مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
میں اتنا بھی بے وقعت و بیکار نہیں ہوں
سرکار جو بانٹے وہ پرسکار نہیں ہوں
روغن ہے نہ باتی ہے نہ فانوس کوئی ہے
لڑنے کو ہوائوں سے میں تیار نہیں ہوں
گلشن میں گلوں کی ہوں میں تقدیر کا باعث
ہاں خار ہوں لیکن یہ کہ بیکار نہیں ہوں
نظروں کو جھکانے پہ جو مجبور بنا دے
میں ایسی کسی شہ کا طلب گار نہیں ہوں
ہر بار فقط جھوٹ کا پرچار کرے جو
میں دور ترقی کا وہ اخبار نہیں ہوں
ماں باپ کی شفقت کا ہے سر پر مرے سایہ
کیسے کوئی کہہ دے کہ میں زردار نہیں ہوں
پرواز میں ڈالے جو خلل آپ کی اکمل
میں ایسی روایت کا طرفدار نہیں ہوں
میں اتنا بھی بے وقعت و بیکار نہیں ہوں
سرکار جو بانٹے وہ پرسکار نہیں ہوں
روغن ہے نہ باتی ہے نہ فانوس کوئی ہے
لڑنے کو ہوائوں سے میں تیار نہیں ہوں
گلشن میں گلوں کی ہوں میں تقدیر کا باعث
ہاں خار ہوں لیکن یہ کہ بیکار نہیں ہوں
نظروں کو جھکانے پہ جو مجبور بنا دے
میں ایسی کسی شہ کا طلب گار نہیں ہوں
ہر بار فقط جھوٹ کا پرچار کرے جو
میں دور ترقی کا وہ اخبار نہیں ہوں
ماں باپ کی شفقت کا ہے سر پر مرے سایہ
کیسے کوئی کہہ دے کہ میں زردار نہیں ہوں
پرواز میں ڈالے جو خلل آپ کی اکمل
میں ایسی روایت کا طرفدار نہیں ہوں
تھانے کا میں ایس پی ہوں ہولدار نہیں ہوں
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें