बुधवार, 13 जून 2018

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ایک پل بھی بنا جس کے گزارا نہ کبھی تھا
ہو کیسے یقیں دل کو ہمارا نہ کبھی تھا
ہم اس سے ہیں غافل جو صدا سے ہے ہمارا
اور اس پہ ہے تکیہ جو ہمارا نہ کبھی تھا
الزام اکیلے ہی میرے سر پہ لگا کیوں
مڑ کر مجھے تو نے بھی پکارا نہ کبھی تھا
حسنین سے سیکھا تھا ہنر پیاس کا ہم نے
دریائوں کا احسان گوارا نہ کبھی تھا
مسکان تھی چہرے پہ نگاہوں میں تھے آنسوں
نظروں کے مقابل یہ نظارہ نہ کبھی تھا
اک تیرا سہارا ہی فقط ہم کو ہے اکمل
پس تیرے سوا کوئی سہارا نہ کبھی تھا


सोमवार, 11 जून 2018

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
میں اتنا بھی بے وقعت و بیکار نہیں ہوں
سرکار جو بانٹے وہ پرسکار نہیں ہوں
روغن ہے نہ باتی ہے نہ فانوس کوئی ہے
لڑنے کو ہوائوں سے میں تیار نہیں ہوں
گلشن میں گلوں کی ہوں میں تقدیر کا باعث
ہاں خار ہوں لیکن یہ کہ بیکار نہیں ہوں
نظروں کو جھکانے پہ جو مجبور بنا دے
میں ایسی کسی شہ کا طلب گار نہیں ہوں
ہر بار فقط جھوٹ کا پرچار کرے جو
میں دور ترقی کا وہ اخبار نہیں ہوں
ماں باپ کی شفقت کا ہے سر پر مرے سایہ
کیسے کوئی کہہ دے کہ میں زردار نہیں ہوں
پرواز میں ڈالے جو خلل آپ کی اکمل
میں ایسی روایت کا طرفدار نہیں ہوں
تھانے کا میں ایس پی ہوں ہولدار نہیں ہوں

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...