गुरुवार, 31 अक्टूबर 2019

سیلفی

نمازوں کی سیلفی تلاوت کی سیلفی
کہ عمرہ و حج کی، سعادت کی سیلفی
صبح شام سیلفی، ہے دن رات سیلفی
ضروری ہے، ہر ایک حالت کی سیلفی
امانت خیانت خباثت کی سیلفی
شرافت ذلالت عداوت کی سیلفی
بنا سیلفی کے عبادات کیسی
پرستش اطاعت عبادت کی سیلفی
کسی کو اگر دے رہے ہیں دو کیلے
تو لیتے ہیں اپنی سخاوت کی سیلفی
عیادت کو جائیں عزیزوں کی اپنے
تو کھینچیں گے فوراُ عیادت کی سیلفی
ملاقات پیروں سے ہو جائے اپنے
ضروری ہے ایسی سعادت کی سیلفی
کبھی اپنے نیتا کے ہمراہ بھی لیں
محبت اخوت حمایت کی سیلفی
پلوں راستوں اور سڑکوں کی سیلفی
مکانوں دکانوں عمارت کی سیلفی
جو ہو جائیں بھرتی کسی ہوسپٹل میں
تو بھیجیں گے سب کو علالت کی سیلفی
سب اعمال تیرے اکارت کرے ہے
نئے دور کی ایک آفت ہے سیلفی
بنا سیلفی کے کہاں زندگی ہے
کہ اکمل سبھی کی یہ عادت ہے سیلفی

मंगलवार, 29 अक्टूबर 2019

سیلفی کا انٹرویو

سیلفی ـ آداب جناب
اکمل ـ آداب محترمہ
اکمل ـ آپ کے مزاج کیسے ہیں  ؟
سیلفی ـ ہمارے مزاج تو بہتر ہیں مگر ہماری وجہ سے آپ لوگوں کے حالات ذرا خراب سے ہیں   ؟   مسکرا کر
اکمل ـ بات تو درست ہے ـ یہ آپ ہی کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے ـ
سیلفی ـ بجا فرمایا
اکمل ـ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ آپ کی جائے پیدائش اور سن پیدائش کیا ہے ـ
سیلفی ـ محترم میری جائے پیدائش کے ابتدائی نقوش تو جاپان میں ملتے ہیں ـ 1990 میں ڈجٹل کیمرے کی ایجاد کے بعد جاپان کے کوائی کلچر نے اسے فروغ دیا ـ اس کلچر کے تحت ابتدا  میں جاپان کی اسکول میں پڑھنے والی لڑکیاں اپنی سیلفی لیا کرتی تھیں اور یہ عمل بہت مقبول بھی ہو گیا تھا یہی وجہ تھی کہ کوڈک کمپنی نے اپنے کیمرے میں آگے کی جانب یعنی فرنٹ کیمرا بھی پیش کیا تھاـ ایک کمپنی نے اس دور میں سیلفی اسٹک بھی بازار میں پیش کی تھی جسے ایک واہیات پروڈکٹ بتا کر عوام نے مسترد کر دیا تھا ـ اور وہی سیلفی اسٹک آج آپ ہر نوجوان کے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں ـ دور جدید میں موبائل کی ایجاد اور موبائل میں کیمرے کی موجودگی نے مجھے نئی زندگی دی ہے اور مجھے  جلا بخشی ہے ـ
اکمل ـ یعنی پہلی سیلفی جاپان میں لی گئی  ؟
سیلفی ـ نہیں، پہلی سیلفی، ایک امریکی فوٹوگرافر رابرٹ کارنیلئس نے 1839 میں بڑی مشقت سے لی تھی ـ
اکمل ـ  یہ لفظ سیلفی کے معنی کیا ہیں ـ
سیلفی ـ لفظ سیلفی کے معنی ہیں کسی شخص کی اپنی ایسی تصویر جو اس نے خود اتاری ہو ـ اسے خود پیکر بھی کہا جا سکتا ہے ـ
اکمل ـ موجودہ دور میں آپ کی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ کیا ہے ؟
سیلفی ـ دیکھئے خودنمائی کا شوق اور جستجو حضرت آدم کا جینیاتی خاصہ رہا ہے لیکن دور جدید میں ایسے کیمروں کی آمد کہ جن سے خود اپنی تصویر اتارنا ممکن اور آسان ہو گیا ہے، اس کی بنیادی وجہ ہے ـ دور جدید میں موبائل کیمروں نے سیلفی کو ہر عام و خاص کے لئے نہایت سہل اور ڈجٹل ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول کر دیا ہے ـ
اکمل ـ ڈجٹل کیمرہ ہونے سے کیا فرق آیا ہے ؟
سیلفی ـ قدیم کیمرے میں فلم رول ہوتا تھا لہٰذا تصویر اتارنے کے بعد آپ کو اسے لیب میں ڈیولپ کرانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے آپ محدود تعداد میں تصاویر اتار پاتے تھے، انہیں فوراَ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے اور قیمت کے اعتبار سے بھی تصاویر مہنگی ہوتی تھیں ـ ڈجٹل کیمرے نے یہ سب معاملات ہی الٹ دئے ہیں ـ اب آپ لاتعداد تصاویر مفت میں اتار سکتے ہیں، فوراَ دیکھ سکتے ہیں، ان میں ترمیم کر سکتے ہیں، اور انہیں ڈلیٹ بھی کر سکتے ہیں ـ
اکمل ـ آپ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ دور جدید میں انٹرنیٹ کی سہولت اور سوشل میڈیا کی مقبولیت بھی ہے ؟
سیلفی ـ بے شک ـ درست کہا آپ نے ـ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے سیلفی کی جانب رغبت میں بے حد اضافہ کیا ہے ـ ہر شخص پل پل کی تصاویر خصوصاَ سیلفی کو سوشل میڈیا پر  اپ لوڈ کرنا چاہتا ہے اور کر رہا ہے ـ فیس بک وغیرہ پر لائکس حاصل کرنے کا جنون اس عمل کے پیچھے خصوصی طور پر کارفرما ہے ـ
اکمل ـ یہ لائکس کا کیا معاملہ ہے ؟
سیلفی ـ دیکھئے یہ ایک نفسیاتی عمل ہے ـ اپنی تعریف سننا انسانی مزاج کا حصہ ہے ـ ہر شخص اپنی تعریف سننا چاہتا ہےـ اس کے ذریعہ انسان کو زندگی میں مزید کام کرنے کی ترغیب و تحریک حاصل ہوتی ہے ـ تعریف چاہے وہ تقریری ہوں یا تحریری یا دیگر کسی ذریعہ سے حاصل شدہ، سبھی کا انسانی ذہن و دل پر بڑا مثبت اثر ہوتا ہے ـ آپ کسی شخص کی، اس کے کسی کام کے لئے  تعریف کیجئے آپ دیکھیں گے کہ وہ اس کام کو دگنے جوش کے ساتھ دوبارہ انجام دینے کی کوشش کرے گاـ یہی فیس بک لائک کے پیچھے کی کہانی بھی ہے ـ آپ کی ایک تصویر پسند کی جاتی ہے تو آپ دوسری تصویر اس امید کے ساتھ شیئر کرتے ہیں کہ یہ بھی مساوی طور پر یا اس سے زیادہ لائک/پسند کی جائے گی ـ
اکمل ـ سائنسی تحقیق اس بارے میں کیا کہتی ہے  ؟
سیلفی ـ سائنس کے مطابق جب کسی شخص کی تعریف کی جاتی ہے تو اس شخص کے دماغ میں ڈوپامائن نام کا ایک کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے جو اس شخص کو ایک قسم کی مسرت اور فرحت کا احساس کرواتا ہےـ اسی مسرت و فرحت کے حصول کے لئے انسان بار بار اس عمل کو دوہراتا ہے جس سے اسے تعریف یا لائکس حاصل ہوتے ہیں ـ
اکمل ـ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان سیلفی ہی نہیں دیگر بہت سے کام بھی داد و تحسین کے حصول کے لئے کرتا ہے ؟
سیلفی ـ بے شک  ! انسان داد و تحسین کے حصول کے لئے بہت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس سے اسے مسرت حاصل ہوتی ہے ـ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں تمام کام فرحت و مسرت کے حصول کے لئے ہی کرتا ہے ـ چاہے وہ کھانا کھانا ہو، شادی کرنا ہو، کتابیں پڑھنا یا سنیما دیکھنا ہو، کسی فنون لطیفہ میں طبع آزمائی کرنا ہو یا زہد تقوے کو ہی کیوں نہ اختیار کرنا ہو ـ سبھی کی اصل فرحت و مسرت ہی ہے ـ
اکمل ـ موجودہ دور میں آپ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن اس کے بہت سے منفی اثرات بھی نظر آ رہے ہیں  ؟
سیلفی.ـ بجا فرمایا آپ نے ـ دراصل یہ بھی انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ ہر نئی آنے والی چیز کی پہلے مخالفت کرتا ہے پھر اسی کو اتنی شدت سے اپناتا ہے کہ عروج پر پہنچا دیتا ہے ـ سیلفی بھی ان میں سے ایک ہے ـ ابھی انسانوں نے مجھے بڑی شدت سے اپنایا ہوا ہے اور میری دیوانگی ان پر تاری ہے ـ ابھی میں ان کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہوں اور ان کے لئے باعث مسرت و شہرت بنی ہوئی ہوں ـ رہی بات منفی اثرات کی تو جب بھی کسی کام میں شدت اختیار کی جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات بھی ظاہر ہونا لازمی ہوتے ہیں ـ یہی بات میرے ساتھ بھی ہے ـ
اکمل ـ آپ نے ابھی شدت کا ذکر کیا تھا ـ سیلفی کے ساتھ کس طرح کی شدت اختیار کی گئی ہے؟
سیلفی ـ دیکھئے کس طرح سے نوجوان، سیلفی کے لئے خطرناک مقامات پر جا رہے ہیں اور جان گنوا رہے ہیں ـ اونچی بلڈنگوں، فصیلوں، چلتی ہوئی بسوں، ٹرینوں پر چڑھ کر سیلفی لیتے ہیں اور مختلف قسم کے پرخطر کرتبوں کو کرتے ہوئے سیلفی لیتے ہیں اور جان گنواں بیٹھتے ہیں ـ اس طرح کی متعدد خبریں اخبارات میں اور ٹیوی وغیرہ پر آئے دن آتی رہتی ہیں ـ
اکمل ـ لیکن سیلفی کی دیوانگی نے انسان کے جذبہ احساس اور جذبہ ایثار کو بھی متاثر کیا ہے ـ اس کو آپ کس طرح سے دیکھتی ہیں ـ
سیلفی ـ نہیں میں ایسا نہیں مانتی ہوں ـ
اکمل ـ کیوں  ؟  کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آجکل، کس طرح ہنگامی حالات میں لوگ،  مشکل سے دوچار ہونے والے حضرات کی امداد کرنے کے بجائے سیلفی لینے میں مشغول ہو جاتے ہیں ـ
سیلفی ـ درست ہے ـ لیکن دراصل اس میں میرا کیا قصور ہے ؟  یہ تو ان کی فطرت کا مظاہرہ ہے جو وہ کر رہے ہیں ـ بلکہ آپ کو تو میرا (سیلفی کا) شکرگزار ہونا چاہئے کہ میں انسانوں کی مخفی فطرت کو ظاہر کر دیتی ہوں ـ میری وجہ سے انسانوں کے جذبہ ایثار میں کمی نہیں آئی ہے بلکہ میری وجہ سے انسانوں کا اصل کردار منظر عام پر آ گیا ہے ـ
اکمل ـ لیکن یہ افسوسناک معاملہ ہےـ اب تو لوگ میت کے ساتھ بھی سیلفی لینے سے نہیں ہچکچاتے ہیں!
فکر آخرت کے لئے کرتا ہوں، ٹیگ سبھی دوست
جنازہ جب بھی کوئی اٹھاؤں، سیلفی لیتا ہوں

سیلفی ـ جی بالکل  !  آپ دیکھئے کہ خودنمائی کا مادہ انسانوں میں کس حد تک کارفرما ہے ـ(مسکراکر)
اکمل ـ کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگ آجکل اپنی شکلوں کو پی بھی رہے ہیں  ؟
سیلفی ـ میں کچھ سمجھی نہیں !
اکمل ـ کچھ ایشیائی ممالک میں ایسے کافی شاپس ہیں جہاں آپ کو کافی کے اوپر آپ کی سیلفی بنا کر پیش کی جاتی ہے ـ
سیلفی ـ کیا یہ کافی پینے لائق ہوتی ہے  ؟
اکمل ـ جی بالکل نارمل کافی کی طرح اسے پیا جاتا ہے ـ
سیلفی ـ تعجب خیز   !
اکمل ـ اب تو مذہبی کاموں کی بھی سیلفیاں لی جانے لگی ہیں  ؟
سیلفی ـ جی ہاں جناب،  لوگ حج کے لئے جب مکہ مدینہ پہنچتے ہیں تو ہر لمحہ کی سیلفی اتارنے کی کوشش کرتے ہیں گویا حج کرنے کے بجائے فوٹو شوٹ کے لئے آئے ہوئے ہیں ـ
سیلفی ـ یہ افسوسناک ہے ـ
اکمل ـ طبی ماہرین اس شدت کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
سیلفی ـ حال ہی میں برطانیہ میں ہوئی رسرچ کی بنیاد پر سیلفی لینے کو ایک بیماری تسلیم کر لیا گیا ہے ـ اس کی تین اقسام بیان کی گئیں ہیں جن میں پہلی قسم بارڈر لائن ہے اس کے تحت وہ لوگ آتے ہیں جو دن میں دو سیلفیاں لیتے ہیں، دو سے چھ تک سیلفی لینے والوں کو ایکیوٹ اور اس سے زائد سیلفی لینے والوں کو کرونک کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے ـ
اکمل ـ اس بیماری کا حل کیا ہے  ؟
سیلفی ـ یہ تو اب آپ لوگ ہی دریافت کریں گے کہ اس بیماری کا علاج کس طرح سے کیا جائے گاـ
اکمل ـ مستقبل کے بارے میں کچھ اندازہ  ؟
سیلفی ـ مجھے لگتا ہے ابھی اس شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے والی کیونکہ موبائلوں میں بڑھتی ہوئی کیمروں کی تعداد اور ان کی کوالٹی میں ہونے والا اضافہ، سوشل میڈیا کا بڑھتا خمار اور انٹرنیٹ کی تیز ہوتی رفتار، سیلفی کی خماری میں اضافہ ہی کریں گی ـ آپ مان کر چلیں کہ آنے والے دس بیس سال میرا خمار برقرار رہے گا ـ  ممکن ہے تب تک کوئی دوسرا جنون آپ انسانوں کے لئے تیار ہو جائےـ
اکمل ـ وقت نکالنے اور ہم سے بات کرنے کے لئے بہت شکریہ ـ کیا ہمارے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی  ؟
سیلفی ـ آپ نے مجھے مدعو کیا میں اس کے لئے آپ کی شکرگزار ہوں ـ میرا پیغام یہی ہے کہ مجھے آپ لوگوں کا ساتھ اچھا لگتا ہے لیکن حد سے تجاوز کرنا ٹھیک نہیں ہے ـ میری وجہ سے جب آپ کو چوٹ پہنچتی ہے یا کسی جان پر بن آتی ہے تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے ـ آپ سیلفی لیجئے لیکن محتاط رہئے اور اسے لت مت بنائیے ـ نیک خواہشات اور تمنائوں کے ساتھ آپ کی پیاری سیلفی
اکمل نعیم صدیقی



गुरुवार, 17 अक्टूबर 2019

थैंक यू ! अंकल


थैंक यू ! अंकल
            रावण दहन में अभी काफी वक्त बाक़ी था । दशहरा मैदान में दाख़िल होने के लिए एक बहुत लम्बी लाईन थी । दशहरा मैदान का गेट वैसे तो बहुत बड़ा था मगर एहतियात के लिए बल्लियां लगाकर इतना छोटा कर दिया गया था की एक वक़्त में एक ही व्यक्ति अंदर जा सकता था । इसके साथ ही गेट पर एक चौकीदार भी तैनात था जो लाईन में लगे लोगों में से जिस का नंबर आ जाता था उससे टिकट लेता था और टिकट को थोड़ा सा फाड़कर वापिस लौटा देता और उस टिकटधारी आदमी को अंदर जाने की इजाज़त दे देता ।
            विजय सिंह भी अपनी १० साल की बच्ची के साथ लाईन में लगे हुए थे । वो हर साल अपनी लाडली बेटी को रावण दहन दिखाने के लिए लाया करते थे । आज भी वो इसीलिए आये थे मगर आज एक बात अलग थी । हमेशा वो अपनी बिटिया के साथ मैदान के बाहर से ही भीड़ में खड़े होकर रावण दहन देखा करते थे परन्तु आज वो मैदान के अन्दर जाकर क़रीब से इस नज़ारे को अपनी बेटी को दिखाना चाहते थे । ऐसा बिलकुल नहीं था कि उनको इस बार रावण में या रावण दहन में कोई ख़ास दिलचस्पी पैदा हो गई थी । बल्कि ऐसा इसलिए था कि पिछली बार उनकी बेटी ने बड़ी मासूमियत के साथ उनसे ये आग्रह किया था कि पापा अगली बार मुझे मैदान के अंदर से रावण को जलते हुए देखना है क्योंकि बाहर से मुझे मज़ा नहीं आता है । और यहां से पूरा रावण भी नजर नहीं आता है । अंदर से बैठ कर देखने का मज़ा अलग ही होता है ।
            विजय सिंह ने बिटिया के आग्रह को सुनकर तुरंत वादा कर लिया कि अगली बार वो उसे मैदान के अंदर से, कुर्सी पर बैठाकर और नज़दीक से रावण दहन दिखाएंगे । यही वजह थी की वो अपनी बिटिया के साथ आज दो घंटे से इस लम्बी लाईन में खडे थे । ये लाईन दरअसल उन लोगों के लिए थी जिनके पास "एंट्री पास" था । विजय सिंह इस शहर में नये थे और बहुत ज़्यादा लोगों को नहीं जानते थे  इसलिए वो एंट्री पास का इंतेज़ाम नहीं कर सकते थे लिहाज़ा वो बिना एंट्री पास के ही भगवान का नाम लेकर बिटिया के साथ लाइन में लग गये थे ।
            दो घंटे की मशक्क़त के बाद उसका नंबर आया । जैसे ही वो गेट पर पहुंचे टिकट चैक करने वाले व्यक्ति ने कहा टिकट  निकालो टिकट ।
विजयसिंह ने बड़ी सादगी से कहा "सर हमारे पास टिकट नहीं है ।"
टिकट चैक करने वाले ने बड़ी बेरुख़ी से कहा "तो आगे से हट जाइए, पीछे वालों को आने दीजिये "
विजयसिंह ने मासूमियत से कहा "सर हमारी बात तो सुनिए....सर ..........
मगर उनकी बात मुकम्मल होने से पहले ही टिकट चैक करने वाले ने झुंझला कर उनका बाज़ू पकड़ कर उन्हें लाईन से निकालकर साइड में कर दिया ।
बिटिया ने सहम कर पापा का हाथ पकड़ लिया ।
विजयसिंह ने बेटी के चेहरे पर डर और निराशा के भाव देखे तो मन भर आया । मगर थे बहुत हिम्मती । टिकट चैकर के करीब जाकर खड़े हो गए और मौक़ा देखकर उससे कहने लगे "भाई मैं कोई बच्चा नहीं हूँ और मुझे रावण और उसके दहन में भी कोई दिलचस्पी नहीं है । मेरी बात समझो, मैं तो सिर्फ इस बिटिया के लिए यहाँ आया हूँ । ये रावण दहन क़रीब से देखना चाहती है ।"
टिकट चैक करने वाले व्यक्ति ने एक सरसरी नज़र विजयसिंह पर डाली और फिर भीड़ के साथ उलझ गया ।
"टिकट दिखाइये, टिकट" और टिकट लेकर फाड़ने और लोगों को अन्दर भेजने में व्यस्त हो गया ।
विजयसिंह बिटिया के साथ वहीं खड़े रहे और लोगों को अन्दर जाता हुआ देखने लगे ।
थोड़ी देर बाद टिकट चैकर के करीब पहुंचे और उसके कन्धों पर हाथ रखकर धीरे से कहने लगे "अरे यार ! तुम्हारा क्या जाएगा, हमें भी जाने दो यार"
"ये देखो ये हमारी बिटिया है ये अन्दर जाना चाहती है, करीब से देखना चाहती है । देखने दो तुम्हारा क्या नुकसान हो जाएगा ।"
टिकट चैकर ने चिरपरिचित अंदाज़ में एक व्यक्ति का टिकट फाड़ते हुए जवाब दिया "देखो सर ! बिना टिकट एंट्री नहीं है, टिकट ले आओ, मैं नहीं रोकूंगा लेकिन बग़ैर टिकट अन्दर नहीं जाने दूंगा ।" और फिर अपने काम में व्यस्त हो गया ।
विजयसिंह के चेहरे पर मायूसी के भाव झलकने लगे थे । बिटिया ने भीड़ की वजह से पिता का हाथ मज़बूती से थाम रखा था । उसकी कुछ समझ में  नहीं आ रहा था । उसने हिम्मत करके पापा से पूछ ही लिया "क्या हुआ पापा हम अन्दर कब जायेंगे ?"
"अभी चलेंगे बेटा" पापा ने धीरे से जवाब दिया ।
विजयसिंह ने एक बार फिर कोशिश की और टिकट चैकर से रिक्वेस्ट की कि उसे अन्दर जाने दे मगर उसका एक ही जवाब था "बग़ैर टिकट कोई अन्दर नहीं जाएगा । न ही मैं जाने दूँगा, ये मेरी ड्यूटी, आप टिकट ले आइये ।"
बिटिया ने देखा सब लोग अन्दर जा रहे हैं लेकिन मेरे पापा को अंकल अन्दर जाने नहीं दे रहे हैं । बहुत देर तक वहां खड़े रहने के कारण उसकी टांगों में दर्द भी शुरू हो गया था । अचानक उसने टिकट चैकर का हाथ पकड़ा और बड़ी मासूमियत से पूछा अंकल "आप सब को अन्दर जाने दे रहे हो मगर मेरे पापा को आपने रोक रखा है । अंकल मेरे पापा ने मुझसे वादा किया था कि इस बार वो मुझे अन्दर बैठाकर जलता हुआ रावण दिखाएँगे । अंकल अब हमें भी जाने दो न वरना रावण जलना शुरू हो जाएगा और हम देख नहीं पायेंगे, प्लीज अंकल ।"
टिकट चैक करने वाले ने मासूम सी बिटिया की तरफ देखा और कहने लगा "बेटा आपके पास टिकट नहीं है"
"तो क्या  हुआ अंकल, आप मेरे पापा को नहीं जानते, वो आपको बाद में टिकट लाकर दे देंगे ।"
"अभी तो हमें जाने दीजिये न प्लीज़" बिटिया ने बड़ी मासूमियत से कहा ।
टिकट चैकर ने मुस्कुराते हुए कहा "लेकिन बेटा बग़ैर टिकट तो कोई अन्दर नहीं जा सकता"
ये कहकर वो फिर अपने काम में व्यस्त हो गया ।
रावण दहन शुरू होने वाला था । बिटिया के चहरे पर मायूसी थी । वो लाचारी के साथ टिकट चैकर को देखा रही थी और खामोश खडी थी ।
थोड़ी देर के बाद टिकट चैकर की नज़र फिर विजयसिंह और उसकी बिटिया पर पड़ी जो अभी तक वहीं खड़े थे और उम्मीद भरी नज़रों से उसी की जानिब देखा रहे थे ।
टिकट चैकर ने बिटिया को इशारे से अपने क़रीब बुलाया । और फिर उसने अपनी जेब से दो टिकट निकालकर चुपके से उसकी मुटठी में थमा दिए और विजयसिंह से बोला "लाईन में आईये, लाईन में आईये "
विजयसिंह वहीं से लाईन में लगे और टिकट चैकर ने टिकट फाड़ कर उन्हें अन्दर प्रवेश दे दिया ।
बिटिया ने मुस्कुराते हुये अंकल की तरफ हाथ से बाय बाय का इशारा किया और तुतलाती ज़बान में कहा "थैंक्यू अंकल"
टिकट चैकर ने भी मुस्कुराते हुए जवाब दिया "यू आर वेलकम बेटा "
तीनों का चेहरा अजीब सी खुशी के अहसास से चमक रहा था 
      

نظم - کیمرہ
ستون مسجد پہ یہ لکھا تھا
کہ دیکھتا ہے وہ رب تمہارا
ہریک پل تم جو کر رہے ہو
خبر ہے اس کو سنو خدارا
اسی طرح سے مگر مسلسل
چرا رہے تھے وہ چور اکمل
چھتوں کے پنکھے وضو کے سب نل
جمع کے دن پھر نمازیوں کے
وہ جوتے چپل
پھر اک سیانے نے لکھ دیا یہ
ستون مسجد کی اس جبیں پر
جناب اعلی دھیان رکھنا
نظر میں ہیں آپ کیمرے کی......
یہ ایک جملہ بڑا غضب تھا !!!!
نہ چور کوئی وہاں پہ اب تھا

بلا عنوان
راجیش زندگی کی الجھنوں سے ذہنی طور پر اتنا پریشان اور مایوس ہو چکا تھا کہ اس نے ایک بڑا ہی اہم فیصلہ کیا. خودکشی کا فیصلہ! ایسے فیصلے عموماّ وہی لوگ لیتے ہیں جن کی زندگی میں دوستوں کی کمی ہوتی ہے.بہرحال اسی مقصد کے ساتھ وہ اپنے گائوں کے قریب سے گزرنے والی ایک سنسان ریل لائن پر پہونچ گیا. گاڑی کا وقت ہو چلا تھا. وہ کسی بھی وقت آسکتی تھی.وہ پٹریوں پر اس طرح لیٹ گیا کہ ایک پٹری پر اس کی گردن تھی اور دوسری پٹری پر اس کی ٹانگیں.اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی زندگی کے ان تمام تر تلخ لمحات کو یاد کرنے لگا جنہوں نے اسے بہت ازیت دی تھی اور اس کے اس فیصلے کی بنیاد تھے. ایک فلم سی اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی.آدھا گھنٹہ اسے اسی حالت میں گزرا مگر ٹرین نہ آئی. یہ ہندوستانی ٹرینیں بھی نہ کبھی وقت پر نہہں آتیں. ماضی کی ساری تلخ یادیں ختم ہو چکی تھیں مگرٹرین کا کوئی پتہ نہ تھا. اس نے پریشان ہو کر آنکھیں کھولیں تو دیکھا دس پندرہ لوگوں کی بھیڑ اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی تھی اور بڑے تجسس سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی.
ہندوستان کے لوگ بڑے سمجھ دار ہوتے ہیں اس لئے کسی نے یہ بے تکا سوال نہیں پوچھا کہ بھائی یہاں کیوں لیٹے ہو ؟ ظاہر ہے یہ بات سبھی جانتے تھے کہ ارادہ خودکشی ہے.
راجیش گھبرا کر، اٹھ کر بیٹھ گیا.تبھی ایک نوجوان نے اپنا موبائل نکالا اور راجیش کا فوٹو کھینچ کر فوراّ فیس بک پر پوسٹ کیا اور لکھا" ایک شخص ٹرین کی پٹریوں پر خودکشی کے لئے بیٹھا ہے. فوراّ اس کی مدد کیجئے اس سے پہلے کے ٹرین آ جائے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے.آپ کو آپ کے خدا کی قسم اسے اتنا شیئر کیجئے کہ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جائے."" پوسٹ وائرل ہونے لگی. سینکڑوں لائک آنے لگے.
ایک لڑکا اور آگے آیا اور راجیش کے قریب پہونچا اور اشاروں میں اس سے، اپنے ساتھ سیلفی لینے کی گزارش کی.راجیش کی حیرت اور گھبراہٹ ابھی ختم نہ ہوئی تھی، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا یا جواب دیتا، نوجوان نے جواب کا انتظار کئے بنا اپنا چہرا راجیش کے قریب کیا اور ایک سیلفی کلک کر لی. اس کے بعد وہ الگ ہٹ گیا اور راجیش کو بھول کر اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا. اس نے وہاٹس اپ کھولا اور اس تصویر کو اس ٹیگ کے ساتھ مختلف گروپوں میں بھیجنے لگا "" خود کشی کرنے والے شخص کے ساتھ آخری سیلفی ـ اگر مر کر دوبارہ پیدا ہوئے تو اگلے جنم میں ملاقات ہوگی."" میسیج بہت پسند کیا گیاـ گروپ کے ہر شخص نے اسے دلچسپی اور حیرت سے پڑھا اور پھر لائک کی خواہش میں آگے فارورڈ کر دیا. گروپ میً کچھ دانشور حضرات بھی تھے جنہیں ملک میں بڑھتی خود کشی کے واقعات پر بڑی تشویش اور فکر لاحق تھی چنانچہ انہوں نے اس پر بڑی سخت بحث شروع کر دی. سینکڑوں لوگ اس بحث کا حصہ بن گئے اور اپنے خیالات کا اظہار تابڑ توڑ اور بے دریغ انداز سے پیش کرنے لگے. سیلفی پوسٹ کرنے والا اس بہران کو دیکھ کر بڑا خوش تھا مانو اس نے ملک بھر میں ایک نئی تحریک کو جنم دیا ہو.
ہجوم میں کچھ بوڑھے لوگ بھی شامل ہو گئے جو بھیڑ دیکھ کر اس جانب آ گئے تھے جب انہوں نے سارا ماجرا دیکھا اور سمجھا تو اپنے اپنے حقے اور چلم سنبھال کر ایک جانب بیٹھ گئے اور خود کشی کے موقف پر تبصرہ کرنے لگے. بڑے دنوں بعد ان کے ہاتھ کوئی ایسا موضوع آیا تھا جس کے ذریعہ وہ وقت گزاری کر سکتے تھے.
راجیش کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ تو بس نظریں جھکائے بیٹھا تھا. اس کی کیفیت بڑی عجیب ہو گئی تھی اسے لگا وہ اکیلا نہیں ہے دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کی پرواہ کرتے ہیں.تبھی بھیڑ میں سے کسی نے زور سے اعلان کیا " ارے ہٹو، ٹرین آ رہی ہے" یہ آواز سنتے ہی ہجوم میں بھگدڑ سی مچ گئی اور ساری بھیڑ پٹریوں سے پیچھے کی طرف دوڑ پڑی. راجیش پھر پٹریوں پر تنہا تھا.
اکمل نعیم

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...