داڑھی کا انٹرویو
محترمہ آپ کا استقبال ہے ـ
داڑھی ـ شکریہ
سوال ـ دراصل آج کل نوجوانوں میں آپ کی بڑی دیوانگی دیکھنے کو مل رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب ـ دیکھئے مرد حضرات کو داڑھی ہمیشہ سے پسند رہی ہے اور اس کا فیشن بھی ہمیشہ سے رائج رہا ہے لیکن شاید انگریزوں کے آنے کے بعد میرا چلن کم ہوتا چلا گیا ـ اسی لئے نظیر نے کہا تھا.
داڑھی خدا کا نور ہے بیشک مگر جناب
قدرت کے انتظام صفائی کو کیاکہیں
سوال ـ داڑھی کو یوں تو سبھی مذاہب میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے مگر یہ بتائیں کہ ہندو مذہب میں داڑھی کو کیا اہمیت حاصل ہے؟
جواب ـ سبھی مذاہب کی طرح ہندو مذہب میں بھی داڑھی کی اہمیت ہے ـ اگر آپ قدیم ہندو سناتنی بزرگوں رشی منیوں کی تصاویر دیکھیں گے تو ان میں سے ایک بھی بغیر داڑھی کے نظر نہیں آئے گاـ
سوال ـ لیکن جدید اوتاروں کی تصاویر دیکھیں تو سبھی ایک دم کلین شیو ہیں؟ مثلاً شری رام اور شری کرشن وغیرہ؟
جواب ـ دیکھئے یہ سب انگریرزی کلچر کے زیر اثر بنائی گئیں تصاویر ہیں اور شری رام یا شری کرشن کے دور میں کیمرا تو تھا نہیں کہ ان کی تصاویر لی گئی ہوں گی اس لئے یہ سب خیالی تصاویر ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے.
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس دور میں آج کی طرح شیو بنانے کے لئے جدید تکنیک والے ریزر بھی موجود نہیں تھے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے شری رام اور شری کرشن وغیرہ کے گال ایک دم صاف شفاف اور چمک دار نظر آتے ہیں ـ
سوال ـ سکھ مذہب میں تو کیش رکھنا ضروری ہے یعنی فرض کے درجہ میں ہے؟
جواب ـ جی ہاں سکھ گرو نے داڑھی کو فرض قرار دیا مگر یہ بات داڑھی کی فرضیت سے ذرا آگے بڑھ کر کیش کی فرضیت تک چلی گئی ہے یعنی جسم کے کسی بھی حصہ کے بالوں کو صاف کرنے کی مناہی ہے.
سوال ـ لیکن جدید دور میں نئے لڑکے یعنی سکھ لڑکے بھی اس بات کی پابندی سے خود کو آزاد کر رہے ہیں ؟
جواب ـ جی ہاں، مگر حال میں جب داڑھی فیشن میں ہے تو شاید ان کو بھی کچھ تقویت حاصل ہوگی ـ
سوال ـ لیکن اسلام میں بھی داڑھی کااپنا مقام ہے اور اسے سنت کے درجہ میں رکھا گیا ہے شاید اسی لئے آج کل کے مسلم نوجوان داڑھی رکھ رہے ہیں ؟
جواب ـ کاش کہ مسلم نوجوان یہ داڑھی رسول عربی کی محبت اور اتباع میں رکھتے! آپ کو کیا لگتا ہے کہ مسلم نوجوان اچانک رسول عربی کو اپنا آئڈیل ماننے لگے ہہں ؟ نہیں جناب اس داڑھی کا تعلق رسول کی محبت یا اسلام کی حرمت سے بالکل نہیں ہے یہ تو فلم انذسٹری کے بھانڈ ایکٹرس کی اتباع ہے !
سوال ـ مسلم نوجوانوں کا یہ عمل کیا بتاتا ہے ؟
جواب ـ مسلم نوجوانوں کو جب کہا جاتا تھا کہ داڑھی سنت ہے اسے اپنائیے تو اس کے خلاف طرح طرح کی دلیلیں پیش کی جاتی تھیں مثلاً یہ فیشن کے خلاف ہے، اس کی وجہ سے لڑکوں کے رشتے نہیں ہوتے، یہ فرض نہیں ہے، یہ غیر فطری ہے، ایلرجی کا باعث ہے وغیرہ وغیرہ مگر جیسے ہی ناچنے گانے والے لوگوں نے داڑھی رکھی اس کی تمام برائیاں ختم ہو گئیں ـ اب یہ فیشن ہے، اب اس کے رکھنے سے رشتے نہیں ٹوٹتے، کھجلی یا ایلرجی بھی نہیں ہوتی ـ مسلم لڑکوں کا یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے آئڈیل رسول عربی نہیں ہیں بلکہ ناچنے گانے والے بھانڈ ہیں وہ جو کریں گے ہم اس کی اتباع کریں گے ـ
سوال ـ مگر داڑھی تو اب ہندو نوجوان بھی رکھ رہے ہیں اگر مسلم نوجوانوں نے رکھ لی تو کیا غلط کیا ؟
جواب ـ کچھ غلط نہیں کیا ! مگر رسول کی اتباع کی نیت سے رکھتے تو اجر پاتے ـ اب داڑھی رکھ کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہم کس کی اتباع کرتے ہیں ـ ان لوگوں کی جو جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں، جو معاشرے کو بے شرمی اور بے حیائی کی جانب راغب کرتے ہیں، جن کا مذہب صرف شہرت اور دولت ہے اور اسے پانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ـ افسوس یہی مسلم نوجوانوں کے آئڈیل ہیں !
سوال ـ ایک بات بتائیں چہرے پر داڑھی رکھنے سے آدمی کی عمر بھی تو زیادہ لگنے لگتی ہے ؟
جواب ـ یہ آپ سے کس نے کہا ؟ میں تو چہرے کا نور ہوں ـ میری وجہ سے انسان کی شخصیت میں چار چاند لگ جاتے ہیں ـ داڑھی والے ہر شخص کے ساتھ چاہے وہ جوان ہو یا عمردراز، لوگ عزت و حترام کے ساتھ پیش آتے ہیں، ان کے ساتھ تمیز اور تہذیب سے بات چیت کی جاتی ہے، انہیں سنجیدہ، سمجھدار اور بردبار سمجھا جاتا ہے ـ اگر کسی کو یہ پسند نہیں کہ اس کی عزت کی جائے تو بات دیگر ہے ـ رہی بات عمر زیادہ لگنے کی تو پھر اب نوجوان داڑھی کیوں رکھ رہے ہیں ؟
سوال ـ ایک دور تھا جب یہ بھی خبریں پڑھنے میں آتی تھیں کہ داڑھی کی وجہ سے لڑکیاں شادی کرنے سے انکار کر دیتی تھیں ؟
لیکن اب لڑکیوں کو بھی داڑھی پسند آ رہی ہے یہ تبدیلی کیوں ؟
جواب ـ دیکھئے جناب یہ جدید ڈجٹل دور ہے ـ اور اس دور میں آپ کے لاشعور کو کنٹرول کرکے آپ سے غیر شعوری طور پر وہ کام بھی کروائے جا رہے ہیں جو شعوری طور پر آپ شاید کبھی نہ کریں ـ مثلاَ شعوری طور پر یہ جانتے ہوئے کہ داڑھی نبیوں کی سنت ہے اور بار بار اس کی تنبیہ کرنے کے باوجود آپ داڑھی نہیں رکھتے ہیں مگر ڈجٹل میڈیا کے اثر سے آپ فوراَ داڑھی رکھ لیتے ہیں ـ اسی ڈجٹل میڈیا کے اثر کے تحت آپ اپنے بالوں کی ایسی کٹنگ کرواتے ہیں جیسی کٹنگ قدیم زمانے میں گدھوں کی کٹنگ کی جاتی تھی ـ آپ اسی اثر کے تحت 40 روپے لیٹر والا دنیا کا سب سے بہترین مشروب یعنی دودھ چھوڑکر 60 روپے لیٹر والی نقصان دہ کولڈ ڈرنک پیتے ہیں، اسی اثر کے تحت آپ داڑھی سے گریز کرتے تھے اب اسی اثر کے تحت آپ کو اور ان لڑکیوں کو جنہیں داڑھی پسند نہیں تھی اب داڑھی بہت مرغوب ہے ـ یہ تو کچھ معمولی سی مثالیں ہیں ـ اس میڈیا نےہماری زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے قدم جما لئے ہیں ـ ہمیں اس بارے میں محتاط ہونا پڑے گا. اور یہ میڈیا بازار کا غلام ہے اور بازار پر یہودیوں کی کمپنیوں کا قبضہ ہے ـ
سوال ـ پچھلے کچھ سالوں میں داڑھی والے مسلم نوجوانوں کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی خبریں بھی آتی رہی ہیں ـ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ اللہ کی حکمت عملی ہو کہ جس داڑھی کی بنیاد پر غیر مسلم لوگ مسلموں کو زدوکوب کر رہے تھے اللہ نے اسی داڑھی کو ان غیرمسلموں کے چہرے پر بھی رکھوا دیا ہے ؟
جواب ـ ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ کی کوئی حکمت ہو ؟ لیکن مسلم نوجوانوں کے لئے خصوصاَ غور کرنے کا وقت ہے کہ وہ کس کی اتباع کر رہے ہیں اور قوم کے بزرگوں، مصلحین قوم اور والدین کے لئے یہ ضروری ہےکہ اس جانب غور کریں کہ ہماری نئی نسل کس طرف جا رہی ہے ؟ اس کی تعلیم و تربیت کا صحیح انتظام کیا جائے ـ اسے دین کی راہ کا مسافر بنایا جائے اس کی صحیح رہنمائی کی جائے ـآپ نے درست کہا ـ آپ سے بات کرکے بہت اچھا لگا ـ انٹرویو دینے کے لئے
آپ کا بہت بہت شکریہ
اکمل نعیم