बुधवार, 27 सितंबर 2017

बाबा

बाबा
बचपन में माँ कहती थी
शैतानी गर तू करेगा
तो
बाबा आ जाएगा
और तुझको पकड़ वो लेगा
पर आज जो मैं ने देखा
तो कुछ न समझ में आया
जो खुद ही गया है पकड़ा

वो हमको क्या पकड़ेगा 

धर्म

धर्म
धर्म का ये भेष है
जैसे कोई लाश हो
आत्मा निकल चुकी

जिस्म जिस्म शेष है 

rkfj"kh rsjk dqlwj D;k Fkk \

rkfj"kh rsjk dqlwj D;k Fkk \
bLyke ;kfu lykerh vkSj 'kkafr A ftl etgc dk uke gh 'kkafr vkSj lykerh gks ml etgc ds uke ij vxj nqfu;k Hkj esa ukgd csdlwj yksxksa dk dRy fd;k tk jgk gks rks blls T;knk 'keZukd ckr vkSj D;k gks ldrh gS \
dksbZ fnu ugha xqtjrk tc etgc ds uke ij csxqukg yksxksa ds dRy dh [kcj v[kckj dh lqf[kZ;ka u curh gksa A blh dM+h esa dy cXykns'k esa fgUnqLrku dh ,d eklwe csVh rkfj"kh us vius çk.k xaok fn;s A ?kVuk fny ngykus okyh gS A ,d csVh tks vius firk ls feyus xbZ mls D;k ekywe Fkk fd ;s mldh vius firk ls vk[kjh eqykdkr gksxh A exj ,d rkfj"kh ugha] flQZ fgUnqLrku dh ,d csVh ugha cfYd iwjh nqfu;k dh 'kghn csfV;ka vkSj csVs vkSj cki vkSj eka;s] tgka dgha Hkh oks gSa] viuh eklwe vka[kks ls nqfu;k ds ftUnk yksxksa dh rjQ bl mEehn ls ns[k jgs gksaxs fd dc [kRe gksxk ;s [kwuh  flyflyk \ dc rd csxqukg yksxksa dk [kwu etgc ds uke ij cgk;k tkrk jgsxk \ dc rd \
dc rd yksx vius futh Qk;ns ds fy;s /keZ dk bLrseky nks /kkjh ryokj dh rjg djrs jgsaxs A ;s yksx ,d rjQ ukStokuksa dks fnxHkzfer djds ekSr ds gokys djrs gSa vkSj nwljhrjQ csdlwj yksxksa ds [kwu ls tehu yky djrs gSa A D;k gekjh ;s [kkeks'kh lSadM+ksa rkfjf"k;ksa dh 'kgknr dk vieku ugha gS \ D;k gekjh ;s [kkeks'kh gesa Hkh bu dkfryksa dh dSVsfxjh esa [kM+k ugha djrh \ D;ksafd gtjr eqgEen us rks Qjek;k Fkk ÞtqYe ds f[kykQ [kkeks'kh tkfye vkSj mlds tqYe dk leFkZu gSß A ;kn rks djks bLyke D;k dgrk gS \ gtjr eksgEen us Qjek;k Fkk eTywe ¼ihfM+r½ vkSj tkfye nksuks dh enn djks A yksxksa us iwNk ihfM+r dh enn rks le> esa vkrh gS tkfye dh enn dSls djsa \ vki us Qjek;k tkfye dk gkFk idM+ dj vkSj mlds tqYe dk çfrjks/k djds tkfye dh enn djks A exj D;k ge viuk QtZ fuHkk jgs gSa \
       lquk gS vkradokfn;ksa us rqEgsa bl fy;s ekj fn;k fd rqEgsa dqjvku dh vk;rsa ugha vkrha Fkha A exj loky ;s gS fd D;k mu dks dqjvku dh vk;rsa le> esa vkrh gSa \ tokc Li"V gS dnkfi ugha D;ksafd ftls dqjvku dk Kku çkIr gks tk;s oks ,slk f?kukSuk vkSj dqjvku dh vk;rksa ds foijhr dk;Z dj gh ugha ldrk Adqjvku rks dgrk gS fd ftlus ukgd ,d balku dks dRy fd;k ekuks mlus lkjh balkfu;r dks dRy fd;k vkSj ftlus ,d balku dh tku cpkbZ ekuks mlus lkjh balkfu;r dks cpk fy;k A ¼vy&ekbZnk #dw 5½ A fQj dqjvku ds uke ij yksxksa dk ujlagkj dksbZ dSls dj ldrk gS \ esjk dqjvku ,sls yksxksa dks eqtkfgn ugha dgrk esjk dqjvku ,sls yksxksa dks Qlknh ¼vkradoknh½ dgrk gS nsf[k;s vkSj tc muls dgk tkrk gS fd tehu esa Qlkn ¼vkrad ½ er djks rks ;s yksx dgrs gSa ge rks bLykg djus okys gSa] ;kn j[kks cs'kd ;gh yksx Qlknh ¼vkradh½ gSa] bUgsa bldk 'kÅj ugha gS A ¼vy&cdjk&#dw 6½ A
vkSj fQj D;k gekjs lkeus gtjr eqgEen dh ftUnxh dk uewuk ugha gS fd vkius tax ds nkSjku Hkh vkSjrksa] cPpksa vkSj cw<ksa dks rdyhQ igqapkus ls euk fd;k A eDdk esa tc vki fot;h gksdj nkf[ky gq;s rks vki us u fdlh dks ekjk] u fdlh dks ltk nh cfYd vke ekQh dk ,syku fd;k tcfd eDdk okfl;ksa us vki ij vkSj vki ds lkfFk;ksa ij tqYe dh barsgk dj nh Fkh exj vki us cqjkbZ dks HkykbZ ls Vkyus dh rkyhe nh A
eqlyekuksa vc cgqr gks pqdk gS A bLyke ds uke ij tgka dgha Hkh xyr gks jgk gS gesa mldk fojks/k djuk iM+sxk A ;kn j[kks vYykg us dqjvku esa gesa D;k mins'k fn;k gS  Þ cs'kd rqe csgrjhu mEer gks D;ksafd rqe HkykbZ dh rjQ cqykrs gks vkSj cqjkbZ dk fojks/k djrs gks ß gesa lkspuk gksxk] gesa viuk csgrjhu mEer gksus dk QtZ vnk djuk gksxk A gesa bl [kwu [kjkcs dk fojks/k djuk gksxk] gj dher ij A ;gh oä gS A ,slk u gks fd cgqr nsj gks tk;s A vkSj ;gh rkfj"kh dks lPph J}katfy gksxh Avdey ubZe flíhdh tks/kiqj 9413844624

                                                `

بے عنوان

فون کی گھنٹی پھر بجنے لگی۔ اس نے سرہانے رکھا اپنا موبائل اٹھایا ، نام دیکھا، اس کے بڑے بیٹے کا فون تھا۔ ادھر سے پریشان لہجے میں آواز آئی۔
’’ہیلو پاپا ، آپ کیسے ہیں  ؟  اب طبیعت کیسی ہے  ؟  ڈاکٹر نے کیا بتایا  ؟  دوا تو کھا رہے ہیں نا برابر  ؟  اور ہاں آپ بالکل پریشان مت ہونا ۔ بس اچھے سے اپنا علاج کرانا۔ میں اور پیسے ڈال رہا ہوں آپ کے اکائونٹ میں۔ اچھا اب رکھتا ہوں۔
وہ کل صبح ٹہلنے جاتے وقت ایک بائک سوار سے ٹکرا گیا تھا ۔ ٹانگ میں ہیئر لائن فریکچر ہو گیا تھا۔ بائک سوار بڑا خوش اخلاق تھا وہ ہی اسے اسپتال میں ایڈمٹ کروا کرگیا تھا۔اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے اسے تیسرا دن ہے مگر ایک پل بھی ایسا نہیں گزرا کہ یہ فون خاموش رہا ہو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں ۔کتنے لوگ ہیں جو میری پرواہ کرتے ہیں۔ خاندان کا کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جس نے مجھے فون نہیں کیا ہوگا۔ سبھی مستقل میرے حال چال پوچھ رہے ہیں۔ اور میرے چاروں بیٹے ۔ انہوں نے بھی تو کتنی بار فون کیا۔ چاروں نے نے کتنے سارے پیسے میرے اکائونٹ میں ٹرانسفر کر دئے تاکہ میں اپنا علاج اچھے سے کرا سکوں۔ 
تبھی اس کے خیالوں کا سلسلہ توڑتے ہوئےنرس کی آواز گونجی  ’’بابا وہ آپ کو دوا کا پرچہ دیا تھا ۔ آپ نے ابھی تک دوائیں نہیں منگوائیں ہیں۔ آپ کی جانچ رپورٹ بھی ابھی تک نہیں آئی ہے   ؟
نرس نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔ بابا کی خاموشی نے نرس کو پریشان کر دیا ۔ اس نے الجھتے ہوئے لہجے میں کہا ۔ ’’بابا آپ کے ساتھ کون ہے  ؟  اسے بلائیے اور یہ دوائیں اور رپورٹ منگوائیے۔ جلدی، ڈاکٹر صاحب رائونڈ پر آتے ہونگے۔‘‘یہ کہہ کر وہ جواب کا انتظار کئے بنا اگلے مریض کے بیڈ کی جانب بڑھ گئی۔
چند منٹ پرانا احساس اچانک غائب ہو گیا۔ اس کی خاموش نظریں اپنے قریب کے بیڈ پر لیٹے بوڑھے مریض کو تک رہی تھیں۔ بوڑھے کے سرہانے اس کی بوڑھی بیوی بیٹھی اس کا سر اپنی انگلیوں سے سہلا رہی تھی۔ بوڑھے مریض نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور اس کے چہرے پر سکون و اطمینان کی چمک جھلک رہی تھی۔اس نے اپنی نظروں کو گھمایا اور چھت کو تکنے لگا۔ اس کی خاموش نظریں چھت کو تک رہی تھیں مگر ان میں نہ جانے کیوں آنسو چھلک آئے تھے۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اتنے سارے لوگوں کو اس کی پرواہ ہے پھر بھی وہ اسپتال میں اکیلا کیوں ہے  ؟
 

حساس


رات کے تقریباً  سوا نوَ  بجے تھے۔ رجنی اور اس کے دونوں بچے لابی میں بیٹھے ایک مشہور ڈیلی سوپ دیکھ رے تھے۔ٹی وی کی آواز کافی تیز تھی۔ 
سیرئیل میں ایک بہو اپنی ساس کو محض اس جرم کی پاداش میں کھری کھوٹی سنا رہی تھی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے ساس نے، اس سے پوچھے بنا کچن میں جاکر کوکر سے سالن نکال لیا تھا ۔ 
ساس کی آنکھیں پرنم اور زبان خاموش تھی۔ 
بہو نے چلاتے ہوئے آخری کلمات کہے  ’’اب یہ رونے دھونے کی نوٹنکی بند کیجئے ۔ ان کے آنے کا وقت ہو رہا ہے ۔ خبردار جو ان کے سامنے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ ایک تو دن بھر دفتر میں سر پھوڑتے ہیں گھر میں آکرپھر تمہاری نوٹنکی دیکھیں گے۔‘‘
سیرئیل دیکھ رہی رجنی کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہو چکی تھیں۔ یہ دیکھ کر اس کی چھوٹی بیٹی ناراض ہوتے ہوئے بولی  ’’ ماں جب تمہارا دل اتنا حساس ہے تو پھر تم یہ سیرئیل کیوں دیکھتی ہو‘‘
رجنی اپنے آنسوئوں کو پلّو سے پونچھنے لگی اور کچھ نہ بولی۔
گھر کے آنگن میں ، پلنگ پر ، رجنی کی ساس شدت کی بھوک سے بے چین ہو رہی تھی اور اس انتظار میں تھی کہ کب سیرئیل ختم ہوگا اور کب اسے کھانا نصیب ہوگا۔


غزل

تیرے اعمال کی لعنت ہے مسلط تجھ پر
اب فقط شور مچانے سے کہاں کچھ ہوگا


تجھے گر چاہئے انصاف فسادی بن جا 
در پہ انصاف کے جانے سے کہاں کچھ ہوگا

بن کے عامل ہی بدل سکتے ہو اپنی قسمت
صرف باتوں کو بنانے سے کہاں کچھ ہوگا

تربیت کرنے کے ایّام تو گزرے کب کے
ان کو اب آنکھ دکھانے سے کہاں کچھ ہوگا

جب دلوں میں ہے کدورت ہی کدورت اکمل 
پھر بھلا ہاتھ ملانے سے کہاں کچھ ہوگا

غزل

عداوت اندھیروں  کو ہے روشنی سے
چراغوں کو تم اپنے رکھنا سمبھالے

خدا پر ہمیں ہے مکمل بھروسہ
عدو سے کہو چاہے جس کو بلا لو

اگر اس کا دعویٰ صداقت سے پُر ہے
تو پھر آ کے وہ مجھ سے نظریں ملا لے

گلوں سی مہک گر تو لہجے میں چاہے
تو اپنی زباں پر یہ اردو سجا لے

قریب انتخاب ہیں سیاست سے کہہ دو
کہ ترشول،تلوار، بھالے منگا لے 

غم زندگی اب تو حد ہو گئی ہے
کہو موت سے اب تو آ کے سمبھالے 

اگر دل میں تیرے کدورت نہیں ہے
تو آ جا ہمیں پھر گلے سے لگا لے

کہ جو سر بلندی زمانے میں چاہے
تو در پہ خدا کے وہ سر کو جھکا لے

یہ قرآن اکمل صدا دے رہا ہے
مجھے تھام لے تو مقدر جگا لے

sep 2017

غزل

غزل
یہ عشق کے انجام سے انجان بہت ہے
سینے میں جو دل ہے وہ نادان بہت ہے

سانسوں کی مہک اور یہ مسکان تمہاری
جینے کے لئے بس یہ سامان بہت ہے

نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
پر عشق کی بیماری کا امکان بہت ہے

نظریں تو ملا لوں میں اس ماہ جبیں سے
ناسازئ دل کا مگر امکان بہت ہے

سکھلا وہ گئے ہم کو جینے کا قرینہ
امت پہ نبی کا یہ احسان بہت ہے

میں جن کی محبت میں بدنام ہوا ہوں 
وہ میری محبت سے انجان بہت ہے

ماں باپ کے دم سے ہی رونق ہے مکاں میں 
ورنہ تو حویلی یہ ویران بہت ہے

ایک تیرے بنا اکمل دل میں ہے خلش سی
یوں دل کو لگانے کے سامان بہت ہیں

गुरुवार, 21 सितंबर 2017

शनिवार, 16 सितंबर 2017

संवेदना

मैं इक दांत हूँ
ताक़तवर और संवेदनशील
ये संवेदना मुझे भान देती है,
क्या किया जाना है ? इसका ज्ञान देती है
किसे मुंह में घुमाना है ?
और किसे, कितना  चबाना है |
किसे तोडना, किसे चूसना है
और कब, कहां, किसे थूकना है |

ये संवेदना बहुत जरूरी है
परन्तु अति हर चीज की बुरी है
इसलिए जब कोई दांत
हो जाता है अतिसंवेदनशील  
नहीं दी जा सकती है कोई ढील
क्योकिं इससे समस्या जन्म लेती है
और हर चीज मुंह में तकलीफ देती है
खटटा हो या मीठा, ठन्डा हो या गरम
कड़वा हो या नमकीन, सख्त हो या नरम

इसका इलाज भी जरूरी है
क्योंकि
संवेदना की अति भी बुरी है  
इसके कारण
अच्छा भी बुरा लगता है  
फूल भी छुरा लगता है
संवेदनाओं पर नियंत्रण जरूरी है
चिकित्सक का निमंत्रण जरूरी है

चिकित्सक चिकित्सा करता है
दांत की संवेदना कम करता है
और यदि ये संभव नहीं हो पाता है
तो वो देखता है
और दांत को उखाड़ फैंकता है
ये जरूरी है इससे पहले कि
ये संक्रमण आगे बढे
और दूसरे दांतों में इसका रंग चढ़े

संवेदना हमारी धुरी  हैं
परन्तु इसकी अति बुरी है
फिर चाहे दांत में हो या मन में
देश में हो या आँगन में


रविवार, 10 सितंबर 2017

مختصر

جیسے کوئی جادو ہے اور میں ہوںمخ
ابمختصر ہے زندمگی تو الفتوں کی بات کر تو بس یہ اردجیسے کوئی جادو ہےجیسے کوئی جادو ہے اور میں مخہوںمختصر ہے زندگی تو الفتوں کی بات کر
اب تو بس یہ اردو ہے اور میں ہوں
اکمل اور میں ہوں
اب تو بس یہ اردو ہے اور میں ہوں
اکملو ہے اور میں ہوں
اکمل

कौन हूं में

कौन हूं में


कौन हूं में ?

जब से मन में
उपजा मेरे
प्रश्न है ये
मौन हूं में

अकमल

धर्म का सार


धर्म का सार
हाथ में तलवार है

द्वेष की भरमार है
सुर्ख़ है सारी धरा
लाशों का अम्बार है

ज़ुल्म है अौर जब्र है

साया है न अब्र है
जो भी है कमज़ोर बस
उस पे अत्याचार है

धर्म का न मर्म अब

ख़ून है बस गर्म अब
ज़िन्दा हैं सब नफरतें
मर गया बस प्यार है

सच के पीछे झूठ है

धर्म की ये लूट है
सुबह को जो है गुरु
रात को वो यार है

अौर कितने दिन की है

ग़फलतों की नींद ये
ख़ूने नाहक़ ज़ुल्म है
धर्म का ये सार है


अकमल

परमवीर अब्दुल हमीद

परमवीर अब्दुल हमीद

था धर्म ज़ात से बाला
इक नौजवान मतवाला
हां हमीद नाम है उसका
वो मुल्क का था रखवाला

थी जंग वही पैंसठ की
जो थी एक ज़िद और हठ की
इसी जंग का था वो सिपाही
और नाम कमाने वाला

छक्के यूं छुड़ाये उसने
छ: टैंक उड़ाये उसने
जो काम सै़कड़ों का था
वो तन्हा ही कर डाला

इस देश की ख़ातिर उसने
संकोच किया न एक पल
जब जामे शहादत पाया
हंसते हंसते पी डाला

करते हैं नमन हम उसको
ये श्रद्वा सुमन हम उसको
वो प्रेरणा है हम सबकी
वो राह दिखाने वाला

हर जीत उसी को समर्पित
ये गीत उसी को समर्पित
जो देश के हर दुश्मन को
हो धूल चटाने वाला

अकमल

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...