سکوں بندگی میں سکوں ہے وضو میں
سکوں سجدے میں ہے سکوں ہے رکوع میں
کبھی پیٹھ پر وار کرتا نہیں ہے
سلیقہ بہت ہے ہمارے عدو میں
محبت کا پہلا وہ خط لکھ رہا ہے
پرندہ بھی اڑنے کی ہے جستجو میں
اگر ہم زباں تم کو مل جائے کوئی
عجب لطف آتا ہے پھر گفتگو میں
کھنچا لامحالا چلا جا رہا ہوں
یہ کیسی کشش ہے نئی رنگ و بو میں
جدائی کا اکمل الگ ہی مزہ ہے
میں بس جی رہا ہوں تیری آرزو میں
سکوں سجدے میں ہے سکوں ہے رکوع میں
کبھی پیٹھ پر وار کرتا نہیں ہے
سلیقہ بہت ہے ہمارے عدو میں
محبت کا پہلا وہ خط لکھ رہا ہے
پرندہ بھی اڑنے کی ہے جستجو میں
اگر ہم زباں تم کو مل جائے کوئی
عجب لطف آتا ہے پھر گفتگو میں
کھنچا لامحالا چلا جا رہا ہوں
یہ کیسی کشش ہے نئی رنگ و بو میں
جدائی کا اکمل الگ ہی مزہ ہے
میں بس جی رہا ہوں تیری آرزو میں
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें