غزل
تیرے اعمال کی لعنت ہے مسلط تجھ پر
اب فقط شور مچانے سے کہاں کچھ ہوگا
تجھے گر چاہئے انصاف فسادی بن جا
در پہ انصاف کے جانے سے کہاں کچھ ہوگا
بن کے عامل ہی بدل سکتے ہو اپنی قسمت
صرف باتوں کو بنانے سے کہاں کچھ ہوگا
تربیت کرنے کے ایّام تو گزرے کب کے
ان کو اب آنکھ دکھانے سے کہاں کچھ ہوگا
جب دلوں میں ہے کدورت ہی کدورت اکمل
پھر بھلا ہاتھ ملانے سے کہاں کچھ ہوگا
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें