रविवार, 30 दिसंबर 2018

محترمہ گائے کا انٹرویو

محترمہ گائے کا انٹرویو 
محترمہ آداب  !
آداب  ! 
سوال  :  میں نے سوچا  شایدآپ کو آداب سننے اور آداب کا جواب دینے میں کچھ قباحت ہوگی  ؟
جواب  :  آپ نے ایسا کیوں سوچا  ؟
سوال  :  نہیں دراصل وہ ملک کے لوگ تو یہی سوچتے ہیں نہ کہ آپ ایک خاص قوم کی والدہ اور ماں ہو اور ایک خاص قوم کی جھنڈا بردار یا علم بردار ہو ۔
جواب  :  اور اگر آپ کسی پاکستانی یا امریکی گائے کا انٹرویو لیتے تو شاید ایسا نہ سوچتے  ؟  کیوں  ؟
جی شاید   خیر انٹرویو شروع کرتے ہیں۔
سوال  :  آپ خیریت سے ہیں  ؟
جواب  :  چہرے پر ہلکہ سا تبسم لاکر (مگر یہ تبسم آنکھوں میں اچانک اتر آئے شدید کرب کے احساس کو ڈھانپ نہ سکا) ، بس ٹھیک ہوں۔
سوال  :  آپ کی آنکھوں کا درد آپ کے چہرے کی مسکراہٹ کے دروغ کو عیاں کر رہا ہے۔ اور آپ کا جواب بھی اس بات کی پختگی کی نشاندہی کررہا ہے کہ آپ خوش تو بالکل نہیں ہیں۔
جواب  :  جناب زندگی میں کبھی کبھی آپ ایسے حالات سے دوچار ہوتے ہیں کہ چاہ کر بھی حقیقت کو بیان نہیں کر سکتےہیں کیونکہ کچھ لوگ جبراً آپ کے دہن میں اپنی  زبان رکھ دیتے ہیں۔
سوال  :  یہ کون لوگ ہیں جن کی جانب آپ اشارہ کر رہی ہیں  ؟
جواب  :  جو بات روز روشن کی طرح صاف ہو اس پر تبصرہ کیوں کیا جائے۔
سوال  :  بحرحال مجھے میرے پہلے سوال کا جواب مل گیا کہ آپ خوش تو نہیں ہیں ۔ چاہے آپ اس کا زبانی اقرار نہ کریں۔
جواب  :  کیا دنیا میں کوئی بھی ایسی غیرت مند مخلوق ہے کہ جس کے سر پر، مظلوم مخلوق خدا کے خون کے ایک دو نہیں سینکڑوں الزامات لگے ہوں اور وہ خوش و خرم رہ سکے  ؟
سوال  :  آپ کا اشارہ ان اموات (یا قتل کہیں تو بہتر ہوگا)کی جانب ہےجوآپ کے تقدس اور آپ کی محبت کی بنیاد پر واقع ہوئیں  ؟
جواب  :  محبت اور نفرت ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں  ؟  میری محبت اگر کسی مخلوق کی نفرت کا باعث بن جائے تو میں ایسی کسی بھی محبت کی خواہش مند نہیں ہوں  !  میں ایسی کسی بھی عقیدت ، تقدس اور انس کی خواہش مند نہیں ہوں کہ جس کی وجہ سے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کر دیا جائے  !  یہ کیسی محبت ہے  ؟  یہ کیسی عقیدت ہے  ؟  یہ کیسا تقدس ہے  ؟  جو انسانوں کو وحشی درندہ اور قاتل بنا دے۔
سوال  :  لیکن اکثریت آپ کو اپنی ماں تسلیم کرتی ہے اور اگر کسی کی ماں کے ساتھ کہیں کچھ غلط سرزد ہو تو غصہ آنا ایک لازمی امر ہے ۔
جواب  :  آپ کے سوال کا پہلا حصہ کہتا ہے کہ اکثریت مجھے اپنی ماں سمجھتی ہے ۔ محترم آپ بھی کہاں کس کے بہکاوے میں آ گئے ہیں  ؟  انسان نے کبھی اپنی سگی ماں کی پرواہ نہیں کی ہے پھر میں تو ٹھہری ایک حیوان ۔ ذرا اپنے گھروں میں تو جھانک کر دیکھئے ان گھروں میں بسنے والے آپ کے اپنے حقیقی والدین کے دلوں سے تو پوچھئے کہ ان کے کیا حال ہیں  ؟  اکثریت بدترین حالات سے دوچار ہے۔ وہ ماں جس نے آپ کو پیدا کیا جو آپ کی خالق مجازی ہے ، جو موت سے لڑ کر آپ کو دنیا میں لاتی ہے پھر رات دن محنت مشقت سے آپ کو پال پوس کر کسی قابل کرتی ہے ، آپ کا پیشاب پاخانہ صاف کرتی ہے ، اپنی بھوک پر آپ کی بھوک کو  مقدم جانتی ہے، اپنی نیند پر آپ کی نیند کو فوقیت دیتی ہے ، آپ کے دنیا میں آ جانے کے بعد اپنے لئے نہ کچھ سوچتی ہے نہ کرتی ہے نہ مانگتی بس ہر گھڑی ہر پل آپ کے لئے جیتی ہے آپ کے لئے سوچتی ہے اور جیسے ہی آپ جوان ہو جاتے ہیں آپ کی شادی کرتی دیتی ہے تو آپ اسی ماں کو بھول جاتے ہیں ۔ کیسے   ؟  یہ کیسے ممکن ہے  ؟  کیا سینے میں دھڑکنے والا دل ایک دم پتھر کا ہو جاتا ہے  ؟  کیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کہیں گم ہو جاتی ہے  ؟  کیا جذبات اور احساسات مفلوج ہو جاتے ہیں  ؟  کیا ہو جاتا ہے  ؟  جو انسان اپنی حقیقی ماں کی قدر نہیں کرتا ، اس سے محبت نہیں کرتا ، اس سے عقید ت اور انس نہیں رکھتا وہ بھلا مجھ جیسے سیدھے سادے جانور سے کیا محبت کرے گا۔ 
دوسری بات ماں کے ساتھ کہیں کچھ غلط ہونے پر غصہ آنا ایک لازمی امرہے، اگر آپ کو اپنی ماں سے محبت ہے تو  !  لیکن یہاں پھر وہی باتآتی ہے کہ جسے اپنی حقیقی ماں سے محبت نہیں ہے اسے مجھ سے کیا خاک محبت ہوگی  !
سوال  :  شاید کچھ لوگ آپ سے اس لئے محبت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خود اور ان کی فیملی آپ کا دودھ پیتی ہے اور دودھ کا قرض آسانی سے ادا نہیں کیا جا سکتا ہے  ؟
جواب  :  بالکل ٹھیک کہا آپ نے دودھ کا قرض ادا نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن سب سے پہلے اپنی حقیقی ماں کے دودھ کا قرض تو ادا کر دیجئے جناب  !  میرا نمبر تو اس کے بعد آئے گا۔ جو اپنی حقیقی ماں کا نہیں ہےوہ میرا کیا حق ادا کرے گا۔ 
سوال  :  آپ کا موقف کیا ہے  ؟  کیا اس کا مطلب یہ ہےکہ، یہ جو آپ سے محبت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سچ نہیں ہے  ؟
جواب  :  بالکل سچ نہیں ہے  !  یہ دعویٰ سرار جھوٹا ہے ۔  اچھا آپ بتائیں کیا آپ نے سڑکوں پر بھوکی پیاسی پھرتی ہوئی نڈھال اور کمزور گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے کوڑے کے ڈھیر پر اور گندے نالوں کی کیچڑ میں منھ مارتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے بھوک کی شدت سے پالی تھین کی تھیلیاں چباتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  اور پھر انہیں پالی تھین کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  کیا آپ نے راتوں کو چھپ چھپ کر کھیت کھلیانوں میں منھ مارتی ہوئی اور کسانوں کی گالیاں اور لاٹھیاں کھاتی ہوئی گایوں کو نہیں دیکھا ہے  ؟  شہر ہو یا دیہات ، سڑک ہو یا کھیت کھلیان ہر جگہ اس ملک میں بھوک سے تڑپتی ہوئی گایوں کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہاں اُسی ملک میں جہاں بقول آپ کے مجھے  100 کروڑ سے زیادہ لوگ اپنی ماں مانتے ہیں   !  دودھ کے لئے مجھے پالنے والے تب تک ہی گھر میں رکھتے ہیں جب تک میں منافع دیتی ہوں اور جیسے ہی میرا دودھ بند ہو جاتا ہے میں ان پر بوجھ بن جاتی ہوں لہٰذا مجھے یعنی اپنی ماں کو وہ بے یارو مددگار سڑک پر مرنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں ۔ کس منھ سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لوگ مجھے ماں کا درجہ دیتے ہیں۔وہ مجھے تبھی تک رکھتے ہیں جب تک میں ان کے لئے فائدہ کا سودا ہوں، بس۔  
