ایک انٹرویو
سوال : راجستھان کے زیادہ تر مسلم نوجوان اردو ٹیچر ہی کیوں بننا چاہتے ہیں ؟
جواب : اس کی وجہ مسلم نوجوانوں کی اردو سےمحبت ہے؟اچھا !
سوال : تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہمیں کسی زبان سے محبت ہو تو ہمیں اس محبت کا حق ادا کرنے کے لئے اس زبان کے استاد کی سرکاری نوکری کرنی چاہئے ؟
جواب : اس میں قباحت کیا ہے !
سوال : کوئی قباحت نہیں ہے مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ اردو کے سرکاری اور غیر سرکاری اساتذہ کا حال یہ ہے کہ وہ درست املا کے ساتھ ایک سطر بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتےـ انہیں اردو حروف تہجی تک کا تو علم نہیں ہے. یہ کیسی محبت ہے ؟
جواب : ہاں یہ بات درست ہے کہ اردو سے بی اے اور ایم اے کر چکے طلبہ کا املا تک درست نہیں یے اور شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں زبان سے دلچسپی نہیں ہے بلکہ سرکاری نوکری سے دلچسپی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سارے اردو ٹیچر اسکولوں میں اردو کی بجائے دیگر مضامین پڑھا رہے ہیں یا گھر کی محبت کے چکر میں نزدیکی ڈپارٹ مینٹ میں ڈیپوٹیشن کرا لیتے ہیں
سوال : اس کا مطلب نوکری لگتے ہی سچ سامنے آجاتا ہے یعنی اردو کی محبت کا ڈھونگ کھل جاتا ہے.
جواب : شاید بات کافی حد تک درست ہے. مگر کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ بھی ہیں جو اپنی ذمہ داری کو بہترین طریقہ سے انجام دے رہے ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جی جان سے اس کو فروغ دینے میں مصروف ہیں.
سوال : ایک شرم ناک حرکت کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کہ آج کل اردو والوں میں بڑا فروغ پا چکی ہے اور وہ ہے اردو کو ہندی رسم الخط میں تحریر کرنا. اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
جواب : کسی بھی زبان کی حقیقی پہچان اس کے رسم الخط سے ہی ہوتی ہے اسی لئے اردو کے مخالف ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ ہمیں اردو سے نہیں بلکہ اس کے رسم الخط سے اعتراض ہے کیونکہ اس کی وجہ سے یہ مسلمان لگنے لگتی ہے ! اردو کو ہندی رسم الخط میں لکھنے والے دراصل اس کے قتل میں برابر کے شریک ہیں.
سوال : کچھ شاعر اپنے مجموعے اس لئے ہندی میں شائع کرواتے ہیں کہ اردو کے شائقین اسے پڑھ سکیں ـ یہ کیا ماجرا ہے ؟
جواب : جسے اردو سے محبت ہے یا جسے یہ زبان اپنی جانب راغب کرتی ہے اور جنہیں اس کی شیرینی پسند ہے تو وہ اس کا رسم الخط بھی ضرور سیکھیں گے. مگر تعجب ہے اردو والوں پر جو ایسے شائقین کو اردو سکھانے کے بجائے اور انہیں اس کی رغبت دلانے کے بجائے خود ہندی میں لکھنے لگتے ہیں. ایسے لوگوں کی رہنمائی کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ہندی رسم الخط کے ذریعہ اردو کے الفاظ کی صحیح ادائگی ممکن نہیں ہے. انگریزی کو بھی تو ہم انگریزی رسم الخط میں ہی لکھتے اور پڑھتے ہیں ـ
سوال : بحرحال میں وہیں آتا ہوں جہاں سےمیں نے آغاز کیا تھا یعنی راجستھان کے مسلم نوجوان صرف اردو ٹیچر ہی کیوں بننا چاہتے ہیں دیگر مضامین کی جانب ان کارحجان کیوں نہیں ہے ؟
جواب : جواب بالکل سیدھا سا ہے کہ اردو میں مقابلہ دیگر مضامین کے مقابلہ بہت کم ہے یعنی کم محنت اور نوکری کی زیادہ توقع.
سوال : اور صرف ٹیچر ہی کیوں ؟ ڈاکٹر، انجینئر، آرکیٹکٹ، تاجر، کھلاڑی،چارٹرڈ اکائونٹنٹ سیاست داں وغیرہ کیوں نہیں ـ
جواب : شاید مسلم نوجوان سہل پسند ہے یا پھر کسل پسند جو سخت محنت سے کتراتا ہے؟ یا پھر ناامید؟ کہ اسے لگتا ہے کہ وہ یہ سب کر ہی نہیں سکتا ـ
اسی لئے بی ایڈ کرکے بس اردو کی ویکینسی کی راہ تکتے رہتے ہیں.
سوال : اور مدرسہ پیراٹیچر ؟
جواب : مدرسہ پیراٹیچر بھی اسی کسل کا شکار ہیں. انہیں معلوم ہے مسابقتی امتحانات میں پاس ہونا ان کے بس کا نہیں ہے اس لئے اس امید میں یہیں پڑے رہو کہ کبھی تو سرکار ہمیں کہیں ایڈجسٹ کر دےـ
سوال : اور یہ سیکینڈ گریڈ وغیرہ کے امتحان کے بعد جو لوگ فیس بک وہاٹس ایپ پر اپنی اپنی میرٹ لسٹ بناتے رہتے ہیں ؟
جواب : قہقہہ ! ایسے لوگوں میں توکل کی کمی ہوتی ہے یعنی خدا پر بھروسہ نہیں ہوتاـ انہیں خود پر بھی بھروسہ نہیں ہوتا.
سوال : آخری سوال کیا اسکولوں میں اردو کھلنے سے اردو زندہ ہو جائے گی؟
جواب : زبان کی زندگی اس کے استعمال پر منحصر ہے جو زبان معاشرہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتا ہے وہی زبان زندہ رہتی ہے پھر چاہے وہ اسکول میں پڑھائی جاتی ہو یا نہیں.
مثال کے طور پر راجستھان میں راجستھانی زبان زندہ و جاوید ہے جبکہ اسکولوں میں نہیں پڑھائی جاتی ہے وہیں دوسری جانب ملک کے تمام اسکولوں میں سنسکرت پڑھائی جاتی ہے مگر پھر بھی یہ زبان مر چکی ہے کیونکہ معاشرے میں اس کا استعمال صفر ہے.
سوال : اس کا مطلب ؟
جواب : سیدھا سا مطلب ہے اگر آپ کو اردو سے واقعی محبت ہے اور آپ اسے بچانا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال شروع کیجئے. اپنی بات چیت میں، اپنی خط و کتابت میں، موبائل پر، سوشل میڈیا میں، شادی اور غمی کے موقع پر چھپنے والے دعوت ناموں وغیرہ میں، اپنی دکانوں کے سائن بورڈوں اور اشتہاروں میں غرض ہرجگہ اس کا استعمال کیجئے زبان ضرور زندہ رہیگی.
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें