غزل
یہ عشق کے انجام سے انجان بہت ہے
سینے میں جو دل ہے وہ نادان بہت ہے
سانسوں کی مہک اور یہ مسکان تمہاری
جینے کے لئے بس یہ سامان بہت ہے
نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
پر عشق کی بیماری کا امکان بہت ہے
نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
ناسازئ دل کا مگر امکان بہت ہے
سکھلا وہ گئے ہم کو جینے کا قرینہ
امت پہ نبی کا یہ احسان بہت ہے
میں جن کی محبت میں بدنام ہوا ہوں
وہ میری محبت سے انجان بہت ہے
ماں باپ کے دم سے ہی رونق ہے مکاں میں
ورنہ تو حویلی یہ ویران بہت ہے
ایک تیرے بنا اکمل دل میں ہے خلش سی
یوں دل کو لگانے کے سامان بہت ہیں
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें