बुधवार, 13 जून 2018

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ایک پل بھی بنا جس کے گزارا نہ کبھی تھا
ہو کیسے یقیں دل کو ہمارا نہ کبھی تھا
ہم اس سے ہیں غافل جو صدا سے ہے ہمارا
اور اس پہ ہے تکیہ جو ہمارا نہ کبھی تھا
الزام اکیلے ہی میرے سر پہ لگا کیوں
مڑ کر مجھے تو نے بھی پکارا نہ کبھی تھا
حسنین سے سیکھا تھا ہنر پیاس کا ہم نے
دریائوں کا احسان گوارا نہ کبھی تھا
مسکان تھی چہرے پہ نگاہوں میں تھے آنسوں
نظروں کے مقابل یہ نظارہ نہ کبھی تھا
اک تیرا سہارا ہی فقط ہم کو ہے اکمل
پس تیرے سوا کوئی سہارا نہ کبھی تھا


कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...