शुक्रवार, 21 सितंबर 2018

سکوں بندگی میں سکوں ہے وضو میں
سکوں سجدے میں ہے سکوں ہے رکوع میں
کبھی پیٹھ پر وار کرتا نہیں ہے
سلیقہ بہت ہے ہمارے عدو میں
محبت کا پہلا وہ خط لکھ رہا ہے
پرندہ بھی اڑنے کی ہے جستجو میں
اگر ہم زباں تم کو مل جائے کوئی
عجب لطف آتا ہے پھر گفتگو میں
کھنچا لامحالا چلا جا رہا ہوں
یہ کیسی کشش ہے نئی رنگ و بو میں
جدائی کا اکمل الگ ہی مزہ ہے
میں بس جی رہا ہوں تیری آرزو میں 

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें

شاعر

  شاعر بے چارہ حب جاہ کامارا ہوتا ہے۔واہ  !   واہ  !   کے کلمات اس کے لئے ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کے لئے آکسیجن ...