बुधवार, 27 सितंबर 2017


غزل

تیرے اعمال کی لعنت ہے مسلط تجھ پر
اب فقط شور مچانے سے کہاں کچھ ہوگا


تجھے گر چاہئے انصاف فسادی بن جا 
در پہ انصاف کے جانے سے کہاں کچھ ہوگا

بن کے عامل ہی بدل سکتے ہو اپنی قسمت
صرف باتوں کو بنانے سے کہاں کچھ ہوگا

تربیت کرنے کے ایّام تو گزرے کب کے
ان کو اب آنکھ دکھانے سے کہاں کچھ ہوگا

جب دلوں میں ہے کدورت ہی کدورت اکمل 
پھر بھلا ہاتھ ملانے سے کہاں کچھ ہوگا

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...