سوال  :  مگر آپ کے لئے ملک بھر میں گو شالائیں تیار کی گئی ہیں جہاں آپ کے آرام اور آسائش کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگ اس کے لئے چندہ دیتے ہیں  ؟ کیا یہ محبت کی علامت نہیں ہے  ؟
جواب  :  محترم جناب یا تو آپ بہت بھولے ہیں یا پھر مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ سب بزنس ہے خالص بزنس یعنی تجارت۔ اس ملک میں وہ تجارت سب سے زیادہ کامیاب ہےجس کی بنیاد میں مذہب ہوتاہے۔ مذہب کے نام پر آپ اس ملک کی رعایا کو کچھ بھی بیچ سکتے ہیں ۔  یہاں تک کہ پیشاب اور پاخانہ جیسی نجس اشیا بھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب آپ کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ جیسے ہی آپ نے سوال کیا آپ کی خیریت میں فرق آ جائے گا۔ اس تجارت کی کامیابی کا یہی راز ہے۔ اس کا معاملہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسا سیکس کلینک چلانے والے ڈاکٹروں کا اورمریضوں کا معاملہ ہے۔ ایسے ڈاکٹروں کے پاس سیکس کا مریض چھپتا چھپاتا ہوا جاتا ہے ، ان کی بھاری بھرکم فیس ادا کرتا ہے اور فائدہ نہ ہونے کی صورت میں شرمندگی کی وجہ سے کوئی احتجاج بھی نہیں کر پاتا ہے بلکہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
بحرحال آپ جن گوشالائوں کا ذکر کر رہے تھے ان کا حال تو اور ابتر ہے ۔ اس سے بہتر تو یہی ہے کہ سڑک پر ہی آشیانہ بنالیا جائے۔ آپ اگر اخبار پڑھتے ہوں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان گوشالائوں میں گائیوں کے کیا حال ہیں  ؟  موت سے بدتر زندگی ہے یہاں  !  ہر سال انہیں گو شالائوں میں لاکھوں گائیں بے موت مر جاتی ہیں۔ کچھ بھوک کی شدت سے ، کچھ بیماری سے تو کچھ گندگی اور بد انتظامی کی وجہ سے۔ یہ سب پیسہ کمانے کے گورکھ دھندھے ہیں اور کچھ نہیں جناب۔
سوال  :  لیکن دنیا کے دیگر ممالک میں تو آپ کے حالات بہت بہتر ہیں   ؟
جواب  :  جہاں لوگ مجھے ماں کے بجائے گائے ہی مانتے ہیں وہاں ہمارے حالات بہتر ہیں۔ مغربی ممالک میں ہماری کوئی پوجا یا عبادت نہیں کی جاتی ہے مگر وہاں ہماری حالت بہت بہتر ہے۔
سوال  :  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں آپ کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے اس لئے آپ کے حالات بھی ٹھیک اسی طرح خراب ہیں جیسے انسانوں کی حقیقی مائوں کے  ؟
جواب  :  مسکراکر   !  بالکل درست فرمایا ۔ ماں ہونے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہم سے زیادہ اچھے حالات تو بیل اور بھینس کے ہیں ۔ وہ بھی تو ہمارے قبیلے کے ہیں  !  مگر کوئی ان کو باپ اور خالہ یا ماں نہیں مانتا اس لئے وہ ہم سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں ۔ اس ملک میں بس مائیں ہی پریشان ہیں  ! 
سوال  :  یہ بات تو آپ کی درست ہے کہ جو لوگ آپ کو ماں مانتے ہیں انہوں نے ہی آپ کی قدر نہیں کی ہے مگر مسلم لوگ آپ کو ماں نہیں مانتے ہیں اور جب وہ آپ کو قتل کرتے ہیں تو لوگوں کو برا لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنگا ہو جاتا ہے ۔
جواب  :  محترم شاید ان لوگوں کو جو کہ مجھے ماں کہتے ہیں یہ لگتا ہے کہ اپنی ماں کو اذیت اور تکلیف دینے کا حق صرف انہیں کا ہے ۔ کوئی دوسرا ان کی ماں کو اذیت نہیں دے سکتا ۔ دے بھی کیوں جب وہ اس کی ماں ہی نہیں ہے  ؟  کیا آپ کسی دوسرے کی ماں کو دکھ اور تکلیف دے سکتے ہیں  ؟  نہیں  !  آپ کو یہ حق حاصل ہی نہیں ہے  ؟  یہ تو بالکل غیر فطری، غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے جناب ۔ جس کی ماں ہے اسے ہی اپنی ماں کو ایذا ئیں دینے کا حق ہے دوسروں کو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ہندو اگر کسی گائے کو قتل کر دے ،کسی گو شالا میں سینکڑوں گائیں بھوک سے مر جائیں تو کوئی ردّ عمل نہیں ہوتا ہے مگر اگر کسی دوسرے مذہب کا شخص مجھے ہاتھ بھی لگا دے تو قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے یا یوں کہیں کہ میرے چاہنے والوں کی غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ 
اور پھر یہ آپ سے کس نے کہا کہ صرف مسلم لوگ ہی مجھے ذبح کرتے ہیں  ؟  گایوں کی حفاظت اور گایوں کے تقدس کی حفاظت کا نعرہ دے کر اس ملک کی سیاست میں بحران مچانے والے لوگ اور میرے سر پر قدم رکھ کر ملک کی قیادت کی باگ ڈور تھامنے والے لوگ کیا یہ نہیں جانتے ہیں کہ انہیں کے دور میں یہ ملک دنیا بھر میںسب سے زیادہ مقدار میں میرا گوشت سپلائی کرنے والا ملک بنا ہوا ہے  ؟  کیا وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ مسلم ناموں سے ملتے جلتے ناموں والی تمام کمپنیاں جو دنیا کو میرا گوشت سپلائی کر رہی ہیں وہ سب انہیں لوگوں کی ہیں جو مجھے اپنی ماں کہتے ہیں  ؟  میرے خون سے انہیں لوگوں کے ہاتھ رنگے ہیں جو مجھے ماں کہتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے وہ ہمیشہ دھوکہ سے وار کرتا ہے ۔ وہ پہلے محبت کے ذریعہ آپ کا یقین اور اعتماد فتح کرتا ہے اور جیسے ہی آپ اس کی اس محبت کے اور عقیدت کا دام میں گرفتار ہوتے ہیں وہ اپنی چال چل دیتا ہے اتنی پھرتی اور تیزی کے ساتھ کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے۔ 
سوال  :  ملک کے بہت سے حصوں میں توبڑی تعداد میں غیرمسلم بھی آپ کا گوشت تناول فرماتے ہیں  ؟
جواب  :  جی ہاں  !  جنوبی ہندوستان لیجئے۔ گووا لیجئے۔ اور میں تو کہتی ہوں کہ اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب صرف 14 فی صد ہے تو پھر لاکھو ٹن گوشت روزانہ کھاتا کون ہے  ؟
سوال  :  اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو ماتا کا درجہ دینے کے پیچھے بھی صرف دنیاوی فوائد کے حصول مزاج ہی کارفرما ہے  ؟
جواب  :  یقیناً سو فی صد
سوال  :  آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ کو جو ماں کا درجہ دیا گیا ہے وہ غلط ہے  ؟
جواب  :  بالکل غلط ہے ۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے جناب ۔ یہ جو لوگ سودیشی اور ودیشی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے ہیں اور کچھ لوگوں کی وطن پرستی پر یہ کہتے ہوئے الزام لگاتے ہیں کہ یہ باہری لوگ ہیں ،وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مجھے معبود، خدا یا مقدس ماننے کا سلسلہ بھی اس ملک میں شروع نہیں ہوا تھا ۔ یہ تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسراعیل کا ایجادکردہ فتنہ ہے۔ جب بنی اسراعیل کو خدا تعلی نے فرعون سے نجات عطا کی یعنی فرعون دریا میں غرق ہو گیا اور بنی اسراعیل دریا کے پار ہو گئے تو خدا تعلی نے اس قوم کا امتحان لینے اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے احکامات دینے کے لئے طلب کیا۔ جب کئی دنوں تک موسیٰ نہیں لوٹے اور بنی اسراعیل کے دلوں میں شیطان نے وسوسے ڈالنے شروع کئے تو ان کی اس تذبذب کی حالت کا فائدہ اٹھانے کے لئے انہیں کی قوم کے ایک جادوگر سامری نے مٹی سے ایک بچھڑا بنایا جس کے اندر سے اس کے جادو کی وجہ سے ایک آواز آیا کرتی تھی۔ اس جادوئی بچھڑے کے ذریعہ سامری نے ان میں سے بہت سے لوگوںکے دلوں کو
 مغلوب کر لیا اور ان سے کہا کہ دراصل یہی تمہارا حقیقی خدا ہے تم اس کے سامنے اپنا سر خم تسلیم کر لو۔ موسیٰ علیہ السلام کے بھائی نے لوگوں کو بہت سمجھایا مگر وہ سامری کے بہکاوے میں آ ہی گئے۔ جب موسیٰ واپس لوٹے تو انہیں یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ان کی قوم ایک گائے کے بچھڑے کی عبادت میں مصروف تھی۔اب آپ سمجھے دراصل میری عباد ت کا یہ فلسفہ بھی اس ملک کا نہیں ہے بلکہ باہری ہے۔ 
رہا ماں کا درجہ تو جناب میں تو پہلے ہی عرض کر چکی ہوں میں ایک گائے ہوں اور مجھے گائے ہی رہنے دیا جائے۔ مجھے انسان اپنی ماں بنا کر اپنے قبیلے میں شامل نہ کرے تو بہتر ہے۔ میں ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتی ہوں جو نہ کسی کو دکھ دیتی ہےنہ تکلیف ۔ جبکہ انسانوں کی ذات میں ہی دھوکہ، بغض، عداوت اور نفرت ہے ۔ مجھے ایک گائے ہی رہنے دو مجھے اپنی ماں نہ بنائو ۔ یہ ایک گائے کی دردمندانہ اپیل ہے، التجا ہے۔ اے انسانوں  ! میرے نام پر اپنے عزیزوں ، اپنے ہم وطنوں اور دوستوں کا خون مت بہائو۔ میرے نام پر ناحق لوگوں سے پیسہ نہ وصول کرو اور میرے نام پر اس ملک کو خانہ جنگی اور بربادی کی جانب نہ ڈھکیلو۔ خدارا خود پر اور مجھ پر رحم کرو ۔ اپنے اشرف المخلوق ہونے کے شرف کا لحاظ کرو، ورنہ کل قیامت کے دن خدا کو کیا جواب دو گے۔ 




कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...