बुधवार, 27 सितंबर 2017

بے عنوان

فون کی گھنٹی پھر بجنے لگی۔ اس نے سرہانے رکھا اپنا موبائل اٹھایا ، نام دیکھا، اس کے بڑے بیٹے کا فون تھا۔ ادھر سے پریشان لہجے میں آواز آئی۔
’’ہیلو پاپا ، آپ کیسے ہیں  ؟  اب طبیعت کیسی ہے  ؟  ڈاکٹر نے کیا بتایا  ؟  دوا تو کھا رہے ہیں نا برابر  ؟  اور ہاں آپ بالکل پریشان مت ہونا ۔ بس اچھے سے اپنا علاج کرانا۔ میں اور پیسے ڈال رہا ہوں آپ کے اکائونٹ میں۔ اچھا اب رکھتا ہوں۔
وہ کل صبح ٹہلنے جاتے وقت ایک بائک سوار سے ٹکرا گیا تھا ۔ ٹانگ میں ہیئر لائن فریکچر ہو گیا تھا۔ بائک سوار بڑا خوش اخلاق تھا وہ ہی اسے اسپتال میں ایڈمٹ کروا کرگیا تھا۔اسپتال میں ایڈمٹ ہوئے اسے تیسرا دن ہے مگر ایک پل بھی ایسا نہیں گزرا کہ یہ فون خاموش رہا ہو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں ۔کتنے لوگ ہیں جو میری پرواہ کرتے ہیں۔ خاندان کا کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جس نے مجھے فون نہیں کیا ہوگا۔ سبھی مستقل میرے حال چال پوچھ رہے ہیں۔ اور میرے چاروں بیٹے ۔ انہوں نے بھی تو کتنی بار فون کیا۔ چاروں نے نے کتنے سارے پیسے میرے اکائونٹ میں ٹرانسفر کر دئے تاکہ میں اپنا علاج اچھے سے کرا سکوں۔ 
تبھی اس کے خیالوں کا سلسلہ توڑتے ہوئےنرس کی آواز گونجی  ’’بابا وہ آپ کو دوا کا پرچہ دیا تھا ۔ آپ نے ابھی تک دوائیں نہیں منگوائیں ہیں۔ آپ کی جانچ رپورٹ بھی ابھی تک نہیں آئی ہے   ؟
نرس نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔ بابا کی خاموشی نے نرس کو پریشان کر دیا ۔ اس نے الجھتے ہوئے لہجے میں کہا ۔ ’’بابا آپ کے ساتھ کون ہے  ؟  اسے بلائیے اور یہ دوائیں اور رپورٹ منگوائیے۔ جلدی، ڈاکٹر صاحب رائونڈ پر آتے ہونگے۔‘‘یہ کہہ کر وہ جواب کا انتظار کئے بنا اگلے مریض کے بیڈ کی جانب بڑھ گئی۔
چند منٹ پرانا احساس اچانک غائب ہو گیا۔ اس کی خاموش نظریں اپنے قریب کے بیڈ پر لیٹے بوڑھے مریض کو تک رہی تھیں۔ بوڑھے کے سرہانے اس کی بوڑھی بیوی بیٹھی اس کا سر اپنی انگلیوں سے سہلا رہی تھی۔ بوڑھے مریض نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور اس کے چہرے پر سکون و اطمینان کی چمک جھلک رہی تھی۔اس نے اپنی نظروں کو گھمایا اور چھت کو تکنے لگا۔ اس کی خاموش نظریں چھت کو تک رہی تھیں مگر ان میں نہ جانے کیوں آنسو چھلک آئے تھے۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اتنے سارے لوگوں کو اس کی پرواہ ہے پھر بھی وہ اسپتال میں اکیلا کیوں ہے  ؟
 

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...