बुधवार, 27 सितंबर 2017

حساس


رات کے تقریباً  سوا نوَ  بجے تھے۔ رجنی اور اس کے دونوں بچے لابی میں بیٹھے ایک مشہور ڈیلی سوپ دیکھ رے تھے۔ٹی وی کی آواز کافی تیز تھی۔ 
سیرئیل میں ایک بہو اپنی ساس کو محض اس جرم کی پاداش میں کھری کھوٹی سنا رہی تھی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے ساس نے، اس سے پوچھے بنا کچن میں جاکر کوکر سے سالن نکال لیا تھا ۔ 
ساس کی آنکھیں پرنم اور زبان خاموش تھی۔ 
بہو نے چلاتے ہوئے آخری کلمات کہے  ’’اب یہ رونے دھونے کی نوٹنکی بند کیجئے ۔ ان کے آنے کا وقت ہو رہا ہے ۔ خبردار جو ان کے سامنے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ ایک تو دن بھر دفتر میں سر پھوڑتے ہیں گھر میں آکرپھر تمہاری نوٹنکی دیکھیں گے۔‘‘
سیرئیل دیکھ رہی رجنی کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہو چکی تھیں۔ یہ دیکھ کر اس کی چھوٹی بیٹی ناراض ہوتے ہوئے بولی  ’’ ماں جب تمہارا دل اتنا حساس ہے تو پھر تم یہ سیرئیل کیوں دیکھتی ہو‘‘
رجنی اپنے آنسوئوں کو پلّو سے پونچھنے لگی اور کچھ نہ بولی۔
گھر کے آنگن میں ، پلنگ پر ، رجنی کی ساس شدت کی بھوک سے بے چین ہو رہی تھی اور اس انتظار میں تھی کہ کب سیرئیل ختم ہوگا اور کب اسے کھانا نصیب ہوگا۔

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...