बुधवार, 27 सितंबर 2017

غزل

عداوت اندھیروں  کو ہے روشنی سے
چراغوں کو تم اپنے رکھنا سمبھالے

خدا پر ہمیں ہے مکمل بھروسہ
عدو سے کہو چاہے جس کو بلا لو

اگر اس کا دعویٰ صداقت سے پُر ہے
تو پھر آ کے وہ مجھ سے نظریں ملا لے

گلوں سی مہک گر تو لہجے میں چاہے
تو اپنی زباں پر یہ اردو سجا لے

قریب انتخاب ہیں سیاست سے کہہ دو
کہ ترشول،تلوار، بھالے منگا لے 

غم زندگی اب تو حد ہو گئی ہے
کہو موت سے اب تو آ کے سمبھالے 

اگر دل میں تیرے کدورت نہیں ہے
تو آ جا ہمیں پھر گلے سے لگا لے

کہ جو سر بلندی زمانے میں چاہے
تو در پہ خدا کے وہ سر کو جھکا لے

یہ قرآن اکمل صدا دے رہا ہے
مجھے تھام لے تو مقدر جگا لے

sep 2017

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...