सोमवार, 16 अक्टूबर 2017

حمد
مستفعلن مفاعلن
ہر شے تیری حسین ہے ہر شے ہے باکمال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

بخشی ہیں تونے رات کو تاریکیاں
شدید
اور دن کو تو نے کر دیا روشن و پر جمال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

مردہ زمین تیری ہی قدرت سے جی اٹھے
تیری ہی قدرتوں سے ہیں یہ سارے ماہ سال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

یکتا ہے تو صفات میں تیرا نہیں شریک
لاثانی تیری ذات ہےتیری کہاں مثال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

سب حکم کائنات میں نافذ ہیں بس تیرے
حکموں سے اجتناب ہو کس کی ہے پھر مجال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال


تیرے ہی در پہ سر جھکےمعبود ہے تو ہی
مختار کل ہے جب تو ہی کس سے کروں سوال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

دنیا کی زندگی ہمیں گمراہ نہ کرے
کل آخرت میں ہوگا ہمیں کتنا پھر ملال
تو رب لا شریک ہے تو رب زوالجلال

دیوبند 15.10.17

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...