बुधवार, 27 सितंबर 2017

غزل

غزل
یہ عشق کے انجام سے انجان بہت ہے
سینے میں جو دل ہے وہ نادان بہت ہے

سانسوں کی مہک اور یہ مسکان تمہاری
جینے کے لئے بس یہ سامان بہت ہے

نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
پر عشق کی بیماری کا امکان بہت ہے

نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
ناسازئ دل کا مگر امکان بہت ہے

سکھلا وہ گئے ہم کو جینے کا قرینہ
امت پہ نبی کا یہ احسان بہت ہے

میں جن کی محبت میں بدنام ہوا ہوں 
وہ میری محبت سے انجان بہت ہے

ماں باپ کے دم سے ہی رونق ہے مکاں میں 
ورنہ تو حویلی یہ ویران بہت ہے

ایک تیرے بنا اکمل دل میں ہے خلش سی
یوں دل کو لگانے کے سامان بہت ہیں

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...