برقع کا انٹرویو
محتر م /محترمہ آداب ،
آداب
سوال : دراصل میں اس تذبذب میں ہوں کہ آپ کو محترم برقع خان کہہ کر مخاطب کروں یا محترمہ برقع بانو کہہ کر پکاروں ؟
جواب : محترم جناب ، سب سے پہلے انٹرویو کے لئے مدعو کرنے کا بہت بہت شکریہ ۔ محترم اگر قواعد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو میرا جنس مذکر ہی ہے کیونکہ آپ نے خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ ـ’’ میں نے برقع پہن لیا ہے یا اوڑھ لیا ہے‘‘ یہ ـ لفظ ’’لیا ہے‘‘ بتاتا ہے کہ میں مذکر ہوں نہ کہ مونث ۔
(مسکرا کر) لہٰذا آپ مجھے برقع خان کہہ سکتے ہیں بنسبت برقع بانو کے۔
سوال : یعنی یہ تو بڑی زبردست بات ہوئی خان صاحب کہ مونث خواتین کو مذکر حضرات کی نظر بد سے بچانے کے لئے مذکر برقعوں کو ہی ذمہ داری عطا کی گئی ہے ؟
جواب : جی ہاں بات تو بڑی مزیدار ہے ! (مسکراہٹ)
سوال : خیر یہ بتائیں کہ آپ کا یہ خوب صورت سا نام کس نے رکھا ؟ آپ کی تاریخ کیا ہے ؟
جواب : جناب دراصل میری پیدائش اور نام کے بارے میں تو مجھے بھی زیادہ علم نہیں ہے البتہ میری جائے پیدائش جزیرہ عرب کو ہی مانا جا سکتا ہے کیونکہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے اور قدیم زمانے میں عرب کی عورتیں مختلف قسم کے کپڑے، چادر اور ملبوسات کا استعمال پردے کے طور پر کیا کرتی تھیں۔ لغوی اعتبار سے برقع اس جھلی کو بھی کہتے ہیں جس میں بچہ ماں کے رحم میں حفاظت کے ساتھ اپنی نشونما کی مناز ل کو طے کرتا ہے۔ جدید دور میں برقع اس لباس کو کہتے ہیں جسے خصوصاً مسلم عورتیں اپنے جسم کو چھپانے کے لئے زیب تن کرتی ہیں۔
سوال : تو یہ مانا جائے کہ پردے کا آغاز بھی جزیرہ عرب میں اسلام کے آغاز کے ساتھ ہوتا ہے ؟
جواب : بالکل نہیں جناب ، جیسا میں نے پہلے عرض کیا کہ اسلام کی آمد سے قبل بھی عرب کی خواتین پردے کا اہتمام کیا کرتی تھیں۔ پردے کا آغاز دراصل انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو گیا تھا ۔ آپ نے آدم علیہ السلام کا قصہ نہیں سنا کہ کس طرح شیطان نے ممنوع پھل کھلا کر ماں حوا کے پردے کو چاک کیا تھا جس کی وجہ سے خدا کا غضب نازل ہوا ۔ قدیم ترین تہذیبوں مثلاً اسیریا کی قدیم تہذیب (میسوپوٹامیا اور بیبی لونیا) میں بھی پردہ سماجی حیثیت کا علم بردار تھا حالانکہ اس دور میں صرف شاہی خاندان کی خواتین ہی پردہ کا اہتمام کر سکتی تھیں اور اپنے چہرے کو نقاب کے پیچھے چھپا کر رکھا کرتی تھیں۔ اسی طرح ہندوستان میں مختلف مذاہب میں بھی پردہ کو بڑی عظمت حاصل ہے ۔ عورتوں کا مردوں سے گھونگھٹ نکالنا ، سر وں کو دوپٹے یا چادر سے ڈھکنا ، عورتوں کا محفلوں میں الگ انتظام ہونا ، زنان خانے اور ڈھیوڑیوں کا نظام وغیرہ یہاں بڑی عام بات تھی۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ دراصل پردہ باحیا عورتوں کی فطرت میں ہمیشہ سے ہی شامل رہاہے پھر وہ چاہے کسی بھی خطہ ،ملک یا قوم سے تعلق کیوں نہ رکھتی ہوں۔
سوال : کیا برقع کا رنگ کالا ہونا ضروری ہے ؟
جواب : اس سوال کا جواب ہاں بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اس سوال کے جواب سے پہلے ہمیں برقع یا پردے کے مقصد کو جان لینا چاہئے۔ دراصل یہ برقع اس لئے پہنا جاتا ہے کہ راہ چلتے ہوئے کوئی بھی شخص اس لباس یعنی برقع کی وجہ سے آپ میں کوئی کشش نہ پائے اور اسے کوئی بھی ایسی مرغوب شے کے دیدار نہ ہوں جو اس کی جنسی خواہشات کو بیدار کرے۔ کالا رنگ دراصل ایک ایسا رنگ ہے جس میں کسی طرح کی کوئی کشش نہیں ہے اور پردے کے اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے عموماً کالے رنگ کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر اسی طرح کا کوئی دیگر رنگ بھی ہے تو اس رنگ کا برقع بھی بنایا جا سکتا ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بس پردے کا مقصد فوت نہیں ہونا چاہئے۔
سوال : برقع کا اصل کام کیا ہے ؟ یعنی آپ کو زیب تن کرنے کا مقصد کیا ہے ؟
جواب : محترم میرا اول ترین اور عین مقصد ہے کہ میں خواتین کی تمام تر زینت کو نامحرم اشخاص کی نگاہوں سے حفاظت بخشوں تاکہ دونوں فریقوں کو یعنی مرد اور عورت کو جنسی گناہ کے تمام تر امکانات سے دور کر دیا جائے۔ میں حقیقتاً امت مسلمہ کی حسین اور باحیا دوشیزائوں کے حسن ، ان کی زینت اور ان کی آرائش و زیبائش کی بد نگاہی سے حفاظت کرتا ہوں ۔ میں ان کی شرم و حیا کی ضمانت ہوں، دلیل ہوں۔ میرا کام یہ ہے کہ جب باحیا دختران ملت کسی سبب گھر کی دہلیز سے سے اپنے قدموں کو باہر نکالیں تو میں تمام تر بدنگاہوں کو رسوا اور مایوس کردوں ، میں ان تمام وجوہات کے درمیان دیوار بن کر حائل ہو جائوں جو کسی بھی شخص کو ان دختران ملت کی جانب کسی غلط نیت یا شہوانیت کی طرف رغبت دلائیں۔
سوال : لیکن جناب خواتین کی تمام تر سجاوٹ ، بنائو سنگار یعنی آرائش و زیبائش کامقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ مرد حضرات اسے دیکھیں اور اس کے حسن کی تعریف کریں۔
جواب : آپ نے بالکل درست فرمایا کہ عورت کی تمام تر آرائش و زیبائش کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ مرد اسے دیکھے اور اس کی تعریف کرے اور اس کی جانب راغب ہو کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن باحیا اور عزت دار عورتیں یہ عمل صرف اپنے شوہروں کی توجہ پانے کے لئے کرتی ہیں نہ کہ نامحرم اور انجان اشخاص کی توجہ حاصل کرنے یا انہیں رغبت دلانے کے لئے بلکہ ایسا عمل وہ خواتین اختیار کرتی ہیں جو بے حیا یا بازارو ہوا کرتی ہیں۔
سوال : توکیا عورتوں کو دو زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے ؟
جواب : یقیناً ،بلکہ اللہ کا فرمان ہے ۔ سورہ نور آیت نمبر 26 میں اللہ تعلی کا اعلان ہے کہ بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لئے ہیں اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لئے ہیں اسی طرح نیک عورتیں نیک مردوں کے لئے ہیں اور نیک مرد نیک عورتوں کے لئے ہیں۔
سوال : نقاب، حجاب ، چادر، چادری اور برقع میں کیا فرق ہے ؟
جواب : نقاب وہ کپڑا ہوتا ہے جس سے صرف چہرے کو ڈھکا جاتا ہے اور آنکھوں کو کھلا رہنے دیا جاتا ہے۔ حجاب وہ کپڑا ہے جس سے سر اور پیشانی کے کچھ حصے کو اس طرح ڈھکا جاتا ہے کہ سر کے تمام بال، کان اور نصف پیشانی کا پردہ ہو جائے۔ یوروپ کے ممالک میں اس کا رواج بہت زیادہ ہے اور اس کی مخالفت بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ مسلم خواتین کی شناخت بن چکا ہے ۔موجودہ دور میں ہندوستان میں دیگر مذاہب کو ماننے والی خواتین بھی اس طرح کے حجاب کا بہت زیادہ استعمال کر رہی ہیںجن میں خاص طور پر جوان لڑکیاں ہیں۔ چادر ، ایک سلے ہوئی یا بنا سلے ہوئے ایک لمبے اور موٹےکپڑے کو کہتے ہیں جسے خواتین اپنے چاروں طرف لپیٹ کر اپنے جسم کو مکمل طور پر چھپا لیتی ہیں اسی طرح چادری بھی ہوتی ہے جس کا چلن افغانستان میں بہت ہے اور اس میں چادر کے اوپر ایک ٹوپی لگی ہوتی ہے جسے سر پر رکھ لیا جاتا ہے ۔ اس ٹوپی میں لگی جالی سے خواتین باہر کا منظر دیکھ سکتی ہیں اور چادر سے ان کا مکمل جسم ڈھکا رہتا ہے۔ برقع ، ایشیا خصوصاً ہندوپاک میں بہت زیادہ مقبول ہے اور یہ مکمل طور پر سلا ہوا ایک چوغا یا لبادہ ہوتا ہے جس سے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا جاتا ہے اور چہرے کو چھپانے کے لئے نقاب لگالی جاتی ہے۔
سوال : یہ برقنی کیا ہے ؟
جواب : سمندر کے ساحلی علاقوں میں سمندر کے کنارے گھومنے یا پانی میں تیراکی کرنے کے لئے ایک لباس پہنا جاتا ہے جسے بکنی کہتے ہیں اسی بکنی اور برقع کو ملا کر مسلم خواتین کے لئے برقنی کو ایجاد کیا گیا ہے اس برقنی میں عورت کے جسم کی نمائش نہیں ہوتی ہے اور وہ سمندر کے کنارے گھومنے یا پانی میں تیرنے کے لئے ان کا استعمال کر سکتی ہے۔
سوال : کیا اسلام میں کسی مخصوص قسم کے برقع کے پہننے کا حکم دیا گیا ہے ؟ یعنی کیا آپ کی کوئی طے شدہ وضع قطع یا اسلامی ڈیزائن ہے ؟
جواب : (مسکراتے ہوئے) جناب اسلام جس کا نام ہے وہ دین برحق ہے ۔ اسلام کسی خاص قوم یا خاص خطہ کے لئے مخصوص نہیں ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہوا کرتا تھا کہ نبی کسی مخصوص علاقے یا قوم کے لئے مبعوث ہوا کرتے تھے بلکہ حضرت محمدـﷺ دین اسلام کے آخری پیغمبر ہیں اور یہ دین پوری دنیا کے لئے ہے نا کہ کسی مخصوص علاقہ، قوم یا ملک کے لئے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس میں بہت وسعت رکھی ہے۔اللہ نے عورتوں کو اپنی زینت کی حفاظت کا ھکم دیا ہے جیسا کہ سور ہ نورر کی آیت نمبر 4 میں مذکور ہے کہ ’’مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں پست رکھیں اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی حفاظت کریں اسے ظاہر نہ کریں ۔ سوائے اس زینت کے جو خود ظاہر ہو جائے ۔ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیں۔‘‘
مذکورہ بالا آیت میں اور احادیث نبوی میں کہیں بھی پردے کے اہتمام کے لئے کسی خاص قسم کے لباس یا برقع کا ذکر نہیں کیا گیاہے البتہ مقصد کو واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت اپنی زینت (جسم کے وہ حصہ جن کی دید سے مرد کے دل میں محبت اور شہوت کے جذبات کا غلبہ پیدا ہو)کی حفاظت کرے تاکہ معاشرے کا نظام درہم برہم نہ ہونے پائے اب اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اپنے علاقہ اور ماحول کی مناسبت اور سہولت کے لحاظ سے چادرکا استعمال کرے یا چادری کا یا پھر کسی قسم کے برقع کا یا مستقبل میں کسی نئے لباس کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔
سوال : لیکن اگر کوئی عورت ایسا برقع زیب تن کر کے بازاروں میں نکلے جو اس مقصد کو پورا نہ کرتا ہو تو ؟
جواب : جب مقصد ہی پورا نہ ہوا یعنی مقصد ہی فوت ہو گیا تو پھر اس برقع کے ہونے یا نہ ہونے یعنی اس کے زیب تن کرنے یانہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ نے شہرکے بازاروں میں بے ترتیب ڈھنگ سے برقع لٹکائے ، سینا تانے اور میک اپ سے پتے ہوئے کھلے چہروںوالی ،دکان داروں سے ہنس ہنس کر بتیاتی ہوئی بہت سی خواتین دیکھی ہوں گی۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو یا تو برقع کے مقصد سے نا آشنا ہیں یا پھر کسی مجبوری کی بنا پر کسی ڈر یا دکھاوے کے لئے برقع لٹکائے پھرتی ہیں اور برقع کی حرمت کو تار تار کرتی ہیں۔
سوال : کیا دور جدید میںبرقعوں کی وضع قطع میں کوئی تبدیلی آئی ہے ؟ دور جدید کے برقعوںکو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں ؟
جواب : محترم میں دور جدید کے برقعوں پر کیا تبصرہ کروں
’’میں تو شرمندہ ہوں اس دور کا برقع ہو کر‘‘ والا معاملہ ہے ۔دور جدید کا برقع ، برقع نہیں ہے دھوکا ہے، چھلاوہ ہے ، فریب ہے۔ یہ برقعے اندر پہنے گئے لباس سے زیادہ خوبرو اوردل فریب ہیں۔ یہ مردوں کو توجہ دلانے والے، اپنی طرف راغب کرنے والےاور ان میں خواہش پیدا کرنے والے ہیں۔ یہ اللہ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کا اعلان کرتے ہیں ، یہ سنت نبوی کا مذاق بناتے ہیں،یہ پردے کے حکم کی دھجیاں اڑاتے ہیںاور اس کے مقصد کا مکمل طور پرخون کر دیتے ہیں بلکہ جس شہوانیت کو دبانے کے لئے ان کا اہتمام کیا جاتا ہے یہ اس شہوانیت کو مزید تقویت بخشتے ہیں اسے نئی زندگی اورنئی حرارت عطا کرتے ہیں۔ یہ برقعے نہیں ہیں یہ فیشن کے لباس ہیں۔ درحقیقت یہ شیطان ملعون کی ایک دلفریب چال ہے جس کے دام میں امت مسلمہ کی زیادہ تر خواتین پھنس چکی ہیں۔ امت کے مردوں کا فرض ہے کہ امت کی عورتوں کو بیدار کیا جائے اور انہیں اس بے حیائی سے روکا جائے ورنہ کل قیامت کے دن ہم سے جواب دیتے نہ بنے گا۔
سوال : آپ کے مطابق دور جدید کے برقعے اپنے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہیں ۔ اس کی وضاحت کیجئے ؟
جواب : محترم جدید برقعوں پر ایک نگاہ ڈالئے آپ پائیں گے کہ جدید دور کے ان برقعوں میں خواتین اپنا میک اپ شدہ خوبرو چہرا کھلا رکھتی ہیں جو مسلسل گناہ کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتا ہے۔اگر چہرا حجاب یا نقاب سے ڈھک بھی لیا ہے تو حجاب یا نقاب اتنا شوخ اور خوبرو (موتیوں اور ستاروں سے سجا ہوا) ہوتا ہے اور اس کو لپیٹنے کا انداز اتنا دلکش ہوتا ہے کہ جس شخص کی نگاہ اس پر ایک مرتبہ پڑ جائے وہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتی ہے۔ اسی طرح آج کل برقعوں کے رنگ بڑے شوخ ہو گئے ہیں جن پر طرح طرح کے خوب صورت ڈیزائن راہگیروں کو اپنی طرف متوجہ ہونے کو مجبور کر دیتے ہیں۔ اور جدید دور کے برقعوں کے ڈیزائن دیکھئے اب یہ محض ایک جبہ یا لبادہ بھر نہیں ہے بلکہ یہ انارکلی لباس کی طرح بھی ملتا ہے ، یہ گھیر والی فروک کی طرح کابھی موجود ہے، کوٹ کی اسٹائل کا چاہئے تو حاضر ہے، چمگادڑ کے پروں کی طرح پھیلا ہوا بھی دستیاب ہے ، اور سب سے خطرناک یعنی ایک دم چست برقع بھی موجود ہے جس میں جسم کے تمام اعضا صاف نظر آتے ہیں اور جسم کی تمام تر زینت ابھر کر اس طرح نمودار ہو جاتی ہے کہ برقع کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
سوال : کیا پردے کا حکم صرف عورتوں کے لئے ہی ہے مردوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ؟
جواب : محترم اللہ تبارک و تعلیٰ نے جہاں عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے وہیں مردوں کو بھی اس ضمن میں پابند کیا ہے ۔ مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو، مردوں کو بھی اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ جان بوجھ کر کسی خاتون کی جانب دیکھنے کو گناہ میں شامل کیا گیا ہے، تنہائی میں نامحرم عورتوں سے ملاقات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ، عورتوں سے ہاتھ ملانا، ان کے جسم کو چھونا ، انہیں بے وجہ دیکھنا یہ سبھی چیزیں مردوں کے لئے حرام کی گئی ہیں ۔
سوال : عورتوں کا اس طرح کے برقعے پہن کر باہر نکلنا یقیناً بڑا مہلک ہے لیکن کیا اس کے لئے بھی گھر کے افراد اور ان خواتین کے کفیل ذمہ دار نہیں ہیں ؟
جواب : یقیناً برابر کے گناہ گار ہیں ۔ اکبر صاحب کا شعر شاید آپ نے نہیں سنا ۔
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
گھر کے مرد یعنی باپ، بھائی یا شوہر اگر چاہے تو اسفتنہ کو روکا جا سکتا ہے۔
سوال : آپ نے کہا کہ یہ شیطان کی خوب صورت چال ہے ۔ کیسے ؟
جواب : دیکھئے محترم انسان نہایت ہی کمزور ہے اور اس سے کسی قسم کی خطا یا گناہ سرزد ہو جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن گناہ کا تصور اور اس کا احساس دل میں ہونا ضروری ہے ۔ گناہ ہو جانے پر مومن کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے اور وہ مغفرت کی طلب کے لئے خدا کے حضور اپنی التجا بھی پیش کرتا ہے یہی احساس ایمان کی علامت ہے۔ لیکن گناہ کو گناہ نہ سمجھنا یا اس سے بھی بڑھ کر گناہ کو ثواب سمجھ کر کرنا ، یہ معاملہ بڑا خطرناک ہے کیونکہ انسان کے ذہن و دل میں یہ گمان ہی نہیں آتا کہوہ گناہ کر رہا ہے بلکہ وہ مطمئن ہوتا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا لہٰذا وہ نہ تو شرمندہ ہوتا ہے اور نہ خدا کے حضور مغفرت طلب کرتا ہے ۔ شیطان کی چال یہی ہے۔ شیطان انسانوں کو ان کے بداعمال بھی مزین کرکے یعنی اچھے بنا کر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان خام خیالی میں ہی مبتلا رہتا ہے کہ وہ کوئی نیک عمل کر رہا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے اور نامہ اعمال گناہوں سے بھر جاتا ہے دوسری جانب ایک ہی گناہ کو بار بار کرنے کی وجہ سے اللہ اس شخص کے قلب پر مہر بھی لگا دیتا ہے(ختم اللہ علی قلوبہم)۔ یہی معامل ہماری ماں ، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کا ہے کہ وہ اس طرح کے بے ہودہ برقعے پہن کر ثواب کی متمنی ہیں جبکہ وہ گناہ کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ ہمیں انہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال : امت کے مرد اور عورتوں کو کوئی پیغام ؟
جواب : اس انٹرویو کو پڑھیں اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خدارا سمجھیں اس سے پہلے کہ خدا کا عذاب ہم پر نازل ہو۔
محترم یہاں تشریف لانے اور اپنا قیمتی وقت دینے کے لئے بہت بہت شکریہ
شکریہ جناب اکمل نعیم صاحب
خدا حافظ