنہیں اس کی شیرینی پسند ہے تو وہ اس کا رسم الخط بھی ضرور سیکھیں گے. مگر تعجب ہے اردو والوں پر جو ایسے شائقین کو اردو سکھانے کے بجائے اور انہیں اس کی رغبت دلانے کے بجائے خود ہندی میں لکھنے لگتے ہیں. ایسے لوگوں کی رہنمائی کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ہندی رسم الخط کے ذریعہ اردو کے الفاظ کی صحیح ادائگی ممکن نہیں ہے. انگریزی کو بھی تو ہم انگریزی رسم الخط میں ہی لکھتے اور پڑھتے ہیں ـ
سوال : بحرحال میں وہیں آتا ہوں جہاں سےمیں نے آغاز کیا تھا یعنی راجستھان کے مسلم نوجوان صرف اردو ٹیچر ہی کیوں بننا چاہتے ہیں دیگر مضامین کی جانب ان کارحجان کیوں نہیں ہے ؟
جواب : جواب بالکل سیدھا سا ہے کہ اردو میں مقابلہ دیگر مضامین کے مقابلہ بہت کم ہے یعنی کم محنت اور نوکری کی زیادہ توقع.
سوال : اور صرف ٹیچر ہی کیوں ؟ ڈاکٹر، انجینئر، آرکیٹکٹ، تاجر، کھلاڑی،چارٹرڈ اکائونٹنٹ سیاست داں وغیرہ کیوں نہیں ـ
جواب : شاید مسلم نوجوان سہل پسند ہے یا پھر کسل پسند جو سخت محنت سے کتراتا ہے؟ یا پھر ناامید؟ کہ اسے لگتا ہے کہ وہ یہ سب کر ہی نہیں سکتا ـ
اسی لئے بی ایڈ کرکے بس اردو کی ویکینسی کی راہ تکتے رہتے ہیں.
سوال : اور مدرسہ پیراٹیچر ؟
جواب : مدرسہ پیراٹیچر بھی اسی کسل کا شکار ہیں. انہیں معلوم ہے مسابقتی امتحانات میں پاس ہونا ان کے بس کا نہیں ہے اس لئے اس امید میں یہیں پڑے رہو کہ کبھی تو سرکار ہمیں کہیں ایڈجسٹ کر دےـ
سوال : اور یہ سیکینڈ گریڈ وغیرہ کے امتحان کے بعد جو لوگ فیس بک وہاٹس ایپ پر اپنی اپنی میرٹ لسٹ بناتے رہتے ہیں ؟
جواب : قہقہہ ! ایسے لوگوں میں توکل کی کمی ہوتی ہے یعنی خدا پر بھروسہ نہیں ہوتاـ انہیں خود پر بھی بھروسہ نہیں ہوتا.
سوال : آخری سوال کیا اسکولوں میں اردو کھلنے سے اردو زندہ ہو جائے گی؟
جواب : زبان کی زندگی اس کے استعمال پر منحصر ہے جو زبان معاشرہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتا ہے وہی زبان زندہ رہتی ہے پھر چاہے وہ اسکول میں پڑھائی جاتی ہو یا نہیں.
مثال کے طور پر راجستھان میں راجستھانی زبان زندہ و جاوید ہے جبکہ اسکولوں میں نہیں پڑھائی جاتی ہے وہیں دوسری جانب ملک کے تمام اسکولوں میں سنسکرت پڑھائی جاتی ہے مگر پھر بھی یہ زبان مر چکی ہے کیونکہ معاشرے میں اس کا استعمال صفر ہے.
سوال : اس کا مطلب ؟
جواب : سیدھا سا مطلب ہے اگر آپ کو اردو سے واقعی محبت ہے اور آپ اسے بچانا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال شروع کیجئے. اپنی بات چیت میں، اپنی خط و کتابت میں، موبائل پر، سوشل میڈیا میں، شادی اور غمی کے موقع پر چھپنے والے دعوت ناموں وغیرہ میں، اپنی دکانوں کے سائن بورڈوں اور اشتہاروں میں غرض ہرجگہ اس کا استعمال کیجئے زبان ضرور زندہ رہیگی.

محترمہ گائے کا انٹرویو

محترمہ گائے کا انٹرویو 
محترمہ آداب  !
آداب  ! 
سوال  :  میں نے سوچا  شایدآپ کو آداب سننے اور آداب کا جواب دینے میں کچھ قباحت ہوگی  ؟
جواب  :  آپ نے ایسا کیوں سوچا  ؟
سوال  :  نہیں دراصل وہ ملک کے لوگ تو یہی سوچتے ہیں نہ کہ آپ ایک خاص قوم کی والدہ اور ماں ہو اور ایک خاص قوم کی جھنڈا بردار یا علم بردار ہو ۔
جواب  :  اور اگر آپ کسی پاکستانی یا امریکی گائے کا انٹرویو لیتے تو شاید ایسا نہ سوچتے  ؟  کیوں  ؟
جی شاید   خیر انٹرویو شروع کرتے ہیں۔
سوال  :  آپ خیریت سے ہیں  ؟
جواب  :  چہرے پر ہلکہ سا تبسم لاکر (مگر یہ تبسم آنکھوں میں اچانک اتر آئے شدید کرب کے احساس کو ڈھانپ نہ سکا) ، بس ٹھیک ہوں۔
سوال  :  آپ کی آنکھوں کا درد آپ کے چہرے کی مسکراہٹ کے دروغ کو عیاں کر رہا ہے۔ اور آپ کا جواب بھی اس بات کی پختگی کی نشاندہی کررہا ہے کہ آپ خوش تو بالکل نہیں ہیں۔
جواب  :  جناب زندگی میں کبھی کبھی آپ ایسے حالات سے دوچار ہوتے ہیں کہ چاہ کر بھی حقیقت کو بیان نہیں کر سکتےہیں کیونکہ کچھ لوگ جبراً آپ کے دہن میں اپنی  زبان رکھ دیتے ہیں۔
سوال  :  یہ کون لوگ ہیں جن کی جانب آپ اشارہ کر رہی ہیں  ؟
جواب  :  جو بات روز روشن کی طرح صاف ہو اس پر تبصرہ کیوں کیا جائے۔
سوال  :  بحرحال مجھے میرے پہلے سوال کا جواب مل گیا کہ آپ خوش تو نہیں ہیں ۔ چاہے آپ اس کا زبانی اقرار نہ کریں۔
جواب  :  کیا دنیا میں کوئی بھی ایسی غیرت مند مخلوق ہے کہ جس کے سر پر، مظلوم مخلوق خدا کے خون کے ایک دو نہیں سینکڑوں الزامات لگے ہوں اور وہ خوش و خرم رہ سکے  ؟
سوال  :  آپ کا اشارہ ان اموات (یا قتل کہیں تو بہتر ہوگا)کی جانب ہےجوآپ کے تقدس اور آپ کی محبت کی بنیاد پر واقع ہوئیں  ؟
جواب  :  محبت اور نفرت ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں  ؟  میری محبت اگر کسی مخلوق کی نفرت کا باعث بن جائے تو میں ایسی کسی بھی محبت کی خواہش مند نہیں ہوں  !  میں ایسی کسی بھی عقیدت ، تقدس اور انس کی خواہش مند نہیں ہوں کہ جس کی وجہ سے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کر دیا جائے  !  یہ کیسی محبت ہے  ؟  یہ کیسی عقیدت ہے  ؟  یہ کیسا تقدس ہے  ؟  جو انسانوں کو وحشی درندہ اور قاتل بنا دے۔
سوال  :  لیکن اکثریت آپ کو اپنی ماں تسلیم کرتی ہے اور اگر کسی کی ماں کے ساتھ کہیں کچھ غلط سرزد ہو تو غصہ آنا ایک لازمی امر ہے ۔
جواب  :  آپ کے سوال کا پہلا حصہ کہتا ہے کہ اکثریت مجھے اپنی ماں سمجھتی ہے ۔ محترم آپ بھی کہاں کس کے بہکاوے میں آ گئے ہیں  ؟  انسان نے کبھی اپنی سگی ماں کی پرواہ نہیں کی ہے پھر میں تو ٹھہری ایک حیوان ۔ ذرا اپنے گھروں میں تو جھانک کر دیکھئے ان گھروں میں بسنے والے آپ کے اپنے حقیقی والدین کے دلوں سے تو پوچھئے کہ ان کے کیا حال ہیں  ؟  اکثریت بدترین حالات سے دوچار ہے۔ وہ ماں جس نے آپ کو پیدا کیا جو آپ کی خالق مجازی ہے ، جو موت سے لڑ کر آپ کو دنیا میں لاتی ہے پھر رات دن محنت مشقت سے آپ کو پال پوس کر کسی قابل کرتی ہے ، آپ کا پیشاب پاخانہ صاف کرتی ہے ، اپنی بھوک پر آپ کی بھوک کو  مقدم جانتی ہے، اپنی نیند پر آپ کی نیند کو فوقیت دیتی ہے ، آپ کے دنیا میں آ جانے کے بعد اپنے لئے نہ کچھ سوچتی ہے نہ کرتی ہے نہ مانگتی بس ہر گھڑی ہر پل آپ کے لئے جیتی ہے آپ کے لئے سوچتی ہے اور جیسے ہی آپ جوان ہو جاتے ہیں آپ کی شادی کرتی دیتی ہے تو آپ اسی ماں کو بھول جاتے ہیں ۔ کیسے   ؟  یہ کیسے ممکن ہے  ؟  کیا سینے میں دھڑکنے والا دل ایک دم پتھر کا ہو جاتا ہے  ؟  کیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کہیں گم ہو جاتی ہے  ؟  کیا جذبات اور احساسات مفلوج ہو جاتے ہیں  ؟  کیا ہو جاتا ہے  ؟  جو انسان اپنی حقیقی ماں کی قدر نہیں کرتا ، اس سے محبت نہیں کرتا ، اس سے عقید ت اور انس نہیں رکھتا وہ بھلا مجھ جیسے سیدھے سادے جانور سے کیا محبت کرے گا۔ 
دوسری بات ماں کے ساتھ کہیں کچھ غلط ہونے پر غصہ آنا ایک لازمی امرہے، اگر آپ کو اپنی ماں سے محبت ہے تو  !  لیکن یہاں پھر وہی باتآتی ہے کہ جسے اپنی حقیقی ماں سے محبت نہیں ہے اسے مجھ سے کیا خاک محبت ہوگی  !
سوال  :  شاید کچھ لوگ آپ سے اس لئے محبت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خود اور ان کی فیملی آپ کا دودھ پیتی ہے اور دودھ کا قرض آسانی سے ادا نہیں کیا جا سکتا ہے  ؟
جواب  :  بالکل ٹھیک کہا آپ نے دودھ کا قرض ادا نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن سب سے پہلے اپنی حقیقی ماں کے دودھ کا قرض تو ادا کر دیجئے جناب  !  میرا نمبر تو اس کے بعد آئے گا۔ جو اپنی حقیقی ماں کا نہیں ہےوہ میرا کیا حق ادا کرے گا۔ 
سوال  :  آپ کا موقف کیا ہے  ؟  کیا اس کا مطلب یہ ہےکہ، یہ جو آپ سے محبت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سچ نہیں ہے  ؟
جواب  :  بالکل سچ نہیں ہے  !  یہ دعویٰ سرار جھوٹا ہے ۔  اچھا آپ بتائیں کیا آپ نے سڑکوں پر بھوکی پیاسی پھرتی ہوئی نڈھال اور کمزور گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے کوڑے کے ڈھیر پر اور گندے نالوں کی کیچڑ میں منھ مارتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے بھوک کی شدت سے پالی تھین کی تھیلیاں چباتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  اور پھر انہیں پالی تھین کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے راتوں کو چھپ چھپ کر کھیت کھلیانوں میں منھ مارتی ہوئی اور کسانوں کی گالیاں اور لاٹھیاں کھاتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  شہر ہو یا دیہات ، سڑک ہو یا کھیت کھلیان ہر جگہ اس ملک میں بھوک سے تڑپتی ہوئی گایوں کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہاں اُسی ملک میں جہاں بقول آپ کے مجھے  100 کروڑ سے زیادہ لوگ اپنی ماں مانتے ہیں   !  دودھ کے لئے مجھے پالنے والے تب تک ہی گھر میں رکھتے ہیں جب تک میں منافع دیتی ہوں اور جیسے ہی میرا دودھ بند ہو جاتا ہے میں ان پر بوجھ بن جاتی ہوں لہٰذا مجھے یعنی اپنی ماں کو وہ بے یارو مددگار سڑک پر مرنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں ۔ کس منھ سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لوگ مجھے ماں کا درجہ دیتے ہیں۔وہ مجھے تبھی تک رکھتے ہیں جب تک میں ان کے لئے فائدہ کا سودا ہوں، بس۔  
سوال  :  مگر آپ کے لئے ملک بھر میں گو شالائیں تیار کی گئی ہیں جہاں آپ کے آرام اور آسائش کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگ اس کے لئے چندہ دیتے ہیں  ؟ کیا یہ محبت کی علامت نہیں ہے  ؟
جواب  :  محترم جناب یا تو آپ بہت بھولے ہیں یا پھر مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ سب بزنس ہے خالص بزنس یعنی تجارت۔ اس ملک میں وہ تجارت سب سے زیادہ کامیاب ہےجس کی بنیاد میں مذہب ہوتاہے۔ مذہب کے نام پر آپ اس ملک کی رعایا کو کچھ بھی بیچ سکتے ہیں ۔  یہاں تک کہ پیشاب اور پاخانہ جیسی نجس اشیا بھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب آپ کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ جیسے ہی آپ نے سوال کیا آپ کی خیریت میں فرق آ جائے گا۔ اس تجارت کی کامیابی کا یہی راز ہے۔ اس کا معاملہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسا سیکس کلینک چلانے والے ڈاکٹروں کا اورمریضوں کا معاملہ ہے۔ ایسے ڈاکٹروں کے پاس سیکس کا مریض چھپتا چھپاتا ہوا جاتا ہے ، ان کی بھاری بھرکم فیس ادا کرتا ہے اور فائدہ نہ ہونے کی صورت میں شرمندگی کی وجہ سے کوئی احتجاج بھی نہیں کر پاتا ہے بلکہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
بحرحال آپ جن گوشالائوں کا ذکر کر رہے تھے ان کا حال تو اور ابتر ہے ۔ اس سے بہتر تو یہی ہے کہ سڑک پر ہی آشیانہ بنالیا جائے۔ آپ اگر اخبار پڑھتے ہوں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان گوشالائوں میں گائیوں کے کیا حال ہیں  ؟  موت سے بدتر زندگی ہے یہاں  !  ہر سال انہیں گو شالائوں میں لاکھوں گائیں بے موت مر جاتی ہیں۔ کچھ بھوک کی شدت سے ، کچھ بیماری سے تو کچھ گندگی اور بد انتظامی کی وجہ سے۔ یہ سب پیسہ کمانے کے گورکھ دھندھے ہیں اور کچھ نہیں جناب۔
سوال  :  لیکن دنیا کے دیگر ممالک میں تو آپ کے حالات بہت بہتر ہیں   ؟
جواب  :  جہاں لوگ مجھے ماں کے بجائے گائے ہی مانتے ہیں وہاں ہمارے حالات بہتر ہیں۔ مغربی ممالک میں ہماری کوئی پوجا یا عبادت نہیں کی جاتی ہے مگر وہاں ہماری حالت بہت بہتر ہے۔
سوال  :  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں آپ کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے اس لئے آپ کے حالات بھی ٹھیک اسی طرح خراب ہیں جیسے انسانوں کی حقیقی مائوں کے  ؟
جواب  :  مسکراکر   !  بالکل درست فرمایا ۔ ماں ہونے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہم سے زیادہ اچھے حالات تو بیل اور بھینس کے ہیں ۔ وہ بھی تو ہمارے قبیلے کے ہیں  !  مگر کوئی ان کو باپ اور خالہ یا ماں نہیں مانتا اس لئے وہ ہم سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں ۔ اس ملک میں بس مائیں ہی پریشان ہیں  ! 
سوال  :  یہ بات تو آپ کی درست ہے کہ جو لوگ آپ کو ماں مانتے ہیں انہوں نے ہی آپ کی قدر نہیں کی ہے مگر مسلم لوگ آپ کو ماں نہیں مانتے ہیں اور جب وہ آپ کو قتل کرتے ہیں تو لوگوں کو برا لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنگا ہو جاتا ہے ۔
جواب  :  محترم شاید ان لوگوں کو جو کہ مجھے ماں کہتے ہیں یہ لگتا ہے کہ اپنی ماں کو اذیت اور تکلیف دینے کا حق صرف انہیں کا ہے ۔ کوئی دوسرا ان کی ماں کو اذیت نہیں دے سکتا ۔ دے بھی کیوں جب وہ اس کی ماں ہی نہیں ہے  ؟  کیا آپ کسی دوسرے کی ماں کو دکھ اور تکلیف دے سکتے ہیں  ؟  نہیں  !  آپ کو یہ حق حاصل ہی نہیں ہے  ؟  یہ تو بالکل غیر فطری، غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے جناب ۔ جس کی ماں ہے اسے ہی اپنی ماں کو ایذا ئیں دینے کا حق ہے دوسروں کو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ہندو اگر کسی گائے کو قتل کر دے ،کسی گو شالا میں سینکڑوں گائیں بھوک سے مر جائیں تو کوئی ردّ عمل نہیں ہوتا ہے مگر اگر کسی دوسرے مذہب کا شخص مجھے ہاتھ بھی لگا دے تو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے یا یوں کہیں کہ میرے چاہنے والوں کی غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ 
اور پھر یہ آپ سے کس نے کہا کہ صرف مسلم لوگ ہی مجھے ذبح کرتے ہیں  ؟  گایوں کی حفاظت اور گایوں کے تقدس کی حفاظت کا نعرہ دے کر اس ملک کی سیاست میں بحران مچانے والے لوگ اور میرے سر پر قدم رکھ کر ملک کی قیادت کی باگ ڈور تھامنے والے لوگ کیا یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں کے دور میں یہ ملک دنیا بھر میںسب سے زیادہ مقدار میں میرا گوشت سپلائی کرنے والا ملک بنا ہوا ہے  ؟  کیا وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ مسلم ناموں سے ملتے جلتے ناموں والی تمام کمپنیاں جو دنیا کو میرا گوشت سپلائی کر رہی ہیں وہ سب انہیں لوگوں کی ہیں جو مجھے اپنی ماں کہتے ہیں  ؟  میرے خون سے انہیں لوگوں کے ہاتھ رنگے ہیں جو مجھے ماں کہتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے وہ ہمیشہ دھوکہ سے وار کرتا ہے ۔ وہ پہلے محبت کے ذریعہ آپ کا یقین اور اعتماد فتح کرتا ہے اور جیسے ہی آپ اس کی اس محبت کے اور عقیدت کا دام میں گرفتار ہوتے ہیں وہ اپنی چال چل دیتا ہے اتنی پھرتی اور تیزی کے ساتھ کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے۔ 
سوال  :  ملک کے بہت سے حصوں میں توبڑی تعداد میں غیرمسلم بھی آپ کا گوشت تناول فرماتے ہیں  ؟
جواب  :  جی ہاں  !  جنوبی ہندوستان لیجئے۔ گووا لیجئے۔ اور میں تو کہتی ہوں کہ اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب صرف 14 فی صد ہے تو پھر لاکھو ٹن گوشت روزانہ کھاتا کون ہے  ؟
سوال  :  اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو ماتا کا درجہ دینے کے پیچھے بھی صرف دنیاوی فوائد کے حصول مزاج ہی کارفرما ہے  ؟
جواب  :  یقیناً سو فی صد
سوال  :  آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ کو جو ماں کا درجہ دیا گیا ہے وہ غلط ہے  ؟
جواب  :  بالکل غلط ہے ۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے جناب ۔ یہ جو لوگ سودیشی اور ودیشی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے ہیں اور کچھ لوگوں کی وطن پرستی پر یہ کہتے ہوئے الزام لگاتے ہیں کہ یہ باہری لوگ ہیں ،وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مجھے معبود، خدا یا مقدس ماننے کا سلسلہ بھی اس ملک میں شروع نہیں ہوا تھا ۔ یہ تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسراعیل کا ایجادکردہ فتنہ ہے۔ جب بنی اسراعیل کو خدا تعلی نے فرعون سے نجات عطا کی یعنی فرعون دریا میں غرق ہو گیا اور بنی اسراعیل دریا کے پار ہو گئے تو خدا تعلی نے اس قوم کا امتحان لینے اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے احکامات دینے کے لئے طلب کیا۔ جب کئی دنوں تک موسیٰ نہیں لوٹے اور بنی اسراعیل کے دلوں میں شیطان نے وسوسے ڈالنے شروع کئے تو ان کی اس تذبذب کی حالت کا فائدہ اٹھانے کے لئے انہیں کی قوم کے ایک جادوگر سامری نے مٹی سے ایک بچھڑا بنایا جس کے اندر سے اس کے جادو کی وجہ سے ایک آواز آیا کرتی تھی۔ اس جادوئی بچھڑے کے ذریعہ سامری نے ان میں سے بہت سے لوگوںکے دلوں کو
 مغلوب کر لیا اور ان سے کہا کہ دراصل یہی تمہارا حقیقی خدا ہے تم اس کے سامنے اپنا سر خم تسلیم کر لو۔ موسیٰ علیہ السلام کے بھائی نے لوگوں کو بہت سمجھایا مگر وہ سامری کے بہکاوے میں آ ہی گئے۔ جب موسیٰ واپس لوٹے تو انہیں یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ان کی قوم ایک گائے کے بچھڑے کی عبادت میں مصروف تھی۔اب آپ سمجھے دراصل میری عباد ت کا یہ فلسفہ بھی اس ملک کا نہیں ہے بلکہ باہری ہے۔ 
رہا ماں کا درجہ تو جناب میں تو پہلے ہی عرض کر چکی ہوں میں ایک گائے ہوں اور مجھے گائے ہی رہنے دیا جائے۔ مجھے انسان اپنی ماں بنا کر اپنے قبیلے میں شامل نہ کرے تو بہتر ہے۔ میں ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتی ہوں جو نہ کسی کو دکھ دیتی ہےنہ تکلیف ۔ جبکہ انسانوں کی ذات میں ہی دھوکہ، بغض، عداوت اور نفرت ہے ۔ مجھے ایک گائے ہی رہنے دو مجھے اپنی ماں نہ بنائو ۔ یہ ایک گائے کی دردمندانہ اپیل ہے، التجا ہے۔ اے انسانوں  ! میرے نام پر اپنے عزیزوں ، اپنے ہم وطنوں اور دوستوں کا خون مت بہائو۔ میرے نام پر ناحق لوگوں سے پیسہ نہ وصول کرو اور میرے نام پر اس ملک کو خانہ جنگی اور بربادی کی جانب نہ ڈھکیلو۔ خدارا خود پر اور مجھ پر رحم کرو ۔ اپنے اشرف المخلوق ہونے کے شرف کا لحاظ کرو، ورنہ کل قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دو گے۔ 




शुक्रवार, 21 सितंबर 2018

سکوں بندگی میں سکوں ہے وضو میں
سکوں سجدے میں ہے سکوں ہے رکوع میں
کبھی پیٹھ پر وار کرتا نہیں ہے
سلیقہ بہت ہے ہمارے عدو میں
محبت کا پہلا وہ خط لکھ رہا ہے
پرندہ بھی اڑنے کی ہے جستجو میں
اگر ہم زباں تم کو مل جائے کوئی
عجب لطف آتا ہے پھر گفتگو میں
کھنچا لامحالا چلا جا رہا ہوں
یہ کیسی کشش ہے نئی رنگ و بو میں
جدائی کا اکمل الگ ہی مزہ ہے
میں بس جی رہا ہوں تیری آرزو میں 

शुक्रवार, 14 सितंबर 2018

बेगम

बेगम (१४/९/२०१८)
सुनते हो, मुहब्बत से बुलाती है जी बेगम
फिर आँख घुमा करके डराती है जी बेगम
मैं कांपने लगता हूँ उसे देख के डर से
मेकअप के बिना चेहरा दिखाती है जी बेगम
बन ठन के अगर कभी देख ले वो मुझ को कभी तो
फ़िर झूठ हमारे से बुलाती  है जी बेगम  
हाथों की नज़ाकत का बहाना भी ग़ज़ब है
कपड़े वो सभी हम से धुलाती है जी बेगम
लौकी है करेले हैं मुक़द्दर में हमारे
मंहगाई के डर से यही लाती है जी बेगम
बच्चों को तो चोरी के है नुक़्सान बताये
वालेट से मेरे पैसे चुराती है जी बेगम
रोने में कहां सानी शहर भर में है उसका
मय्यत पे बड़े चाव से जाती है जी बेगम
सुनती है इधर इससे कहती है उधर उससे
यूं आग मुहल्ले में लगाती है जी बेगम
बन्दूक़ से ना तोप से डर मुझ को लगे है
बेलन से मगर मुझ को डराती है जी बेगम
महंगाई से रहती है परेशान सदा वो
महंगा हो अगर जोड़ा तो लाती है जी बेगम
दुनिया में फ़क़त उसके ही मां बाप हैं अच्छे
पीहर के सदा क़िस्से सुनाती है जी बेगम
बातों में कहां उससे कोई जीत सका है
ख़ामोश हमें रहना सिखाती है जी बेगम
अकमल तो है स्कूल में उर्दू का ही टीचर
लोगों को तो कुछ और बताती है जी बेगम
ग़म दे के भी अकमल जो सदा रहती है बेग़म
उस शै को ही दुनिया तो बताती है जी बेगम






حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے
1
حرف ہے زندگی حرف ہی جان ہے
حرف سے ہی تو انسان انسان ہے
پیڑ دریا پہاڑ اور جنگل ہریک
حرف سے نابلد اور انجان ہے
حرف سے ہی تو انسںاں کی پہچان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے
2
حرف آواز ہے دل کے جزبات کی
دل کے احساس کی اور خیالات کی
حرف سے ہے گناہ حرف سے نیکیاں
حرف ہی جان ہے سب عبادات کی
حرف رب کا ہی تو ایک فرمان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے3

حرف ہے اک دعا حرف ہے بددعا
حرف ہے اک ندا حرف ہے اک صدا
حرف ہے ابتدا حرف ہے انتہا
حرف انداز ہے حرف ہے اک ادا
حرف خواہش بھی ہے حرف ارمان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے
4
وید بھی حرف ہے حرف قرآن ہے
حرف شلوکوں میں ہے حرف ایمان ہے
حرف میں ہے فصاحت بلاغت بہت
حرف میں ہے فہم حرف نادان ہے
حرف مذہب ہے اور حرف شیطان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے
5
حرف سے نفرتیں حرف سے پیار ہے
حرف سے جیت ہے حرف سے ہار ہے
حرف نا ہو اگر زندگی میں تو پھر
زیست مرگھٹ کی مانند سنسان ہے
حرف سے زندگی کتنی آسان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے

6
حرف سے گل زباں حرف سے خار ہے
چیر دے قلب کو حرف تلوار ہے
حرف ہے چٹپٹا حرف ہے اٹپٹا
حرف شیریں بہت حرف میں کھار ہے
حرف سے ہی تو چہرے پہ مسکان ہے
حرف ذیشان ہے حرف ذیشان ہے

गुरुवार, 13 सितंबर 2018

سنتے ہو' محبت سے بلاتی ہے جی بیگم
پھر آنکھ گھما کرکے ڈراتی یے جی بیگم
میں کانپنے لگتا ہوں اسے دیکھ کے ڈر سے
میکپ کے بنا چہرا دکھاتی ہے جی بیگم
بن ٹھن کے اگر دیکھ لے وہ مجھ کو کبھی تو
پھر جھوٹ ہمارے سے ہی بلواتی ہے بیگم
ہاتھوں کی نزاکت کا بہانہ بھی غضب ہے
کپڑے وہ سبھی ہم سے دھلاتی ہے جی بیگم
لوکی ہے کریلے ہیں مقدر میں ہمارے
مہنگائی کے ڈر سے یہی لاتی ہے جی بیگم
بچوں کو تو چوری کے ہے نقصان بتائے
والیٹ سے میرے پیسے چراتی ہے جی بیگم
رونے میں کہاں ثانی شہر بھر میں ہے اس کا
میت پہ بڑے چائو سے جاتی ہے جی بیگم
سنتی ہے ادھر اِس سے کہتی ہے ادھر اُس سے
یوں آگ محلے میں لگاتی ہے جی بیگم
بندوق سے ناتوپ سے ڈر مجھ کو لگے ہے
بیلن سے مگر مجھ کو ڈراتی ہے جی بیگم
مہنگائی سے رہتی ہے پریشان سدا وہ
مہنگا ہو اگر جوڑا تو لاتی ہے جی بیگم
دنیا میں فقط اس کے ہی ماں باپ ہیں اچھے
پیہر کے سدا قصے سناتی ہے جی بیگم
باتوں میں کہاں اس سے کوئی جیت سکا ہے
خاموش ہمہیں رہنا سکھاتی ہے جی بیگم
اکمل تو ہے اسکول میں اردو کا ہی ٹیچر
لوگوں کو تو کچھ اور بتاتی ہے جی بیگم
غم دے کے بھی اکمل جو سدا رہتی ہے بے غم
اس شے کو ہی دنیا تو بتاتی ہے جی بیگم

शनिवार, 8 सितंबर 2018


गुरू (5 Sep 2018)

सभी ये पूछते हैं आजकल मुझसे गुरू क्या है
बताता हूं चलो तुमको गुरू क्या है, गुरू क्या है

गुरू वो है जो तेरी ज़िन्दगी को इक दिशा दे दे
गुरू वो है जो तुझको जागने वाली निशा दे दे
गुरू वो है जो छुड़वा दे बुरी सब आदतें तेरी
गुरू वो है जो भक्ति का तेरे दिल को नशा दे दे

गुरू ही तो विजय और हार का अंतर बताता है
गुरू ही तो सफ़लता का यहां जंतर बताता है
गुरू का साथ हो तो हारने की बात नामुमकिन
गुरू वो है जो केवल जीत का मंतर बताता है

गुरू का जो करे आदर वही सन्मार्ग पाता है
गुरू ही तो तिमिर से खींच कर ज्योति में लाता है
गुरू का काम है अपमार्जन मन का तेरे करना
गुरू करके सफ़ाई मन की कुटिया को छवाता है

गुरू का नाम आते ही निगाहो दिल मचल जाये
गुरू का स्मरण करते ही विपदा आप टल जाये
गुरू की शक्तियां कितनी हैं तुमको क्या पता अकमल
गुरू का नाम जपने से ही मन का पाप जल जाये

परमहंस के बिना स्वामी विवेकानंद कहां होते
द्रोणाचार्य के बिन भला अर्जुन कहां होते
कहां होते भला ख़ुसरू बिना बख़्तियार काकी के
गुरू होते नहीं गर तो भला शिष्य कहां होते

गुरू वो है जो भवसागर में तुझको तार देता है
गुरू वो है जो जीवन का सभी को सार देता है
गुरू की हर नज़र रहती है शिष्य की भलाई पर
गुरू वो है जो तेरी जीत पर सब हार देता है

गुरू कुम्हार की भांति हमें आकार देता है
कभी वो चोट करता है कभी आधार देता है
गुरू वो है जो करता है हमारी आत्मा पावन
गुरू वो है जो मन मस्तिष्क को आहार देता है

गुरू मिलते हैं मुश्किल से गुरू का मान तुम करना
गुरू का जो भी हो आदेश उस पर ध्यान तुम करना
सफलता उसको मिलती है जिसे सच्चा गुरू हासिल
गुरू मिल जाये क़िस्मत से निछावर जान तुम करना

ज़माने में कुछ ऐसे भी गुरू घंटाल होते हैं
सम्भलना तुम कि ये जी के बड़े जंजाल होते हैं
तुम्हें उल्लू बनाकर लूट लेंगे माल सारा ये
तुम्हें कुछ दे नहीं सकते ये ख़ुद कंगाल होते हैं
अकमल


रविवार, 2 सितंबर 2018

हम्द (अगस्त 2018) फ़ऊलुन


हम्द (अगस्त 2018) फ़ऊलुन
(1)
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
जो ख़ालिक़ है मालिक है राज़िक़ है सबका
जो ज़ाहिर है बातिन है नूरुल्हुदा है
(2)
बुलंद आसमां को बनाया है जिसने
सितारों से इसको सजाया है जिसने
ये शम्सो क़मर हैं जो सब गामज़न हैं
ख़ला में फ़िर इनको घुमाया है जिसने
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(3)
ज़मीं को बिछौना बनाया है जिसने
फ़िर उसमें से ग़ल्ला उगाया है जिसने
कहीं रेत है और कहीं पर समन्दर
कि ख़ुश्की तरी को बनाया है उसने
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(4)
जो बारिश से मुर्दा ज़मीं ज़िन्दा कर दे
जो ख़ाली हो बादल तो पानी से भर दे
जो ठ्ण्डी हवाओं से ख़ुशख़बरी भेजे
मुअत्तर ज़मीं आसमां सारे कर दे
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(5)
कि आदम को मिट्टी से जिसने बनाया
फ़िर इक बूंद से सिलसिला ये चलाया
कोई बाप है और कोई मां बहन है
ये रिश्ते बनाये तआल्लुक़ बनाया
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है

(6)
किया है उसी ने दरिन्दों को पैदा
हजर को शजर को परिन्दों को पैदा
हरेक शै को पैदा किया है उसी ने
दरख़्तों, चरिन्दों, फ़रिन्दों(अनार) को पैदा
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(7)
है पोशिश में जिसने समर को छुपाया
है ग़ल्ले के संग संग ये भूसा उगाया
गुलों को तअत्तुर उसी की अता है
है कोयल को नग़मा उसी ने सिखाया
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(8)
सभी के लिये है फ़ना इस जहां में
बक़ा बस उसी को है ज़ेबा जहां में
न वालिद है कोई न है कोई बेटा
वो मालिक है रब है जहां में सभी का
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(9)
हवा में परिन्दों को जो थामता है
जो कश्ती को दरियाओं में थामता है
पहाड़ों को जिसने ज़मीं पर जमाया
जो बादल को दोशे सबा थामता है
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(10)
वही दोनो मश्रिक़ का मग़रिब का मालिक
वही बहरे काहिल का अहमर क मालिक
जो मिलकर कभी मिल न पाते हैं बाहम
वही ऐसे दोनों समन्दर का मालिक
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(11)
वही तीन अंधेरों में हमको बनाता
वही पैदा करता है हमको जिलाता
वही ज़िन्दा रखता है हमको जहां में
वो जब चाहता फिर, है वापस बुलाता
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(12)
ये मीज़ान क़ायम उसी ने किया है
ये हक़ और इन्साफ़ उसकी ज़िया है
कि ऐराज़ जिसने भी इससे किया है
अज़ाबे इलाही से दोचार हुआ है
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है
(13)
हरेक शै के उसने बनाये हैं जोड़े
वही आसमां से है बादल निचोड़े
है सहरा को बंजर बनाया उसी ने
बनाया है मैंदा को हरियाली ओढ़े
वही है वही है वही तो ख़ुदा है
जो वाहिद है यकता है सबसे जुदा है



अकमल


अकमल 07/01/2018
बाक़ी सब कुछ मुहमल मुहमल
इक तेरी ही ज़ात है अकमल
इश्क,मुहब्बत,चाहत, उल्फत
फंस जाओगे ये है दलदल
तेरा जाना और ये आंखें
हर सु जैसे जलथल जलथल
तन को ढकना है बस मकसद
सूती कपडा हो या मख़मल
सुन कर तेरे जलवे जानां
दिल में हुई है हलचल हलचल
निस्बत जिसकी तुमसे होगी
हो जाएगा अफजल अफजल
तेरा चर्चा तेरी बातें
धड़कन धड़कन पलपल पलपल
जब से उसने सीखी उर्दू
वो लगता है अकमल अकमल



شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...