غزل
عداوت اندھیروں کو ہے روشنی سے
چراغوں کو تم اپنے رکھنا سمبھالے
خدا پر ہمیں ہے مکمل بھروسہ
عدو سے کہو چاہے جس کو بلا لو
اگر اس کا دعویٰ صداقت سے پُر ہے
تو پھر آ کے وہ مجھ سے نظریں ملا لے
گلوں سی مہک گر تو لہجے میں چاہے
تو اپنی زباں پر یہ اردو سجا لے
قریب انتخاب ہیں سیاست سے کہہ دو
کہ ترشول،تلوار، بھالے منگا لے
غم زندگی اب تو حد ہو گئی ہے
کہو موت سے اب تو آ کے سمبھالے
اگر دل میں تیرے کدورت نہیں ہے
تو آ جا ہمیں پھر گلے سے لگا لے
کہ جو سر بلندی زمانے میں چاہے
تو در پہ خدا کے وہ سر کو جھکا لے
یہ قرآن اکمل صدا دے رہا ہے
مجھے تھام لے تو مقدر جگا لے
sep 2017
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें