زبان نہیں تہذیب مر رہی ہے
وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے
ہندوستانی مسلمان ملک کی آزادی اور پارٹیشن کے بعد سے ہی مختلف مسائل سے دوچار رہے ہیں ۔ان میں سے کئی مسائل کا ہم نے بڑی دوراندیشی اور حکمت کے ساتھ حل نکالا اور کئی مسائل کی جانب سے آنکھیں بھی موندےرہے۔ ان مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ ہماری پہچان اور بقا کا مسئلہ ہے۔کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کی زبان اور اس کی تہذیب ہوتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان کی پہچان اس کی زبان ، زبان اردو سے ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ہندوستان کی بیٹی ہے مگر ملک کی دیگر اقوام نے اسے مسلمانوں کی زبان قرار دے کر پلّہ جھاڑ لیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں ہے بلکہ ایک تہذیب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بہت سی طاقتیں اس زبان کو جڑ سے ختم کر دینا چاہتی ہیں کیونکہ اردو زبان کی موت ہماری تہذیب کی موت کی ضمانت ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اردو زبان کی موت اور ملت کے نوجوانوں میں اسلامی اخلاقی قدروں کے فقدان پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ دوہری مار ہے۔ اردو زبان سے ناآشانائی نے جہاں ہماری پہچان کو ختم کر دیا ہے وہیں ملت کے نوجوانوں کو اسلامی تعلیمات سے بے بہرا کر دیا ہے۔ (کیونکہ یہ تعلیمات اردو زبان میں ہی ہیں۔) نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ حکومتیں خود اس کام میں اپنا تعاون پیش کر رہی ہیںاور اس کی تازہ مثال ہمارااپنا صوبہ راجستھان ، جہاں پچھلے سال سرکاری اسکولوں میں اردو کو ختم کر دیا گیا ہے۔سرکاری کتابوں سے چھانٹ چھانٹ کر اردو کے الفاظ ہٹائے جا رہے ہیں۔فروغ اردو کی سرکاری تنظیموں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمیں ضروری اقدام اٹھانے ہونگے۔کوٹہ کے قاضی جناب قاضی انوار صاحب کی سرپرستی میں تحریک اردو راجستھان نے اس ضمن پیش قدمی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس تنظیم میں صوبہ راجستھان کے تمام اردو اساتذہ شامل ہیں۔
اب ہمیں دو مورچوں پرکام کرنا ہوگا ایک سماجی مورچے پر اور دوسرا تعلیمی محکموں کے مورچوں پر۔ تعلیمی محکموں اور سرکاری مورچے پر تحریک کے کارکنان بڑی ہوش مندی اور حکمت سے اپنا کام کر رہے ہیں لیکن سماجی اور عوامی مورچے پر سماج اور عوام کو ہی آگے آنا ہوگا۔ اردو کی بقا کے لئے عوامی بیداری اور پیش قدمی نہایت ضروری ہے
۔ اب ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ۔
ہمارے بچےاور بچیاں جاہل نہیں رہیں گے۔ اس کے لئے بھلے ہی ایک وقت فاقہ کرنا پڑے توہم کریں گے مگر انہیں تعلیم یافتہ بنائیں گے۔
ہم اپنےتمام بچوںاور بچیوں کو اردو تعلیم یقینی طور پر دلوائیں گے۔ اگر اسکول میں اردو تعلیم کا انتظام نہیں ہے تو گھر پر اس کا انتظام کریں گے۔
اپنے گھروں میں اردو اخبارات اور میگزین ضرور جاری کروائیں گے۔
زبان اس کے بولنے اور برتنے سے زندہ رہتی ہے لہٰذا ہم اپنی روزمرّہ کی بات چیت میں زیادہ سے زیادہ اردو الفاظ کا استعمال کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی ۔۔ اپنی تقریبات کے کارڈ ، اپنے وزٹنگ کارڈ ، اپنی دوکانوں کے ہورڈنگ وغیرہ میں بھی اردو کا استعمال کریں ۔
سوشل میڈیا جیسے واٹس اپ اور فیس بک کے لئے بھی اردو کا استعمال کریں ۔ گھر میں اردو زبان کے ٹی وی چینل دیکھیں گے اور بچوں کوبھی
دکھائیں گے۔تاکہ وہ فحشیات اور عریانیت سے بچے رہیں اور تہذیب یافتہ بن سکیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں وہ تمام اقدامات اٹھانے ہونگے جو اس زبان کی بقا کے لئے ضروری ہیں ورنہ ’ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں‘۔
اکمل نعیم صدیقی
20ْ/08/2017