مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ایک پل بھی بنا جس کے گزارا نہ کبھی تھا
ہو کیسے یقیں دل کو ہمارا نہ کبھی تھا
ہم اس سے ہیں غافل جو صدا سے ہے ہمارا
اور اس پہ ہے تکیہ جو ہمارا نہ کبھی تھا
الزام اکیلے ہی میرے سر پہ لگا کیوں
مڑ کر مجھے تو نے بھی پکارا نہ کبھی تھا
حسنین سے سیکھا تھا ہنر پیاس کا ہم نے
دریائوں کا احسان گوارا نہ کبھی تھا
مسکان تھی چہرے پہ نگاہوں میں تھے آنسوں
نظروں کے مقابل یہ نظارہ نہ کبھی تھا
اک تیرا سہارا ہی فقط ہم کو ہے اکمل
پس تیرے سوا کوئی سہارا نہ کبھی تھا
ہو کیسے یقیں دل کو ہمارا نہ کبھی تھا
ہم اس سے ہیں غافل جو صدا سے ہے ہمارا
اور اس پہ ہے تکیہ جو ہمارا نہ کبھی تھا
الزام اکیلے ہی میرے سر پہ لگا کیوں
مڑ کر مجھے تو نے بھی پکارا نہ کبھی تھا
حسنین سے سیکھا تھا ہنر پیاس کا ہم نے
دریائوں کا احسان گوارا نہ کبھی تھا
مسکان تھی چہرے پہ نگاہوں میں تھے آنسوں
نظروں کے مقابل یہ نظارہ نہ کبھی تھا
اک تیرا سہارا ہی فقط ہم کو ہے اکمل
پس تیرے سوا کوئی سہارا نہ کبھی تھا
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें